میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۷ دسمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

محمد آصف

دہشت گردی عصرِ حاضر کا وہ اندوہناک المیہ ہے جس نے پوری دنیا کو عدمِ تحفظ، خوف اور بے یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ پاکستان بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے اس عفریت کا شکار رہا ہے ، جہاں ہزاروں بے گناہ شہری، فوجی، علما، اساتذہ اور بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ دہشت گردی نے نہ صرف انسانی جانوں کو نشانہ بنایا بلکہ ریاستی ڈھانچے ، معاشرتی ہم آہنگی اور قومی وقار کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کے کئی المناک واقعات درج ہیں، مگر16دسمبر 2014 کو پیش آنے والا سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی پوری قوم کے دل پر نقش ہے اور جس کی کسک کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور دراصل دہشت گردی کی اس بدترین شکل کی عکاسی کرتا ہے جس میں انسانیت، اخلاقیات اور مذہب کے تمام دعوے پامال کر دیے گئے ۔ اس روز چند سفاک دہشت گردوں نے ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا، جہاں معصوم بچے علم حاصل کرنے میں مصروف تھے ۔ یہ حملہ نہ کسی جنگ کا حصہ تھا اور نہ کسی محاذ کا، بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا جس کا مقصد پوری قوم کو خوف، مایوسی اور ذہنی شکست میں مبتلا کرنا تھا۔ دہشت گردوں نے اساتذہ اور طلبہ کو بے دریغ گولیوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 140 سے زائد افراد شہید ہوئے ، جن میں اکثریت ننھے بچوں کی تھی۔یہ سانحہ صرف چند خاندانوں کا غم نہیں تھا بلکہ پوری پاکستانی قوم اس دکھ میں برابر کی شریک
تھی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی، ہر دل سوگوار تھا اور ہر گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ وہ دن پاکستان کی تاریخ میں یومِ سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب کتابیں خون میں نہا گئیں اور بستے شہادت کی علامت بن گئے ۔ اس واقعے نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ دہشت گردی کسی مذہب، قوم یا نظریے سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ محض درندگی اور سفاکیت کا نام ہے ۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول نے دہشت گردی کے خلاف قومی شعور کو ایک نئی جہت دی۔ اس سے پہلے دہشت گردی کو اکثر کسی خاص خطے یا طبقے کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، مگر اس واقعے نے واضح کر دیا کہ یہ آگ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے
سکتی ہے ۔ معصوم بچوں کی شہادت نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور یہ احساس اجاگر کیا کہ اگر اب بھی متحد ہو کر فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل مزید تاریک ہو سکتا ہے ۔
اس سانحے کے بعد ریاستِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک واضح اور سخت موقف اختیار کیا۔ قومی ایکشن پلان اسی تناظر میں سامنے آیا، جس کا مقصد دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور انتہا پسند نظریات کا مکمل خاتمہ تھا۔ فوجی عدالتوں کا قیام، مدارس کی رجسٹریشن، نفرت انگیز تقاریر پر پابندی اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائیاں اسی پالیسی کا حصہ تھیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت اور حکمت عملی واضح ہو تو کامیابی ممکن ہے ۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول نے تعلیم کی اہمیت کو بھی ایک نئے زاویے سے اجاگر کیا۔ دہشت گردوں نے تعلیمی ادارے کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ علم، شعور اور آگاہی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد ہمیشہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو نشانہ بناتے ہیں، کیونکہ تعلیم انسان کو سوال کرنے ، سوچنے اور حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے ۔ اس سانحے کے بعد قوم میں یہ شعور مزید پختہ ہوا کہ دہشت گردی کا اصل توڑ بندوق نہیں بلکہ قلم، کتاب اور شعور ہے ۔
یہ واقعہ عالمی سطح پر بھی شدید ردِعمل کا باعث بنا۔ دنیا بھر نے اس حملے کی مذمت کی اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ عالمی میڈیا نے اس سانحے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی اجتماعی
کوششوں میں مضمر ہے ۔ پاکستان نے اس موقع پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والی قوم کو محض تنقید کا نہیں بلکہ تعاون کا مستحق سمجھا جانا چاہیے ۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول نے شہداء کے خاندانوں کو ایسا صدمہ دیا جس کا ازالہ کبھی ممکن نہیں۔ وہ والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے اسکول بھیجا تھا، شام کو ان کے لاشے وصول کرنے پر مجبور ہوئے ۔ یہ کرب الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان خاندانوں نے صبر، حوصلے اور وقار کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ ان شہداء کی قربانی نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا اور یہ احساس پیدا کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل ہمارے مستقبل کی جنگ ہے ۔
آج جب ہم 16 دسمبر کو یاد کرتے ہیں تو یہ دن محض غم کا نہیں بلکہ عہد کا دن بھی ہے ۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف صرف ریاست نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نفرت، تعصب، عدم برداشت اور انتہا پسندی جیسے رویوں کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ ہمیں اپنے تعلیمی نصاب، سماجی رویوں اور مذہبی بیانیے میں توازن، رواداری اور انسان دوستی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ آئندہ کوئی معصوم بچہ اس درندگی کا شکار نہ بنے ۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور پاکستانی تاریخ کا ایک دردناک مگر فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس نے ہمیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط کیا، ہمیں خوف زدہ نہیں بلکہ متحد کیا، اور ہمیں خاموش نہیں بلکہ بیدار کیا۔ ان معصوم شہداء کا خون ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم دہشت گردی،انتہا پسندی اور نفرت کے خلاف مستقل اور غیر متزلزل جدوجہد جاری رکھیں۔ یہی ان شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت اور پاکستان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں