انقلابی شاعر حبیب جالب کی 33 ویں برسی آج منائی جائیگی
شیئر کریں
حبیب جالب کے سرکش قلم نے محکوم اور مجبور انسانوں کوظلم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ عطاء کیا
انقلابی شاعر حبیب جالب کی33ویں برسی (آج) 12مارچ کو منائی جائے گی۔
حبیب جالب 28/فروری 1928 کو بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئے ۔غربت کی کوکھ سے جنم لینے والے حبیب جالب نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اسے من و عن شاعری کے قالب میں ڈھال دیا نتائج سے بے پروا ہ ہو کر حبیب جالب نے ہر دور میں جابر اور آمر حکمران کے سامنے کلمہ حق بیان کیا۔
حبیب جالب کے سرکش قلم نے محکوم اور مجبور انسانوں کوظلم کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ عطاء کیا۔ حبیب جالب بنیادی طور پر بائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے وہ کمیونزم کے حامی تھے اور وہ پاکستان کیمونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن تھے۔
حبیب جالب کی انقلابی شاعری کے پانچ مجموعے منظر عام پر آئے جن میں بر گ آور، سر مقتل،عہد ستم،ذکر بہتے لہو کااور گوشے میں قفس کے قابل ذکر ہیں انہیں پاکستانی فلم ” زرقا ” کے ایک مشہور گانے ” رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے ” سے شہرت حاصل ہوئی۔ حبیب جالب 12مارچ 1993ء کو علالت کے باعث انتقال کر گئے تھے۔حبیب جالب کی وفات کے 16برس بعد انہیں ان کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے نشان امتیاز سے نوازا۔


