حیدرآباد میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا 49کروڑ کا ٹینڈر
شیئر کریں
من پسند ٹھیکیدار کے لئے مختلف ٹھیکوں کو اکٹھا کر دیا گیا، سیپرا رولز کی خلاف ورزی
مختلف کاموں کو یکجا کرنے سے مقابلے کا رجحان ختم وزیراعلیٰ کو شکایت ارسال
حیدرآباد میں سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا 49 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری، من پسند ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دینے کے لئے مختلف ٹھیکوں کو اکٹھا کر دیا گیا، سیپرا رولز کی خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے ، وزیراعلیٰ سندھ کو تحریری شکایت ارسال کر دی گئی۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے ایگزیکٹو انجینئر ہائی وی ڈویژن حیدرآباد نے 14؍اپریل 2025کو مختلف سڑکوں کی بحالی کا ٹینڈر جاری کیا لیکن ٹینڈر میں مختلف سڑکوں کو دو پیکیجز کا نام دے کر اکٹھا کیا گیا، سیپرا رول 12کے تحت مختلف جگہوں کے کاموں کو یکجا کیا گیا تاکہ چھوٹے ٹھیکیدار ٹھیکے میں شامل نہ ہو سکے ، مختلف کاموں کو یکجا کرنے سے ٹھیکوں میں مقابلے کا رجحان ختم ہو جائے گا۔ جاری کئے گئے ٹینڈر میں پیکیج ایک میں سنگر چوک تلک چاڑی سے کوہ نور چوک وایا سینٹ میری اسکول لطیف آباد، نذیر حسین فلائی اوور سے مکی شاہ روڈ سے پرانی سبزی منڈی وایا خواجہ غریب نواز فلائی اوور تک سڑکوں کی بحالی کا 24کروڑ کا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے ، جبکہ پیکیج دو کے تحت پریس کلب سے ایس ایس پی آفیس وایا گل سینٹر، آٹو بھان روڈ پر وومین پولیس اسٹیشن سے بھٹائی اسپتال، پرانے نیشنل ہائی وے سے حیدرآباد بائے پاس وایا گوٹھ نور خان چانگ تک سڑکوں کی تعمیر و بحالی کا 25 کروڑ 60 لاکھ روپے کا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے ۔ سیپرا رول 12 کے تحت کوئی بھی ٹینڈر تقسیم یا یکجا نہیں کیا جا سکتا، کسی بھی خریداری یا ٹینڈر کو پیکیج نہیں بنایا جا سکتا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو لیٹر ارسال کر کے ٹھیکے میں سپرا رولز کی خلاف ورزی سے آگاہ کیا ہے اور قوائد کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ٹینڈر دوبارہ جاری کرنے کی درخواست کی ہے


