صدر، وزیر اعظم یا کوئی جرنیل، آئین سے بالاتر نہیں،حافظ نعیم
شیئر کریں
اجتماع عام تبدیلی کا پیش خیمہ ہوگا،ترمیم آئین سے متصادم ہے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں
وکلاء اور عوام کو 21تا 23نومبر مینار پاکستان اجتماع عام میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں،خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آئین پاکستان میں حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ کی ہے۔ کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں، 27ویں ترمیم سے عدلیہ اقلیت اور حکومت اکثریت میں آگئی ہے۔ عدلیہ کو زیر اور سرنگوں کرنے کا پورا بندوبست کیا گیا ہے، یہ لوگ پہلے بھی عدلیہ کو نہیں مانتے تھے اب بے توقیر کرکے خاتمے پر کمر بستہ ہوگئے ہیں۔ صدر، چیف آف سٹاف یا کوئی اور بڑا محاسبے سے مستثنیٰ نہیں۔ یہ ترمیم آئین سے متصادم ہے اورکسی صورت بھی قابل قبول نہیں،ہماری تاریخ روشن اور تابناک ہے،محاسبہ کا نظام اس قدر ضروری ہے کہ خودنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا تھا۔ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ وہ غریبوں کو پکڑ لیتے اور امیروں کو چھوڑ دیتے تھے۔ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے ملتان بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔


