میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکہ  نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر بمباری کردی

امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں پر بمباری کردی

جرات ڈیسک
بدھ, ۸ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بندر عباس، سیرک اور وزن میں دھماکے، آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے بعد کارروائی کی، امریکی سینٹرل کمانڈ

 

امریکہ نے جنگ بندی اور مذاکرات کے باوجود بدھ کو علی الصبح جنوبی ایران کے متعدد ساحلی شہروں پر شدید فضائی حملے کردئیے، جس کے بعد خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔

یہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق بندر عباس، سیرک اور جزیرہ قشم میں امریکی بمباری کے بعد پے در پے زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جہاں شہری اور تجارتی گھاٹوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں کئی ماہی گیری کی کشتیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائی افواج نے جنوبی ایران میں تہران کے اہم میزائل لانچنگ پیڈز، ساحلی نگرانی کے نظام اور ڈرون مراکز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قطری اور سعودی عرب کے تین تیل بردار ٹینکرز پر ایرانی حملوں کا براہِ راست اور جواب ہے۔

تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے امریکی بمباری کو امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے بھرپور جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اس شدید ترین فوجی کشیدگی کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران پر معاشی شکنجہ بھی کس دیا ہے اور امریکی وزارتِ خزانہ نے ایرانی خام تیل کی برآمدات پر 17 جولائی سے دوبارہ مکمل پابندیاں عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جنگی صورتحال اور امریکی پابندیوں کی بحالی کی خبریں سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر شدید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جس نے عالمی معیشت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں