میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، افسر ان کے سائے میں غیرقانونی تعمیرات کا بڑھتا طوفان

سندھ بلڈنگ، افسر ان کے سائے میں غیرقانونی تعمیرات کا بڑھتا طوفان

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۲ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈاائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کی موجودگی میں کورنگی میں تعمیراتی لاقانونیت
اللہ والا ٹاؤن کے ڈی اے ایمپلائز سوسائٹی کے رہائشی پلاٹ R178پر کمرشل عمارت

کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف جنگ ایک ایسی المیہ کہانی بن چکی ہے جہاں محافظ ہی حملہ آور نظر آتے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی جن کا بنیادی فرض غیرقانونی تعمیرات کو روکنا ہے، ان ہی کی سربراہی میں یہ محکمہ اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے عہدے سنبھالنے اور انسپکٹر کاشف علی کی ذمہ داریوں میں توسیع کے بعد سے ہی علاقے میں غیرقانونی تعمیرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔”یہ ایک کھلا راز ہے ،” علاقے کے ایک کارکن عبدالرحمان کہتے ہیں۔ "جب ہم انسپکٹر کاشف علی کے پاس غیرقانونی تعمیرات کی شکایت لے کر جاتے ہیں، تو وہ یا تو ٹال مٹول کرتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ ‘اوپر سے ہدایات’ ہیں۔ ڈائریکٹر سمیع جلبانی صاحب تک ہماری آواز پہنچتی ہی نہیں۔ وہ تو سرے سے ہمارے علاقے میں آتے ہی نہیں دکھائی دیتے ۔”حقیقت یہ ہے کہ کاشف علی کی نگرانی میں اللہ والا ٹاؤن میں سب سے زیادہ غیرقانونی تعمیرات ہوئی ہیںسمیع جلبانی کی ڈائریکٹریٹ میں ان خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی کے ریکارڈ نہیں ہیںمحکمے کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹسز محض کاغذی کارروائی ثابت ہوئے ہیںایک محکمہ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ دونوں حضرات جلبانی صاحب اور کاشف صاحب ایک دوسرے کے لیے ‘سیفٹی نیٹ’ کا کام کر رہے ہیں۔ کاشف فیلڈ لیول پر کام کرتے ہیں، اور جلبانی صاحب انہیں اوپری سطح پر تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس نے پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ "سوال یہ اٹھ رہے ہیں:1کیا سمیع جلبانی اپنی انتظامی ذمہ داریوں سے لاپرواہ ہیں؟2کیا کاشف علی غیرقانونی تعمیرات میں ملوث ہیں یا مجرمانہ غفلت کا شکار ہیں؟ 3کیا یہ دونوں افسران اپنے فرائض کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کر رہے ہیں؟سول سوسائٹی کے نمائندوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری سے براہ راست مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندر موجود اس بدعنوانی کے عفریت کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے ، کیونکہ جلبانی اور کاشف جیسے افسران کی موجودگی میں ہی غیرقانونی تعمیرات پروان چڑھ رہی ہیں۔زمینی حقائق کے مطابق اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31B ،KDA ایمپلائز ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشی پلاٹ R178 پر ضابطوں کے بر خلاف بلند ہوتی عمارت پرعلاقہ مکینوں کا پیغام واضح ہے : "یا تو ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی اپنا فرض ادا کریں، یا پھر انہیں ان عہدوں سے ہٹا دیا جائے ۔ ہماری زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں