میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
افغان حکومت تسلیم کرنے یانہ کرنے کیلئے پاکستان پرکوئی دبائو نہیں ،دفترخارجہ

افغان حکومت تسلیم کرنے یانہ کرنے کیلئے پاکستان پرکوئی دبائو نہیں ،دفترخارجہ

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۷ ستمبر ۲۰۲۱

شیئر کریں

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان پر افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی دباؤ نہیں،امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر حیرت اور مایوسی ہوئی، بھارت میں ایٹمی مواد کی غیر قانونی فروخت کے معاملے پر تشویش ہے۔صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے جائزہ کے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر حیرت اور مایوسی ہوئی ،پاکستان افغان تنازعہ کے سیاسی حل کا خواہاں ہے افغانستان کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان پر کوئی دباؤ نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کسی بھی دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے افغان عمل میں سہولت کاری کی ہے پاکستان ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے روس اور چین سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعلقات شراکت داری پر مبنی ہیں ترجمان نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر کوئی بات نہیں کر سکتا۔ انہوںنے کہاکہ عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت میں ایٹمی مواد کی غیر قانونی فروخت کا معاملہ خود بھارتی میڈیا نے اٹھایا ہے پاکستان کو اس معاملے پر شدید تشویش ہے اس معاملہ کو پاکستان متعلقہ فورمز پر اٹھائیگا۔ ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے پاکستان نے 12 ستمبر کو عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزیئر جاری کیا عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر پر سوچ بچار کرنا ہو گی۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے بھارت جعلی مقابلوں اور فالس فلیگ آپریشنز سے اپنی خفت مٹانے کی کوشش میں ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں