بھتا خوری کی شکایت درج کرانے کیلئے ویب پورٹل کی تیار یاں
شیئر کریں
لیاری گینگ وار کے سرغنہ وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواڑی کو ایران سے پکڑکر لایا جائیگا، وزیر داخلہ سندھضیا لنجار
کراچی میں بھتہ خوری کے معاملات عبدالصمد کاٹھیاواڑی ایران سے آپریٹ کر رہا ہے، آئی جی کے ہمراہپریس کانفرنس
(رپورٹ : افتخار چوہدری)وزیر داخلہ سندھ ضیائالحسن لنجار نے کہا ہے کہ تاجروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک ویب پورٹل تیار کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے وہ بھتہ خوری اور دیگر جرائم سے متعلق شکایات درج کر سکیں گے۔واضح رہے کہ ہفتے کے آغاز میں، سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل غلام نبی میمن نے صوبے بھر کے تاجروں کے تعاون سے اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کرائی تھی۔ضیائالحسن لنجار نے کراچی پولیس آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’ اس پورٹل کے ذریعے موصول ہونے والی تمام شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی، اور پولیس کی جانب سے فوری ایکشن یقینی بنایا جائے گا۔’پریس کانفرنس میں آئی جی غلام نبی میمن اور کراچی کے ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ضیائالحسن لنجار نے کہا کہ بھتہ خوری کی پرچیوں یا دھمکیوں سے متعلق کوئی بھی شکایت اگر اس نئے ویب پورٹل کے ذریعے کی جائے گی تو فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے گی، اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔ایڈیشنل آئی جی جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ یہ اقدام اس پس منظر میں لیا جا رہا ہے کہ تاجروں کو تھانوں میں جا کر ایف آئی آر درج کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ضیائالحسن لنجار نے کہا کہ’ کاروباری طبقے کا تحفظ اور انہیں ایک محفوظ اور آزاد تجارتی ماحول فراہم کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔’انہوں نے مزید کہا کہ بھتہ خوری حالیہ دنوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے، اور چونکہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے، اس لیے حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ کاروباری برادری اور تاجروں کے لیے پُرامن ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ محفوظ اور آزادانہ کاروباری سرگرمیاں انجام دے سکیں۔وزیر داخلہ نے کہاکہ’ اگرچہ بھتہ خوری کے مسئلے کو بہت زیادہ اُچھالا گیا ہے، لیکن اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) اور کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے ) کے ساتھ ضلعی پولیس مکمل طور پر اس جرم کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور موثر و منظم کارروائیاں کر رہی ہیں۔’انہوں نے مزید بتایا کہ’ اس وقت وسیع اللہ لاکھور اور صمد کاٹھیاواڑی کے گروہ ایران سے بھتہ خوری کی سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ کے اجرا کی باقاعدہ درخواست بھیجی جا چکی ہے، اور سندھ حکومت وفاقی وزیر داخلہ سے بھی تعاون کی درخواست کرے گی تاکہ ان مجرموں کو گرفتار کیا جا سکے جو اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔’وزیر داخلہ نے کہا کہ کراچی جیسے شہر میں بھتہ خوری ایک نہایت سنگین اور حساس معاملہ ہے، اور صوبائی حکومت ہمیشہ سے کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم رہی ہے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ عوامی تعاون کے بغیر بھتہ خوری پر قابو پانا ممکن نہیں۔ضیائالحسن لنجار نے مزید بتایا کہ سی آئی اے؍ ایس آئی یو اور ضلعی پولیس نے کارروائیاں کیں جن میں چار بھتہ خور مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ’ یہ دھمکیاں لاکھو گروپ اور صمد کاٹھیاواڑی سے منسلک تھیں، اور حکومت کسی گروہ یا جرائم پیشہ عنصر کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ عوام میں بھتہ کی پرچیاں تقسیم کریں یا شہریوں کو خوفزدہ کریں‘۔


