میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اپوزیشن نے لوٹاکریسی کاراستہ روک دیا،قومی اسمبلی میں حکومت کوبدترین شکست

اپوزیشن نے لوٹاکریسی کاراستہ روک دیا،قومی اسمبلی میں حکومت کوبدترین شکست

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۰ نومبر ۲۰۲۱

شیئر کریں

قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت کو دوہری سبکی کا سامنا کرنا پڑگیا، حکومتی مخالفت کے باوجود (ن )لیگی رکن کا لوٹا کریسی تدارک بارے بل پیش جبکہ حزب اختلاف کی اکثریت کے باعث پی ٹی آئی رکن اسماء قدیر کا بل مسترد ہوگیا جس پر ایاز صادق نے کہاہے کہ اخلاقی طور پر اب حکومت مستعفی ہوجائے، وزیر خارجہ نے الفاظ مسترد کر دیئے جبکہ وزیر پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ اپوزیشن خیر منائے ایسا نہ ہو حکومتی تعاون کے بنا بل قائمہ کمیٹی سے آگے نہ بڑھ سکیں ،قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے بل پیش کرنے کے معاملے پر اپوزیشن نے 104 ووٹ کے مقابلے میں 117 ارکان کی حمایت سے حکومت کو شکست دیدی۔منگل کو مسلم لیگ (ن) کے رکن جاوید حسنین نے بل پیش کرنا چاہا تو حکومت نے مخالفت کی۔ اسپیکر نے بل پیش کرنے کیلئے ووٹنگ کرائی تو ووٹنگ میں اپوزیشن کے 117 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں اور حکومت کے 104 ارکان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔اکثریتی ارکان کے سبب ن لیگ کے رکن کو بل پیش کرنے کی اجازت مل گئی اور حکومتی ارکان کو شکست ہوئی۔ جاوید حسنین نے کہاکہ یہ بل جمہوریت اور جماعتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے، جس کی مرضی ہوتی تھی وہ پرندہ اڑ کر کہیں بھی بیٹھ جاتا تھا۔جاوید حسنین نے کہاکہ ہماری شاخ سے پرندے اڑتے رہے ہیں اب کم از کم پی ٹی آئی اپنی شاخیں بچا لے، بل کے تحت کسی بھی ایسے شخص کو جو پارٹی چھوڑے اس کی 7 سال تک کسی اور پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے پر پابندی ہونی چاہیئے، اس لوٹا کریسی صنعت کو اب بند ہونا چاہیئے۔ انہوںنے کہاکہ یہ لوٹے اتنے مضبوط ہیں تو اپنے بل بوتے پر الیکشن جیتیں اور آکر دکھائیں، جماعتوں کو کیوں بدنام کرتے ہیں، اپوزیشن ارکان نے بل کی تحریک منظور ہونے پر جاوید حسنین کو مبارک باد ی ۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن ایاز صادق نے کہا کہ حکومت کو بدترین شکست ہوئی ہے، آج حکومت کو مستعفی ہونا چاہیے۔سابق اسپیکر سر دار ایازصادق نے کہاکہ جوائنٹ سیشن سے پہلے ہی حکومت اپنی اخلاقی ہار مان لے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایاز صادق کے الفاظ کو مسترد کردیا انہوںنے کہاکہ ایم این اے لاہور کے الفاظ کو مسترد کرتا ہوں۔ اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ لاہور میں ڈینگی کا بدترین مسئلہ پیدا ہوگیا ہے،محکمہ صحت کے سٹاک سے تین کروڑ ادویات غائب ہوگئی ہیں،لاہور میں پیناڈول اور پیراسیٹامول غائب ہوچکی ہیں،حکومت عوام کی مشکل حل کرے۔ انہوںنے کہاکہ عوام ڈینگی سے مر رہے ہیں اور حکمران قوالیاں سن رہے ہیں۔اجلاس کے دور ان شاہ محمود قریشی نے کہاکہ آذربائیجان وفد کو پارلیمنٹ ایوان میں خوش آمدید کہتے ہیں،عالمی سطح پر آذربائیجان نے پاکستان کی حمایت کی،پاکستان ہر مشکل وقت میں آذربائجان کے ساتھ کھڑا ہوگاپاکستانی عوام آذربائیجان کی عوام کے ساتھ ہیں۔ اجلاس کے دور ان اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تقرر کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی اجازت کی تحریک عبدالقادر مندوخیل نے پیش کی ،حکومت نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ سپیکر نے بل پیش متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ اجلاس کے در ان بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے فوجداری قوانین ترمیمی بل اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا حکومت کی جانب سے مخالفت نہ ہونے پر بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔ اجلاس کے دوران دارالحکومت اسلام آباد گھریلو ملازمین بل 2021 کو مشترکہ اجلاس بھیجنے کی تحریک منظور کرلی گئی ،تحریک مہناز اکبر عزیز نے پیش کی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں