میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ماڈل کالونی میں ناجائز تعمیرات پر ذوالفقار بلیدی مامور

سندھ بلڈنگ ماڈل کالونی میں ناجائز تعمیرات پر ذوالفقار بلیدی مامور

ویب ڈیسک
پیر, ۱۴ جولائی ۲۰۲۵

شیئر کریں

ڈائریکٹر کورنگی سمیع جلبانی کی مکمل سرپرستی حاصل ، کمزور عمارتیں تعمیر کروانے کا سلسلہ جاری
شیٹ نمبر 3 پلاٹ نمبر 5/1 اور 5/2 کے پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات ، ملکی محصولات کو نقصان

سندھ بلڈنگ ڈائریکٹر کورنگی سمیع جلبانی کی مکمل سرپرستی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کا راج ماڈل کالونی میں برقرار کے رہائشی پلاٹوں پر کمزور عمارتیں تعمیر کروادیںماڈل کالونی شیٹ نمبر 3 پلاٹ 5/1 اور 5/2 مین روڈ کے مشترکہ پلاٹوں پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیر کی چھوٹ کمزور عمارتیں زمین بوس ہونے کے خدشات بڑھنے لگے ۔صوبائی حکومت کے زیر انتظام قائم ادارے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں المیہ یہ ہے کہ بلڈنگ افسران حرصِ زر میں مبتلا ہو کر ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ملکی محصولات کو بھاری نقصان پہنچا کر قیمتی انسانی جانوں کا سودا کرکے شہر بھر میں بغیر نقشے اور منظوری کے رہائشی پلاٹوں کمرشل تعمیرات کروانے میں آزاد ہیں جس پر تحقیقاتی اداروں نے دانستہ چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے جسکا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ضلع کورنگی ڈائریکٹر سمیع جلبانی کی مکمل سرپرستی میں شاہ فیصل ٹان ماڈل کالونی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کا راج برقرار ہے بغیر نقشے اور منظوری رہائشی پلاٹوں پر بلند عمارتوں کی تعمیرات کا سلسلہ تواتر سے شروع کروا رکھا ہے عدالتی احکامات کے بر خلاف تعمیرات کی حفاظت کا ذمہ ذوالفقار بلیدی نے اٹھا رکھا ہے جسکے اضافی پیسے طلب کیئے جاتے ہیں اسوقت بھی ماڈل کالونی شیٹ نمبر 3 مین روڈ کے پلاٹ نمبر 5/1 اور 5/2 دو مشترکہ پلاٹوں پر تجارتی مقاصد کے لئے تعمیرات کی مکمل چھوٹ دے دی گئی ہے جرآت سروے ٹیم کیناجائز تعمیرات پر موقف لینے کے لئے ڈائریکٹر سمیع جلبانی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہواجرآت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابقمارچ 2023 سے اپریل 2024 تک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی تعیناتی لیاری میں رہی جہاں حرص زر میں مبتلا رہ کر ہزاروں انسانی جانوں کا سودا کرکے موصوف نے کمزور بنیادوں پر درجنوں عمارتوں کی تعمیرات کی منظوری دی اور انہدام سے محفوظ رکھتے ہوئے تکمیل کے مراحل میں داخل کروایا گزشتہ دنوں لیاری حادثے میں زمین بوس ہونے والی عمارت کی تعمیر میں ملوث ہونے کے بھی شواہد موصول ہوئے ہیں اور تحقیقاتی رپورٹ میں نام شامل ہونے کے باوجود بھی ممکنہ گرفتاری سے محفوظ رکھنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں