سندھ بلڈنگ ،ضلع کورنگی کے اللہ والا ٹاؤن میں قیامت خیز تعمیرات
شیئر کریں
تعمیراتی لاقانونیت کی کمان ڈائریکٹر کورنگی سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف کے ہاتھوں میں
سیکٹر 31Gجہاں ’رہائشی‘ پلاٹوں 1257+1312نے ’کمرشل‘ شناخت اختیار کر لی
شہر میں تعمیراتی قوانین کی دھجیاں اڑانے والاایک نیا باب ضلع کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹاؤن میں کھلا ہے ، جہاں قیامت خیز تعمیرات نے نہ صرف علاقے کا نقشہ بدل دیا ہے بلکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے پر بھی بھاری بوجھ ڈال دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق اس تعمیراتی لاقانونیت کی کمان ڈائریکٹر کورنگی سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف کے ہاتھوں میں ہے ، جو مبینہ طور پر اس پورے گیم کے ماسٹر مائنڈ” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31G کے رہائشی پلاٹوں 1257+ 1312 پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی خلاف ضابطہ تعمیرات کی یہ مہم سرکاری محصولات پر ایک بھاری پتھر ثابت ہو رہی ہے ۔ ایک طرف جہاں ان افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ناجائز تعمیرات کو فروغ مل رہا ہے ، وہیں دوسری طرف ان تعمیرات کی وجہ سے علاقے کی نکاسی آب، بجلی اور ٹریفک کے نظام پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے ۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ محض چند افسروں کی ذاتی خواہشات کا کھیل نہیں بلکہ شہر کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ ان تعمیرات نے اللہ والا ٹاؤن کو ایک ’’منی کمرشل حب ‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے ، جہاں ہر گلی کوچے میں کنکریٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور رہائشی علاقے اب دفتروں اور دکانوں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ماہرینِ تعمیرات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی لاقانونیت نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو مجروح کرتی ہے بلکہ قدرتی آفات کے وقت تباہی کے امکانات کو بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے ۔ متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لے کر ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے جو قوانین کو لتاڑ کر شہر اور شہریوں کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔


