سندھ بلڈنگ،گلبہار کی تنگ گلیوں میں خلافِ ضوابط عمارتوں کی وبا
شیئر کریں
ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی کی غیر فعالی، غیر قانونی تعمیرات سے حادثات کا خدشہ
پلاٹ نمبر 1051علی بستی ، 101/4 سو کوارٹر پر خلاف ضابطہ تعمیرات شروع
ضلع وسطی کے رہائشی علاقے گلبہار کی تنگ گلیوں میں حکومتی ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے بغیر کسی نقشہ یا منظوری کے مکانات اور دکانوں کی غیر قانونی تعمیرات تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات نہ صرف شہری قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان سے علاقے کی بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور روزمرہ زندگی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی افراد کے مطابق،گلیوں کی چوڑائی کم ہونے کے باوجود راتوں رات کمرشل پلازے اور رہائشی کوارٹرز کھڑے کر دیے جاتے ہیں، جس سے نکلنے والا تعمیراتی ملبہ گزرگاہوں کو تنگ کر رہا ہے ۔ بجلی کے تاروں پر غیرقانونی کنکشن، پانی کی پائپ لائنوں پر دباؤ اور سیوریج نظام کی بے قاعدہ توسیع نے عوامی صحت کے مسائل کو جنم دیا ہے ۔اتھارٹی کے ڈائریکٹر جعفر امام صدیقی اور مربوط منصوبہ بندی کے اداروں پر الزام ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر فعال دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض کیسوں میں افسران اور تعمیراتی مافیا کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ماہرین شہری منصوبہ بندی نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ان غیر قانونی تعمیرات پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے ناصرف حادثات کا خطرہ بڑھے گا بلکہ آگ لگنے یا ہنگامی صورت حال میں ریسکیو کارروائیاں بھی متاثر ہونگیں۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آگاہی مہم چلا رہی ہے اور قانونی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں،تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ اس وقت بھی پلاٹ نمبر 1051 علی بستی اور پلاٹ 101/4 سو کوارٹر پر خلاف ضابطہ تعمیرات شروع کروائی جا چکی ہیں ۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ناصرف نئی غیر قانونی تعمیرات روکی جائیں بلکہ پرانی عمارتوں کے لیے بھی ضوابط کا نفاذ کیا جائے ۔اس صورت حال نے گلبہار کے علاقے کو شہری انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج بنا دیا ہے ، جس کے حل کے بغیر ناصرف یہاں کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوگی بلکہ کراچی جیسے شہر کے پلاننگ معیارات پر بھی سوالیہ نشان لگے گا۔


