غزہ جنگ بندی معاہدہ باضابطہ نافذ العمل،اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا شروع
شیئر کریں
اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کریں گے
ابتدائی مرحلے میں حماس کے 11 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، اسرائیلی فوج کا اعلان
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا، کئی علاقوں سے فوج کا جزوی انخلا بھی شروع کر دیا گیا ہے۔تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔فوج کے مطابق ابتدائی مرحلے میں حماس کے 11 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اسرائیلی افواج نے غزہ کے اندر طے شدہ لائن سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا۔عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے بعد غزہ کے شہری اپنے گھروں کی جانب واپسی شروع کر چکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے کئی علاقوں سے جزوی انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دی۔غزہ امن منصوبے کی منظوری سے متعلق اسرائیلی حکومت کی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی وزیراعظم اور وزرا کے علاوہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر نے بھی شرکت کی۔اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق حکومت نے تمام یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے، معاہدے کے تحت تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوج کے جزوی انخلا کے بدلے یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج اب غزہ کی پٹی کے اندر نئی پوزیشنز پر منتقل ہوگی تاہم علاقے کے تقریباً 53 فیصد حصے پر کنٹرول برقرار رکھے گی جس کے بعد 72 گھنٹوں کا وقت دیا جائے گا، اس دوران حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔


