ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر
شیئر کریں
ڈاکٹر سلیم خان
تاریخ کے حوالے سے بجا طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ‘اپنے تابناک ماضی سے غافل قومیں روشن مستقبل کی تعمیر نہیں کرسکتیں ‘لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جارح اقوام اپنے غاصبانہ قبضے کا جواز فراہم کرنے کی خاطر تاریخی حقائق کو توڑ مروڈ کربطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں ۔ اس فسطائی حکمت ِ عملی کی زندہ مثال ہندوستانی ہندوتوا نواز اور اسرائیل کے صہیونی ہیں ۔ اسرائیل کے ناپاک وجود کو جائز ٹھہرانے کی خاطر دو بڑے تاریخی دلائل کو بنیاد بنایا جاتاہے ۔ اس میں اول نمبر پرانجیل کے عہد نامہ قدیم کی میراث اور دوسرے 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی وہ سفارش ہے جس کے ذریعہ ارضِ فلسطین کو عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنے کی مذموم سازش رچی گئی اور آگے چل کر اس کے بطن سے عظیم اسرائیل کا بیانیہ گھڑا گیا تاکہ لوگ اس خیالی تصور کی مخالفت میں مصروف رہیں اور اسرائیل کا ناجائز وجود زیر بحث ہی نہیں آئے ۔ ان توسیع پسندانہ عزائم کا ایک مقصدان کے مظالم کی پردہ پوشی بھی ہوتاہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ فلسطینیوں کی حق تلفی پر گفتگو ہو بلکہ ساری دنیا ‘عظیم اسرائیل ‘ کے سراب میں الجھی رہے ۔ ویسے حالیہ جنگ نے گریٹر اسرائیل تو دورموجودہ ریاست کے مستقبل پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ۔
ماضی بعید میں جانے سے قبل 14 مئی 1947 ء کو تل ابیب کی میٹنگ پر گفتگو ضروری ہے کیونکہ اسی نشست کو اسرائیل کے قیام کا سنگ
بنیاد کہا جاتا ہے ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں میٹنگ میں جملہ 37 افراد نے شریک ہوکریہودیوں کے قدرتی اور تاریخی حق کے
حوالے سے آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ ان کے اس اقدام کی بین الاقوامی عالمی قانون میں کوئی مستند حیثیت اس لیے نہیں بنتی کیونکہ وہ اس
وقت کی فلسطینی آبادی کی اکثریت کے نمائندہ نہیں تھے ۔ در حقیقت ان میں سے صرف ایک فلسطین کا پیدائشی شہری تھا بقیہ 35افراد یو رپی
ممالک سے آئے تھے اور ایک یمن کا باشندہ تھا۔ اس طرح گویا ایک عالمی سازش کے تحت یہودی اقلیت کو ایسے علاقے میں اپنی آزاد
ریاست کے قیام کا حق دے دیا گیا جہاں فلسطینی عرب قوم صدیوں سے آباد تھی۔اس کمزور موقف کی حمایت میں عہد نامہ قدیم انجیل کو لاکر
علمی حلقوں میں یہ دعویٰ پیش کیا جاتا ہے کہ تاریخی لحاظ سے فلسطین کے قدیم ترین باشندے یہودی ہیں اور ا ن کا فلسطینی مسلمانوں کو بے گھر
کرکے اپنی کھوئی ہوئی سرزمین پر لوٹنامحض گھر واپسی ہے ۔ ویسے تو ماضی قدیم کی آڑ میں موجودہ دور کی بستیوں کو اجاڑنا اور ان کی زمین پر
غاصبانہ قبضہ کرکے اپنی نوآبادیات قائم کرنا بجائے خود ایک غیر انسانی و غیر قانونی حرکت ہے ۔ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے مقامی
باشندوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہایت ظالمانہ طرزِ عمل ہے ۔ اس کے باوجود تاریخی حقائق بھی مذکورہ بالا دعویٰ کی تائید نہیں بلکہ تردید
کرتے ہیں ۔
تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر یہودیوں کے مذکورہ بالا دلیل کی جانچ پڑتال کی جائے تو متضاد حقیقت نکل کر سامنے آتی ہے اور پتہ
چلتا ہے کہ ارضِ فلسطین پریہودیوں سے کہیں زیادہ دیگر اقوام کی حکومت رہی ہے ۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ
فلسطین کی مطبوعہ تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال پرانی ہے ۔ قدیم تاریخی دستاویزات میں 3000 سال قبل مسیح سے لے کر تقریبًا 1700
قبل مسیح تک وہاں پر یہودی نہیں بلکہ کنعانی اور مصری اقوام آباد تھیں یعنی وہاں کے قدیم ترین باشندے تو یہودی تھے ہی نہیں اور ان کے
یکے بعد دیگرے دوسری اقوام مثلًا ہکسو، حطی اور فلسطینی آئے ۔ارضِ فلسطین پر یہودی حکومت کا پہلا عہد 875 قبل مسیح سے شروع ہو کر 1020 قبل مسیح تک رہا اس کے بعد اسرائیلیوں کو اسیرین، اہل بابل، مصریوں اور شامیوں نے روند ڈالا۔اس کے بعد 83 قبل مسیح میں
ان کی دوسری حکومت کو سلطنت رومانے شکست فاش سے دوچار کردیا۔ رومیوں نے یروشلم فتح کرکے یہودی معبدو مسمار کردیئے ۔ اس کے
بعد یہودیوں کو دوسرے علاقوں کی طرف بھگادیا گیا ۔ اس طرح مجموعی طور پر فلسطین کی پانچ ہزارسالہ دستاویزی تاریخ میں قدیم یہودیوں
نے فلسطین کے ایک بڑے حصہ کو محض چھ سو سال تک اپنے تسلط میں رکھا۔ یہ مدتِ کار کنعانیوں، مصریوں، مسلمانوں اور رومیوں سے بہت کم
ہے ۔ اس لیے تاریخی اعتبار سے یہودیوں کے حق ملکیت کا دعویٰ ہی سرے سے کھوکھلا ہے ۔
امریکہ کے کنگ کرین کمیشن نے بھی اپنی تحقیق و تفتیش کے بعد اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے ۔ اس کے مطابق اسرائیل کا 1919 یعنی
بالفور معاہدے سے دوہزار سال پیشتر فلسطین پر قبضے کو بنیاد بنا کر ملکیت کے دعو ٰی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا۔ یہ گزشتہ صدی کا ایک جعلی
بیانیہ تھا جس کو حقیقت کا جامہ پہنا کر پیش کیا گیا ۔ قرآن کریم کی روشنی میں سے یہودیوں کے عروج کا زمانہ حضرت طالوت کے جہاد سے
شروع ہوتا ہے ، جس میں حضرت داود اپنی کم سنی کے باوجود جالوت کا کام تمام کر ملک شام میں اپنی سلطنت کا آغاز فرماتے ہیں۔ آپ
تاریخ کے سب سے پہلے بادشاہ نبی تھے ، اور نظامِ سلطنت چلانے کے لیے درکار علم وحکمت ،فہم و فراست، اور دوسری حفاظتی و دفاعی قوت
سے نوازے گئے تھے ۔ رب کائنات نے حضرت داود کو لوہا پگھلانے کا ہنر سکھا کر فوجی سازو سامان مثلاًزرہیں، تلواریں، اور اس وقت
کے دیگر آلاتِ حرب بنانے کا حکم دیا تاکہ بخیر و خوبی نظام حکومت چلا سکیں۔ حضرت داود کی وجہ سے بنی اسرائیل کو شان وشوکت اور حکومت ملی۔
حضرت داود کے بعدان کے بیٹے حضرت سلیمان نبوت وحکومت سے سرفراز فرمائے گئے ، علم وحکمت، فہم وفراست، آلاتِ حرب وجنگ
اورسلطنت کی وسعت میں یہ اپنے والد سے بھی بڑھ گئے ۔اس کے نتیجہ میں ان کی حکومت زمین میں وسیع پیمانے پر پھیل گئی، انسانی افواج
کے ساتھ ساتھ جنات اور چرند پرند بھی ان کے لشکر کا حصہ بن گئے ، اس زمانے کے عظیم تخت کی مالکہ، ” ملکہ بلقیس” بھی ان کے ماتحت
ہوگئی۔ اس عروج کے بعد یہودی من حیث القوم انبیاء علیہم السلام کی وراثت کو پامال کرنے میں مصروف ہوگئی۔ پہلے انہوں نے آپسی لڑائی
جھگڑے سے سلطنتِ سلیمانی کو تقسیم کیا، بعد ازاں توراة کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر اپنے مصلحین اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے
انبیاء علیہم السلام کا قتل کرنے لگے ۔اس طرح اُن پرزوال کے دو دور آئے ۔ پہلے دور میں اللہ تعالیٰ نے عراقی باد شاہ ”بخت نصر” کو ان پر
مسلط کیا،اس کے تسلط سے ان کی نسلیں اُجڑ گئیں، گھر تباہ ہوگئے ، بیت المقدس ویران ہوگیا، ہیکلِ سلیمانی کی عمارت کو منہدم کردیا گیا، باقی
ماندہ لو گ ستر سال تک عراق میں غلامی کی زندگی گزارنے مجبور ہوئے ۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں پھر ایک بارقوت وطاقت سے نوازہ گیا۔ وہ عراق سے شام کی طرف آکر اپنی نسلیں آباد کرنے لگے ، اور مال
ومتاع میں بھی اضافہ ہوگیا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو ان کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا، لیکن وہ دوبارہ اپنی پرانی روش پر چل پڑے ۔ حضرت
عیسیٰ کو قتل کرنے کی سازشیں کرنے لگے ، بزعمِ خود یہ انہیں شہیدبھی کر چکے ، جس کی پاداش میں دوسری بار پھر زوال کی تاریخ دُہرائی گئی، اس
مرتبہ کا ذلت و مسکنت پہلے سے بھی سخت تھی ، روم کا باد شاہ طیطوس ان پر مسلط ہوا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔قرآن کریم کا اصل
موضوع انسانوں کے لیے ہدایت ہے لیکن شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ”الفوز الکبیر” میں مضامینِ قرآن کریم میں سے ایک اہم عنوان
”تذکیر بأیام اللہ” بھی قائم کیا ہے ۔ اس کے تحت گزشتہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے قصص اور مختلف قوموں کے عروج و زوال پر بحث کی گئی ہے ۔ اقوام عالم کے رفعت و پستی کی اس داستان میں بھی انسانوں کے لیے عبرت کا سامان ہے ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم کے ابتداء میں ہی امت مسلمہ کو آگاہ و خبردار کرنے کی غرض سے بنی اسرائیل کے کے مختلف واقعات کو
قدرے تفصیل سے بیان فرمادیا لیکن چونکہ اس کا مقصد محض تاریخ بیانی نہیں ہے زمانی ترتیب کالحاظ نہیں رکھا گیا۔ ہدایت کے حوالے سے
موقع اور محل کے مطابق تاریخ کے جس پہلو کو جہاں اُجاگر کرنا ضروری ہوا، وہاں اس کا ذکر فرمادیا گیا ۔ ویسے قرآن کریم کا طالبِ علم اگر اس
میں بیان کردہ تاریخی حقائق پرغور وفکر کرے ، تو وہ بلاشبہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ یہ صحیفۂ الٰہی قوموں کے عروج وزوال کا سب سے معتبراور مؤثر
ترین ذخیرہ ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مؤرخ کے جذبات و افکار ، اس کے عقائد ونظریات کی جانب داری، اور روایت کے سقم و ضعف
سے پاک صاف ہے ۔ اس کے اندر واقعات کی تفصیل کے ساتھ ظاہری اور باطنی اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں۔ گزشتہ قوموں کی خطاؤں
اور لغزشوں کی نشاندہی کر کے اامت محمدیہ ۖ کی رہنمائی فرمائی گئی ہے ۔ کتابِ الٰہی میں بنی اسرائیل کی شکست و ریخت کی تاریخ کا خلاصہ
یہ ہے کہ ” اور اگر تم پھر وہی (شرارت) کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے ”۔یہ فیصلہ کن فرمان یہودیوں کے ماضی ، حال اور مستقبل کی
رسوائی کاترجمان ہے ۔اس مشاہدہ موجودہ جنگ کے دوران بھی ہوا کاش کے یہ اپنی تاریخ سے عبرت پکڑتے ۔
٭٭٭


