میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پی ڈی ایم سیاسی بحران کا شکار، مولانا فضل الرحمن اپوزیشن جماعتوں سے ناراض

پی ڈی ایم سیاسی بحران کا شکار، مولانا فضل الرحمن اپوزیشن جماعتوں سے ناراض

ویب ڈیسک
اتوار, ۱۴ مارچ ۲۰۲۱

شیئر کریں

(رپورٹ: شعیب مختار) لانگ مارچ سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی، ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے انتخابات میں مولانا عبد الغفور حیدری کی بد ترین شکست بے اعتمادی کا باعث بن گئی، مولانا فضل الرحمان ایک مرتبہ پھر اپو زیشن جماعتوں سے روٹھ گئے، سیاسی جماعتوں کو متحد رکھنے کے لیے پی ڈی ایم نے منگل کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ سربراہ پی ڈی ایم کو رام کرنے کی کوششیں تیز ہوگئیں، آصف زرداری کا نواز شریف سے رابطہ۔ ذرائع کے مطابق چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات کے بعد پی ڈی ایم سیاسی بحران کا شکار دکھائی دے رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے لیے نامزد امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری کی شکست بتائی جاتی ہے۔اس ضمن میں مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے، جنہیں منانے کے لیے پیپلز پارٹی کے با اثرحلقے متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف بھی کئی روز سے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو ملنے والی دھمکیوں پر خاموشی برتنے اور ایک بیانیے پر عملدر آمد نہ کرنے پرپی ڈی ایم جماعتوں باالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی سے سخت نالاں تھے، جبکہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنما بھی پیپلز پارٹی کی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے، جسے مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے نواز شریف سے رابطے کو یقینی بنایا گیا ہے اور انکے تمام تر تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔پیپلز پارٹی کی تجویز پر پی ڈی ایم کی جانب سے 15مارچ کو اسلام آ باد میں اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، جس میں تمام تر جماعتوں کو اعتماد میں لیا جا ئے گا۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کی شکست پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں مشاورت کا فقدان بتائی جاتی ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی متعدد جماعتوں اور مسلم لیگ ن کے متعدد سینیٹرز کو مولانا عبد الغفور حیدری کے نام پر سخت تحفظات تھے، جس کے بعد بھی انہیں ماضی میں ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کے عہدے پر خدمات انجام دینے کے باعث پی ڈی ایم سربراہ کی ہدایت پرزبر دستی ٹکٹ جاری کیا گیا تھا،تمام تر صورتحال پر قابو پانے کے لیے پاکستا ن پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے سیاسی رابطے بڑھا دیے ہیں، جس کے تحت گزشتہ روز ان کے پی ڈی ایم میں شامل متعدد سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے رابطے ہوئے ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کے مسترد شدہ7 ووٹوں سے متعلق بھی قانونی مشاورت مکمل کر لی گئی ہے، جس سے متعلق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمان اور جنرل سیکریٹری شاہد خاقان عباسی کو آ گاہ کر دیا گیا ہے، تاہم منگل کو ہونے والے پی ڈی ایم کے اجلاس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں