میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تاج محل لٹیروں کی نشانی ہے اسے ختم کرنا ہوگا، بی جے پی

تاج محل لٹیروں کی نشانی ہے اسے ختم کرنا ہوگا، بی جے پی

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۸ اکتوبر ۲۰۱۷

شیئر کریں

آگرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی سنگیت سوم کا کہنا ہے کہ تاج محل غداروں نے تعمیرکیا تھا ،یہ لٹیروں کی نشانی ہے اسے تاریخ سے ختم کرنا ہوگا۔دنیا کے ساتویں عجوبے اور عالمی سطح پر منفرد مقام رکھنے والے سیاحتی مقام تاج محل بھی اب بھارت کی سیاسی اور انتہاپسندی کی بھینٹ چڑھ گیا ہے۔ محبت کی نشانی کہلانے والے تاج محل کو سب سے پہلے بھارتی ریاست اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ تاج محل بھارتی تہذیب و ثقافت کا عکاس نہیں۔ وزیراعلیٰ کے اس بیان کے بعد ریاستی حکومت نے تاج محل کو محکمہ سیاحت کے کتابچے سے خارج کردیا تھا۔اب اترپردیش سے ہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سنگیت سوم نے بھی تاج محل کو غداروں کی تعمیر قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ تاج محل مغل لٹیروں کی نشانی اور بھارتی ثقافت پر بدنما داغ ہے۔ سنگیت سوم کا کہنا تھا کہ تاج محل کو سیاحتی کتابچے کے تاریخی مقامات کی فہرست سے نکالنے پر بہت سے حلقے حیران ہیں، لیکن شاید وہ سب اس کی تاریخ سے واقف نہیں ہیں، تاج محل کی تعمیر کرنے والے شخص نے اپنے باپ کو جیل میں قید کردیا تھا اور ہندؤں کا قتل عام کرنا چاہتا تھا، اگر محل کی تاریخ یہ ہے تو پھر بھارتی تاریخ میں تاج محل کی کوئی جگہ نہیں ،ہم اسے تبدیل کردیں گے۔سنگیت سوم کے بیان پر بھارتی سیاسی رہنماؤں، حزب مخالف اور ادکاروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اترپردیش کی وزیرسیاحت ریتا بہوگنا جوشی کا کہنا ہے کہ سوم سنگیت کا تاج محل کے حوالے سے بیان ان کا ذاتی ہے۔ تاج محل بھارت کا قابل فخر ورثہ اور ملک کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہے۔ بی جے پی سے ہی تعلق رکھنے والے رہنما نلن کوہلی کا کہنا ہے کہ تاج محل ہماری تاریخ کا اہم حصہ ہے، ماضی میں جو بھی ہوا سے مٹایا نہیں جاسکتا، لیکن تاریخ کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
تاج محل غداروں نے بنوایا تو مودی لال قلعہ پر ترنگا نہ لہرائیں، اسد اویسی
نئی دہلی (نیوز ایجنسیاں) بھارت کی حکمران جماعت کے ایک قانون ساز کی جانب سے تاج محل کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک اہم رہنما نے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا ہے کہ کیا وہ بھی دارالحکومت کے مشہور حیدرآباد ہاؤس میں غیر ملکی شخصیات کی میزبانی بند کردیں گے، کیونکہ اسے بھی ‘غداروں’ نے تعمیر کیا تھا۔بھارتی اخبار کے مطابق وزیراعلیٰ اترپردیش کے اس متنازع بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا، ‘لال قلعہ بھی غداروں نے بنوایا تھا، کیا مودی وہاں بھارتی پرچم یعنی ترنگا لہرانا بند کردیں گے؟کیا مودی اور یوگی مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کو کہیں گے کہ وہ تاج محل کا دورہ نہ کریں،انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ نے اپنے ایک اور پیغام میں کہا کہ دہلی میں واقع حیدرآباد ہاؤس بھی ایک غدار نے ہی تعمیر کروایا تھا، کیا مودی وہاں غیر ملکی مہمانوں کی میزبانی کرنا بند کردیں گے؟سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے کہا ہے ’تاج محل ہی نہیں، راشٹر پتی بھون اور پارلیمنٹ کو بھی منہدم کر دینا چاہیے۔ایک بیان میں اعظم خان نے کہا کہ اگر غلامی کی نشانیوں کو مٹانا ہے تو صرف ’تاج محل ہی کیوں، راشٹر پتی بھون، پارلیمنٹ، لال قلعہ، قطب مینار، آگرے کا قلعہ سبھی کو گرائیے۔ یہ سبھی عمارتیں تو غداروں اور لٹیروں نے ہی بنوائی تھیں۔انہوں نے کہا کہ ان سبھی عمارتوں کو گرا دیانا چاہیے ’جن سے ماضی کے حکمرانوں کی بو آتی ہو۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں