غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید
شیئر کریں
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں
بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی
رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اکتوبر کے اوائل سے اسرائیلی قبضے میں موجود فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جینیوا میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے صحافیوں کو بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زائد بچوں کو مارا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جنگ بندی کے دوران بھی تقریباً ہر روز ایک بچہ یا بچی جان سے جا رہی ہے۔ جینیوا میں یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق غزہ میں بچے خودکش ڈرون حملوں سمیت فضائی حملوں، ٹینکوں کی گولہ باری، براہِ راست فائرنگ اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے ہلاک کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جنگ بندی جو بمباری کی رفتار تو کم کرے مگر بچوں کو ملبے تلے دفن کرتی رہے، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کمزور جنگ بندی کے دوران بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 442 تک پہنچ چکی ہیں۔


