میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سب ہارگئے ۔۔۔۔

سب ہارگئے ۔۔۔۔

ویب ڈیسک
اتوار, ۸ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی ۔۔۔ انسانیت ہارجاتی ہے ،دنیا کی تاریخ کا ہر ورق گواہی دیتا ہے جب بھی جنگ کی آگ بھڑکی ، اس
نے صرف شہروں کو ہی نہیں جلایا بلکہ انسانیت کے ضمیر کو بھی زخمی کیا ہے ۔۔۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے کڑوا سبق ہے ،جس دن پہلی تلوار
اٹھائی گئی تھی، اسی دن سے یہ حقیقت سامنے آ گئی تھی کہ جنگ کبھی ” فتح” نہیں دیتی ، وہ صرف تباہی تقسیم کرتی ہے ،جب دو فوجیں آمنے
سامنے کھڑی ہوتی ہیں تو وہاں صرف دو ممالک یا دو نظریات نہیں لڑتے ۔ وہاں لڑائی میں شامل ہوتا ہے ،ماں کا بیٹا، بیوی کا شوہر، بچوں کا
باپ، بہن کا بھائی، خواب دیکھنے والا نوجوان، امیدوں کا گھر، مستقبل کی بنیادیں۔۔۔اورجب گولی چلتی ہے ، میزائل گرتا ہے ، بم پھٹتا ہے
تو وہ صرف جسم نہیں توڑتا، وہ رشتوں کو، جذبات کو، یادوں کو۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر انسان ہونے کے احساس کو چھلنی کر دیتا ہے ۔
جنگ ہمیشہ طاقت کے مظاہرے کے نام پر شروع کی جاتی ہے ، مگر اس کا اختتام کمزوروں کے آنسوؤں اور ماؤں کی آہوں پر ہوتا ہے ۔
توپوں کی گھن گرج اور بموں کی آواز شاید چند لمحوں کے لیے کسی ملک کی برتری کا اعلان کر دے ، لیکن اس شور کے پیچھے دب جانے والی انسانی چیخیں صدیوں تک گونجتی رہتی ہیں۔ تباہ شدہ گھر، اجڑی ہوئی بستیاں اور یتیم بچوں کی خالی آنکھیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل میں کوئی نہیں جیتا۔تاریخ گواہ ہے ،دوسری عالمی جنگ میں تقریباً سات سے آٹھ کروڑ انسان مارے گئے ،ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایک لمحے میں لاکھوں جیتے جاگتے خواب ختم ہو گئے ،ویتنام، افغانستان، عراق، شام، یوکرین، غزہ ہر جگہ یہی کہانی دہرائی گئی،کچھ فریق نے ”فتح ”کا پرچم لہرایا، کچھ نے ” ہار” کا داغ سہا مگر انسانیت ہر بار ہاری ۔
ساحر لدھیانوی نے کہا تھا !!
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
یہ سطریں آج بھی اتنی ہی سچی ہیں جتنی ستر،اسی سال پہلے تھیں،جنگ کے بعد جو جیتی ہوئی قوم ہوتی ہے ، وہ بھی کئی نسلوں تک زخمی رہتی
ہے ،معاشی طورپر، نفسیاتی طورپر، اخلاقی طورپر،یتیم بچوں کی آنکھوں میں خوف، بیواؤں کی چیخوں میں درد، اورتباہ شدہ شہروں کی اینٹوں
میں چیختی خاموشی، یہ سب فتح کا حصہ نہیں بنتے ، یہ سب ہار کے ثبوت ہوتے ہیں۔آج کے دور میں تو جنگ اور بھی خطرناک ہو گئی ہے ۔ایٹمی
ہتھیار، ڈرونز، سائبر حملے ، پروپیگنڈا کی جنگ ، اب ایک غلطی پوری نوع انسانی کو ختم کر سکتی ہے ۔اور پھر بھی نام نہاد لیڈرز، میڈیا، سوشل
میڈیا اکاؤنٹس سب جنگ کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں، دشمن کو شیطان بنا کر پیش کرتے ہیں، اورفتح کے نعرے لگاتے ہیں،مگر کوئی یہ نہیں بتاتا
کہ اس فتح کی قیمت کون ادا کرے گا۔۔۔؟ وہ بچہ جو باپ کے بغیر بڑا ہو گا۔۔۔؟ وہ ماں جوبیٹے کی لاش کو دیکھ کر پاگل ہو جائے گی۔۔۔؟
وہ شہرجو کبھی دوبارہ نہیں بس سکے گا۔۔۔؟ایک فلسطینی شاعرمحمود درویش نے کہا تھا !!
جنگیں ختم ہو جائیں گی اور لیڈر ہاتھ ملائیں گے ،
مگر وہ بوڑھی عورت اپنے شہید بیٹے کا انتظار کرتی رہے گی،
وہ لڑکی اپنے محبوب شوہر کا انتظار کرتی رہے گی،
بچے اپنے بہادر باپ کا انتظار کرتے رہیں گے ،
مجھے نہیں معلوم، وطن کس نے بیچا، مگر مجھے معلوم ہے قیمت کس نے دی،
یہ قیمت انسانیت دیتی ہے ۔۔۔۔۔ ہر بار۔۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مسئلوں کا مستقل حل نہیں بن سکتی۔ یہ صرف نفرت، بدلے اور مزید تباہی کے دروازے کھولتی ہے ۔ قومیں اگر طاقت کے بجائے عقل اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں تو بہت سی جنگیں شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔ تاریخ میں وہی لیڈر بڑے سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے جنگیں نہیں بلکہ امن پیدا کیا۔آج انسانیت کو سب سے زیادہ ضرورت اسی سوچ کی ہے کہ اختلافات کو میدان جنگ کے بجائے میز مذاکرہ پرحل کیا جائے ۔ کیونکہ جب بندوق بولتی ہے تو سچ، انصاف اور انسانیت سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جنگ میں کسی کی حقیقی جیت نہیں ہوتی۔ فتح کے جھنڈے شاید کسی ایک ملک کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، مگر شکست کا بوجھ پوری انسانیت کے کندھوں پر ہوتا ہے ۔ اس لیے اگر دنیا کو واقعی بہتر بنانا ہے تو ہمیں جنگ کی زبان کے بجائے امن کی زبان سیکھنا ہوگی، کیونکہ انسانیت کی بقا اسی میں ہے ۔۔۔جنگ جیتنے کا خواب دیکھنے والوں سے گزارش ہے ، اگر واقعی فتح چاہیے تو میدان جنگ کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں ،اگرواقعی عزت چاہیے تو لاشوں کے ڈھیر لگانے کی بجائے امن کی عمارت کھڑی کریں۔۔۔اور اگر واقعی تاریخ میں نام چاہیے تو وہ نام ”جنگجو” کا نہیں۔۔۔”امن ساز” کا ہو، کیونکہ آخری جنگ کے بعد جب دھواں چھٹ جائے گا، جب آخری چیخ تھم جائے گی، جب آخری آنسو سوکھ جائے گا، تو کوئی ”فاتح ” نہیں بچے گا۔ بچے گا تو صرف تباہی کا منظر۔۔۔ اور ایک سوال ،کیا جنگ ہونی چاہیے تھی۔۔۔۔؟جنگ میں کسی کی جیت نہیں ہوتی۔ انسانیت ہارجاتی ہے ۔۔۔اورجب انسانیت ہار جاتی ہے تو سب ہارجاتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں