سندھ بلڈنگ، ماڈل کالونی رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات جاری
شیئر کریں
ڈی جی کی سرپرستی، ذوالفقار بلیدی کا تعمیراتی مافیا سے گٹھ جوڑ بے نقاب
سویٹ ہوم سوسائٹی پلاٹ نمبر 67پر کمرشل پورشن یونٹ تعمیر کی چھوٹ
ضلع کورنگی کے علاقے ماڈل کالونی میں قائم سویٹ ہوم سوسائٹی کے رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی کمرشل تعمیرات عروج پر پہنچ گئی ہیں۔زیر نظر تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پلاٹ نمبر 67پر کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیرات کی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔رہائشیوں کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ذوالفقار بلیدی مبینہ طور پر ڈی جی شاہ میر خان بھٹو کی مکمل سرپرستی میں تعمیراتی مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے خلاف ضابطہ منصوبوں کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق رہائشی پلاٹوں پر شادی ہال مارکیٹیں اور کمرشل پلازے تعمیر کیے جا رہے ہیں جن سے نہ صرف علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے بلکہ علاقے کا بنیادی ڈھانچہ بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے ۔ ٹریفک کا بوجھ بڑھنے سے گلیاں تنگ ہو گئی ہیں جبکہ پارکنگ کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر چکا ہے ۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ "ہم نے کئی بار ایس بی سی اے کو شکایات درج کروائیں مگر ہر بار افسران نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ معاملہ دیکھ رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ سب گورکھ دھندہ افسران کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔” ایک اور رہائشی نے کہا کہ "راتوں رات پلازے کھڑے ہو جاتے ہیں، کوئی قانون نافذ کرنے والا نظر نہیں آتا،سب کچھ پیسے کے زور پر ہو رہا ہے ۔شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا مقصد قانون پر عمل درآمد کروانا ہے لیکن ادارے کے اعلیٰ افسران خود کرپشن میں ملوث ہو کر غیر قانونی تعمیرات کو فروغ دے رہے ہیں۔ بااثر شخصیات کی پشت پناہی کے باعث ذوالفقار بلیدی محکمہ جاتی کارروائی سے محفوظ ہیں جبکہ ڈی جی شاہ میر خان بھٹو کی خاموشی اس کھیل کو مزید ہوا دے رہی ہے ۔شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماڈل کالونی میں جاری غیر قانونی تعمیرات کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ دار افسران کو برطرف کر کے متاثرہ علاقے کو اصل رہائشی شکل میں بحال کیا جائے ۔


