صہیونی حملوں میں 105 فلسطینی مسلمان شہید
شیئر کریں
بے گھرمظلوم خواتین ، بچے ، معمر افراد پر بمباری کاسلسلہ بدستور برقرار،متعدد زخمی
خان یونس اور نصیرات کے درمیان خیمہ بستی پر حملہ،حملے اچانک ہوئے ،عینی شاہدین
غزہ ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کی زد میں ہے۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 105 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے، معمر افراد اور امدادی رضاکار شامل ہیں۔خان یونس اور نصیرات کے درمیان خیمہ بستی پر حملہ میں چار خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، یہ خاندان حالیہ دنوں میں شمالی غزہ سے بے گھر ہو کر یہاں منتقل ہوا تھا۔ ایک رہائشی نے بتایا: "ہم نے سوچا یہاں نسبتا محفوظ ہوں گے، لیکن ہمارے خیموں پر میزائل برسا دیے گئے۔”اسی طرح خان یونس سے نصیرات جانے والے راستے پر اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک ہی خاندان کے مزید چار افراد شہید ہو گئے، جن میں ایک نوجوان ماں اپنے دو بچوں کے ہمراہ جاں بحق ہوئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ اچانک ہوا اور کوئی پیشگی انتباہ نہیں دیا گیا۔نصیرات کے رہائشی علاقوں پر بھی شدید بمباری کی گئی، جس میں دس شہری شہید ہوئے۔ ان میں معمر مرد و خواتین شامل تھے، جبکہ درجنوں زخمیوں کو انتہائی تشویشناک حالت میں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد 70 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے۔


