سندھ بلڈنگ،گلبرگ ٹاؤن غیر قانونی تعمیرات کی لپیٹ میں آگیا
شیئر کریں
ڈائریکٹر سید ضیاء کی سرپرستی، بلاک 17سمیت رہائشی پلاٹس پرکمرشل مراکز
پلاٹ نمبر آر 203اور 1216پر بغیر منظوری تعمیرات کو انتظامیہ کی سرپرستی
کراچی کا گلبرگ ٹاؤن غیر قانونی تعمیرات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے ۔ متعدد رہائشی پلاٹس پر کمرشل پورشنز، بالائی منزلوں اور دکانوں کی تعمیرات دھڑلے سے جاری ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سید ضیاء پر مافیا کو مبینہ سرپرستی فراہم کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے ۔اطلاعات کے مطابق گلبرگ ٹاؤن بلاک 14، 16 اور 17 میں کئی رہائشی پلاٹوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ بلاک 17 میں متعدد پلاٹوں پر بغیر نقشے کے دکانوں اور فلیٹس کی تعمیر ہو رہی ہیں یہاں تک کہ بعض جگہوں پر شادی ہال اور گودام بھی کھڑے کر دیے گئے ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پلاٹ نمبر آر 203اور آر 1216پر کی جانے والی تعمیرات کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں کوئی ریکارڈ موجود نہ ہونے کے باوجود بھی جاری تعمیرات کو انتظامیہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔مکینوں کا کہنا ہے کہ دن رات جاری یہ تعمیرات علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہیں۔ سیوریج لائنیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہے اور ٹریفک مسائل میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ بھاری رشوت کے عوض ان تعمیرات کو تحفظ دیا جا رہا ہے اور اعلیٰ افسران سب کچھ جاننے کے باوجود کارروائی کرنے سے قاصر ہیں ۔اہلِ علاقہ نے واضح کیا ہے کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ مکینوں نے وزیرِ بلدیات سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاک 17 سمیت گلبرگ ٹاؤن کے تمام غیر قانونی تعمیرات فوری طور پر منہدم کی جائیں۔ملوث افسران بشمول ڈائریکٹر سید ضیاء کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں۔بلڈنگ مافیا کو کڑی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اقدامات روکے جا سکیں شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کارروائی نہ ہوئی تو گلبرگ ٹاؤن کا رہائشی ماحول مکمل طور پر تجارتی
مرکز میں بدل جائے گا، جہاں نہ سکون ملے گا اور نہ ہی بنیادی سہولیات میسر ہونگیں۔


