اپوزیشن اتحاد کاعمران خان کی اسپتال منتقلی کیلئے احتجاج جاری
شیئر کریں
شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی
ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شامل ،کوئی پی ٹی آئی رہنما نہیں آیا، اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت
بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد کا احتجاج تیسرے روز میں داخل ہو گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت کی مصروف ترین شاہراہ دستور بھی مکمل بند ہے۔ تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی الشفا آئی اسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا۔ ترجمان پی ٹی آئی نے کہاکہ ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کا کوئی علاج شروع نہ کیا جائے۔ دوسری جانب عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل ،کوئی پی ٹی آئی رہنما نہیں آیا۔ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کرلیا جس کے بعد ڈکٹروں کی ٹیم واپس روانہ ہو گئی۔ذرائع کے مطابق سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان تقریباً ایک گھنٹہ تک طبی معائنہ کیا ۔ڈاکٹروں کی ٹیم میں ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف بھی شامل تھے، ڈاکٹرز آنکھوں کا معائنہ کرنے والے خصوصی آلات بھی ساتھ لائے تھے، ٹیم میں ٹیکنیشن بھی شامل تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ آج ہی مرتب کی جائے گی، ڈاکٹرز کی ٹیم اپنی رپورٹ مکمل کرکے حکومت کو دے گی۔ذرائع کا مزید کہا ہے کہ میڈیکل ٹیم پی ٹی آئی قیادت کا جیل میں ڈھائی گھنٹے تک انتظار کرتی رہی تاہم پی ٹی آئی کے کسی رہنما کے نہ پہنچنے پر میڈیکل ٹیم نے عمران خان کا معائنہ کیا۔اس سے قبل ذرائع کا بتانا تھا کہ ہولی فیملی ہسپتال کی ایمبولینس گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل کے اندر داخل ہوئی جس کے بعد اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم مختلف طبی آلات اور ادویات بھی ساتھ لائی ہے، طبی ٹیم کی رپورٹ جلد مرتب کیے جانے کا امکان ہے۔


