میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے ڈالرز کی خریداری

 زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے ڈالرز کی خریداری

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے گزشتہ روز اعتراف کیا کہ اس نے گزشتہ تین برسوں میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے مقامی مارکیٹ سے 24 ارب ڈالرخریدے ہیں، اسٹیٹ بینک کا یہ اعتراف نہ صرف حیران کن ہے بلکہ اس سے ہماری زرمبادلے کی صورت حال بھی بڑی حد واضح ہوتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے مقامی مارکیٹ سے ڈالروں کی خریداری سے اگرچہ کاغذی طور پر ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دکھادیا گیا ، مگر اس سے یہ حقیقت بھی بے نقاب ہوگئی ہے کہ اس وقت پاکستان کی بیرونی معاشی استحکام کی بنیادیں کس قدر کمزور ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر کو بنیادی طور پر معیشت کی حقیقی کمائی کی صلاحیت کے ذریعے یعنی برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلاتِ زر کے ذریعے مضبوط ہونا چاہیے لیکن جب کسی مرکزی بینک کو بار بار مقامی مارکیٹ سے ڈالر خرید کر ذخائر کو سہارا دینا پڑے تو دراصل وہ نئی آمدنی پیدا کرنے کے بجائے موجودہ لیکویڈیٹی کو ہی دوبارہ گردش میں لا رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کے معاملے میں ان مداخلتوں کا حجم خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔مارکیٹ سے 24 ارب ڈالر جذب کرنے کا مطلب لازماً یہ ہے کہ ڈالر کی فراہمی مزید محدود ہوگئی ہے اور روپے پر دباؤ برقرار ہے۔ ڈالر کی فراہمی مزید محدود ہونے کے نتیجے میں درآمدات کی لاگت بڑھتی ہے اور پوری معیشت میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ صورتحال جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت وسیع تر معاشی ڈھانچے کے بارے میں کیا ظاہر کرتی ہے۔ استحکام کے اقدامات کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور ایسے بیرونی  سرمائے کو راغب کرنا تھا جو قرض پیدا نہ کرے۔ مگر مرکزی بینک کے اپنے اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے سرمائے کی آمد اب بھی ناکافی ہے، جس کی وجہ سے پالیسی سازوں کو ذخائر برقرار رکھنے کے لیے مارکیٹ آپریشنز پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔لہٰذا پالیسی کا ردعمل صرف قلیل مدتی بیلنس شیٹ کے انتظام تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان کو فوری طور پر ایک قابلِ اعتماد برآمدات پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو  ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کو وسعت دے اور برآمد کنندگان کے لیے توانائی کی قابلِ اعتماد فراہمی کو بہتر بنائے۔ اسی طرح پالیسیوں میں تسلسل  اور ضابطہ جاتی غیر یقینی صورتحال کو کم کر کے مستحکم غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر ضروری درآمدات  کو محدود کرنا اور جہاں ممکن ہو مقامی پیداوار کو فروغ دینا بھی جاری کھاتے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔یہ پیش گوئیاں کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالرتک پہنچ سکتے ہیں اور سال کے اختتام تک 20 ارب ڈالرسے تجاوز کر سکتے ہیں، کچھ حد تک اطمینان ضرور فراہم کریں گی۔ تاہم وہ ذخائر جو بنیادی طور پر مارکیٹ سے ڈالر جذب کر کے بنائے گئے ہوں، بیرونی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں صرف ایک کمزور ڈھال ہی ثابت ہوتے ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں