میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات کا پھیلتا سیلاب

سندھ بلڈنگ، کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات کا پھیلتا سیلاب

ویب ڈیسک
منگل, ۱۰ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی پر تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت کے الزامات
پلاٹ ایل 815پر خطرناک کمزور عمارت تعمیر ،رہائشیوں میں خوف و ہراس

کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات کا کاروبار عروج پر ہے جہاں افسران اور بلڈنگ مافیا کے درمیان گہرے تعلقات نے قانونی نظام کو مفلوج کر دیا ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی پر واضح ثبوتوں کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونے کے واقعات نے عوام کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے ۔اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31A کے پلاٹ نمبر L 815 پر خطرناک حد تک کمزور بنیادوں پر بلند عمارت کی تعمیر جاری ہے ۔جس سے علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے ۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات کی منظوری کے بدلے افسران سے براہ راست معاہدے ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے نام سے وابستہ چند ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں بڑی رقوم کے عوض غیرقانونی تعمیرات کو قانونی جواز فراہم کیا گیا۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا، "ہم نے بار بار تحریری شکایات دیں، فوٹو اور ویڈیو ثبوت بھی فراہم کیے ، مگر ڈائریکٹر جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے دباؤ کی وجہ سے ہر بار یا تو کوئی کارروائی نہیں ہوئی یا پھر معمولی جرمانہ کر کے معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔”حکومتی اداروں کے اندرونی ذرائع سے جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، تحقیقاتی عمل میں جان بوجھ کر تاخیر کی جا رہی ہے ۔ ایک نامعلوم ذریعہ نے بتایا، ”ڈائریکٹر سمیع جلبانی کا کردار سب سے زیادہ مشکوک ہے ۔ وہ نہ صرف انسپکٹر کاشف علی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں بلکہ تعمیراتی مافیا کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں جو ضلع بھر میں غیرقانونی تعمیرات کو فروغ دے رہے ہیں”۔ان غیرقانونی تعمیرات کے نتیجے میں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ بجلی کے شارٹ سرکٹ، گیس لیک ہونے کے واقعات اور ساختی کمزوریوں کے باوجود ان عمارتوں میں رہائش جاری ہے ۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ اس مسئلے کا فوری تدارک کیا جائے اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو نشانہ بنایا جائے ۔اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیٹی قائم کی جائے جو نہ صرف ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کے خلاف کارروائی کرے بلکہ ان کے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کرے ۔ عوام کی توقع ہے کہ حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں گے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں