میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۲ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔
عبدالرحیم

1980 کے عشرے میں تائیوان مار شل لاء کے تحت ایک آمریت تھا،اپوزیشن پارٹیوں پر پابندی تھی اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا۔فی کس آمدنی محض 4000 ڈالر تھی۔اب دنیا یکسر بدل گئی ہے۔اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی طرف سے شائع شدہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق تائیوان آج پاکستان سے زیادہ جمہوری ہے،اسی طرح فریڈم ہائوس تائیوان کو پاکستان سے زیادہ قومی یا شہری حقوق سے بہر ہ یاب سمجھتاہے۔اس کے علاوہ تائیوان زیادہ ٹیکنالوجیکل عجوبہ ہے۔ریستورانوں میں روبوٹ مدد کرتے ہیں اور اس کے شہریوں کی فی کس آمدنی جاپانیوں سے زیادہ ہے۔ چونکہ تائیوان دنیا کے 90 فی صد سے زائدسب سے زیادہ ترقی یافتہ کمپیوٹرچپس پیدا کرتا ہے،یہ عالمی معیشت میں سب سے زیادہ نا گریز واحد مرکز ہے۔
اسی طرح 1989میں ویتنام کی فی کس آمدنی تقریباً100 ڈالر تھی۔ہیو شہر کے ایک بہترین ہوٹل میں چوہے کمرے کی چھت سے بارش کی طرح گرتے تھے۔لیکن گزشتہ ماہ ویت نام کے شیرٹن ہوٹل میں چوہوں کی برسات نہیں تھی۔اب ویتنام کی فی کس آمدنی تقریباً 5000 ڈالر ہے۔ شہر کی اسٹریٹس میں بلند و بالا عمارتوں کی قطاریں ہیں جو اقتصادی ترقی کی 8 فی صدشرح کی عکاس ہے اور گزشتہ سال اسٹاک میں ڈالرز کے لحاظ سے37 فی صد اضافہ ہوا جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ہوچی منہ میں لوگوں کی شرح زندگی77سال ہے جو پاکستان کے کئی شہروں سے زیادہ ہے۔اس طرح ایشیا میں زیادہ تیزی سے تبدیلی آئی،بعض ایشیائی ممالک نے ایک عشرے سے کم عرصے میں حیران کن ترقی کی۔تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی کاکہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں جن میں چین ،بھارت ،انڈونیشیا ، ویتنام شامل ہیں،نے باقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ عالمی اقتصای ترقی میں حصہ ادا کیااور 2026 میں بھی ایسا کریں گی۔
انسا نی وسائل میں سرمایہ کاری اور دانشمندانہ اقتصادی پالیسیاں
ایشیا بھاری بھر کم شے نہیں ہے لیکن جو فوائد پہلے پہل جاپان اور چھوٹی "ٹائیگر” معیشتو ں(ہانگ کانگ،جنوبی کوریا،تائیوان اور سنگاپور) میں نظر آئے، وہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا اور حال ہی میں بنگلہ دیش اور بھارت تک پھیل گئے۔ایک عامل انسا نی وسائل میں سرمایہ کاری ہے اور ساتھ ہی دانشمندانہ اقتصادی پالیسیاں ہیں۔چونکہ حالیہ برسو ں میںپاکستان میںجمہوریت اور معاشرہ کو مشکل حالات کا سامنا ہے ۔وہ آمرانہ گرفت میں ہے اور عدم مساوات اور بے اطمینانی کا شکار ہے۔پاکستان جنوب مشرقی ایشیا کی بعض کامیابیوں سے اسباق حاصل کر سکتا ہے۔
تعلیم کی یکسر تبدیلی کی قوت
پاکستان میںجس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،وہ تعلیم کی یکسر تبدیلی کی قوت ہے۔یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ یہ معاشرے پاکستان کے مقابلے میں تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔یہ جذبہ مشرقی ایشیا کی کنفیوشش پٹی میں روایت کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔آج بھی چین کے دیہات میں مقامی آدمی کیلئے قدیم یاد گار دیکھی جا سکتی ہے جس نے صدیوں قبل شاہی امتحانات میں ٹاپ آنرز کے ساتھ ڈگری حاصل کی۔کیا کبھی کسی پاکتانی دیہات میں آپ نے مقامی پی ایچ ڈی کی یاد منائی گئی دیکھی ہے؟ مشرقی اشیا کے بعض اسکولوں میں پْر جوش لڑکے اور لڑکیاں گریجویٹ ہونے پراس تقریب میں الوداعی خطاب کرتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کا فخریہ ذکر کرتے ہیں۔ان اقدار سے بہت سے طالب علم غیر معمولی طور پر سخت محنت کرتے ہیں۔
ہوچی من سٹی میں ایک لڑکی ٹرانس ہا ہوانگ چائو کے پاس کالج کیلئے رقم نہیں تھی۔ لیکن وہ ڈگری حاصل کرنے پر مْصر تھی۔اس لئے اس نے فل ٹائم کام اور فل ٹائم اسٹڈی کرنے کا فیصلہ کیا۔یونیورسٹی میں تمام دن اسٹدی کرنے کے بعد وہ پوری رات ایک کافی شاپ میں ہفتے میں سات دن کام کرتی۔ وہ کب سوتی تھی؟ اس نے بتایا کہ صبح تین اور پانچ بجے کے کے دوران جب زیادہ گاہک نہیں ہوتے تھے، اسے کافی شاپ میں سونے کا موقع ملتا۔وہ ویک اینڈز پر اپنی نیند پوری کرتی۔اس کے پاس کھا نے کیلئے کافی پیسے نہیں ہوتے تھے اور وہ اکثر بھوکی سوتی تھی لیکن اس کاحوصلہ رنگ لا یا اور اسے اپنی سائنس ریسرچ کے تعلیمی اعتراف ہونے لگے جس میں کووڈ پر اپنے کام کا ایک انعام اوررحم کے نچلے حصے میں ورم کی تفتیش کا دوسراانعام شامل ہے۔ انعامات میں نقد ادائیگیاں شامل تھیں جس کے نتیجہ میں وہ زیاد کھانے ے قابل ہوئی۔
تعلیم کیلئے یہ تعظیم وجہ ہے کہ سنگا پور کے اسکول دنیا میں بہترین ہو سکتے ہیں۔ان اسکولوں میں جنوبی کوریا،تائیوان ،ہانگ کانگ اور جاپان شامل ہیں۔پاکستانی اپنے بچوں کی تعلیم میں شوق سے سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن وہ دوسرے بچوں کی تعلیم کیلئے ادائیگی میں کم جذبہ رکھتے ہیں۔اس کے برعکس تائیوان میں آئین پابند کرتا ہے کہ تعلیم ،کلچر اور سائنس کیلئے قومی بجٹ کا کم ازکم 15فی صد وقف ہونا چاہئے۔ ایک قانون پابند کرتا ہے کہ تمام سطحوں پر حکومت کیلئے مجموعی خالص بجٹ محاصل کا کم از کم22.5 فی صد تعلیم میں جانا چاہئے۔پاکستان میں تعلیم پر وفاقی بجٹ کاحصہ نہایت کم ہے۔
کنفوشش اثرات رکھنے والے ممالک میں تعلیم کااحترم اتنا گہرا ہے کہ یہ ان کے نوجوان ہارمونز پر بھی غالب ہے۔ہوچی من سٹی کی یونیورسٹی میں ٹیکنالوجی کی 20سالہ طالبہ فا نتھی مائی ڈوین کا کہنا ہے کہ ڈیٹ پر جانا یا بوائے فرینڈ رکھنا ضروری نہیں ہے۔میری ترجیح اسکول کا کام ہے جو مجھے مصروف رکھتا ہے۔ڈوئین نے مٹی کی مقدار کی پیمائش کرنے کی ڈیوائس تیار کی تاکہ کسان سمجھ سکیں کہ کس طرح کھاد کے اضافہ سے فصلیں بہتر ہو سکتی ہیں۔ڈوئین جو دیہی علاقے میں پلی بڑھی، وہ غیر منافع بخش تنظیمU-Go سے فائدہ اٹھاتی ہے جو مائیکروسافٹ کے ایک سابق ایگزیٹو جان وڈ نے قائم کی جو طالب علم کو تقریباً800 کے وظائف فراہم کرتی ہے تاکہ ایشیا اور افریقہ میں کم آمدنی والی ذہین خواتین یونیورسٹی میں داخلہ لے سکیں۔
کیا پاکستانی اپنے ملک میں اس قسم کا تعلیمی کلچر قائم کر سکتے ہیں؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں