سندھ بلڈنگ ،بہادرآباد میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات تیز، افسران ملوث
شیئر کریں
افسران کی ملی بھگت سے بلاک 3، پلاٹ 30پر عوامی سلامتی کے برخلاف تعمیرات
معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ ، بلڈنگ انسپکٹر امتیاز شیخ پر سنگین الزامات
ضلع شرقی کے معتبر علاقے بہادر آباد شرف آباد میں قائم مقبول کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی بلاک 3 کے پلاٹ نمبر 30 پر غیرقانونی اور خطرناک کمرشل تعمیرات جاری ہیں، جس میں سندھ بلڈنگ کے دو افسران کی مبینہ ملی بھگت کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، مذکورہ پلاٹ پر منصوبہ بندی اور بلڈنگ قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر منظور شدہ منصوبے کے کمرشل تعمیرات کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف علاقے کے رہائشی ماحول کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ عوامی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ اور متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر امتیاز شیخ پر الزام ہے کہ وہ تعمیراتی بے قاعدگیوں پر نظرانداز کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور ممکنہ طور پر ساز باز کے تحت غیرقانونی کام کو جاری رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ ان کی کارروائی نہ صرف ادارے کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ شہر میں تعمیراتی انارکی اور مافیا کو فروغ دینے کے بھی مترادف ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا اس غیرقانونی تعمیر کے خلاف شکایات درج کروائیں، لیکن اتھارٹی کے افسران کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی،بلکہ تعمیراتی کام بے خوف و خطر جاری ہے ۔ یہ صورت حال صرف ایک پلاٹ تک محدود نہیں، بلکہ شہر بھر میں تعمیراتی قوانین کے نفاذ میں ایس بی سی اے افسران کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے رجحان کی عکاس ہے ، جس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔ اتھارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق،مذکورہ افسران کے خلاف تفتیش اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے ، کیونکہ ان کے اعمال سے نہ صرف ادارے کی ساکھ مجروح ہو رہی ہے بلکہ شہریوں کا اداروں پر سے اعتماد بھی متزلزل ہو رہا ہے ۔شہری حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ وزیر بلدیات اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے مذکورہ افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کریں، غیرقانونی تعمیرات کو روکا جائے ، اور کراچی میں تعمیراتی قوانین کے صحیح نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔ اتھارٹی کے ترجمان سے جب اس معاملے پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ”معاملہ نوٹس میں ہے ، اور متعلقہ محکمہ اس کی مکمل چھان بین کر رہا ہے ۔اگر کسی بھی افسر کی غلطی ثابت ہوتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی”۔


