سندھ بلڈنگ ،محکمانہ سرپرستی میں غیرقانونی تعمیرات کا دھندا، مافیا کو تحفظ
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف تعمیراتی لاقانونیت کے سنگین الزامات
اللہ والا ٹاؤن میں رہائشی پلاٹ R743پر خلاف ورزیاں، شہریوں کی شکایتیں نظرانداز
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ نہ صرف غیرقانونی تعمیرات کو روکنے میں ناکام ہیں بلکہ خود مافیا کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ کورنگی کے علاقے میں گزشتہ کئی سالوں سے غیرقانونی تعمیرات کا بازار گرم ہے ،اور ذرائع کے مطابق ان دونوں افسران کی سرپرستی میں یہ کام ہو رہا ہے ۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی نے مل کر ایک ایسا نظام بنایا ہے جس میں غیرقانونی تعمیرات کرنے والے مافیا کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ عامر عباس نامی رہائشی کا کہنا ہے ، "ہم نے کئی بار انسپکٹر کاشف علی کو غیرقانونی تعمیرات کی اطلاع دی، لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ جب ہم ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے پاس گئے تو ان کے دفتر میں ہماری درخواستوں کو نظرانداز کیا گیا۔”حاصل معلومات کے مطابق ڈائریکٹر سمیع جلبانی نے اپنے ماتحت انسپکٹر کاشف علی کو مکمل تحفظ فراہم کر رکھا ہے ۔ دونوں افسران کے درمیان مبینہ طور پر ایسی ہم آہنگی ہے کہ کوئی بھی داخلی تحقیقات آگے نہیں بڑھتیں۔ ایک سابق محکمانہ افسر کا کہنا ہے ، "یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں ہے ۔ جب تک جلبانی صاحب جیسے اعلیٰ افسران کاشف جیسے فیلڈ افسران کو تحفظ دیں گے ، غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی کمائی کا ذریعہ ہیں۔”اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31Cکے رہائشی پلاٹ R743پر کمرشل پورشن یونٹ کی منصوبہ بند خلاف ورزی جاری ہے جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی انوار کا کہنا ہے کہ انسپکٹر کاشف علی کو اطلاع دی گئی تو انکا کہنا ہے کہ نقشہ منظور شدہ ہے ۔ ڈائریکٹر جلبانی کے دفتر گئے تو وہاں ملاقات کرنے والا کوئی نہیں۔”سول سوسائٹی کی رکن ثمینہ اقبال کا کہنا ہے ، "یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ تحفظ دینے والے خود تحفظ مانگنے والوں کے محافظ بن گئے ہیں۔ جلبانی اور کاشف کا کیس انتہائی واضح ہے ۔ اگر یہ دونوں افسران اپنے فرائض سے عاری ہیں، تو انہیں فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔ "ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ایسے افسران موجود ہیں جو مافیا کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس وقت تک کورنگی جیسے علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔


