میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آرمی ایکٹ ترامیم، عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم

آرمی ایکٹ ترامیم، عمران خان کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم

ویب ڈیسک
هفته, ۸ فروری ۲۰۲۵

شیئر کریں

٭ترامیم کے خلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ عدالت کااستفسار
٭سپریم کورٹ آئینی بینچ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں 2023 میں کی گئی ترامیم سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر عائد اعتراضات ختم کر دیے ۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ بینچ نے رجسٹرار آفس کو آئینی درخواست کو باضابطہ نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت کر دی۔عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ترامیم کے خلاف پہلے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ ترامیم سے لوگوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 184/3 میں قوانین کے خلاف درخواستیں مرضی سے ہی سنتی رہی ہے ، جو کیس دل کیا سن لیا جو نہ دل کیا کہہ دیا پہلے ہائی کورٹ جائیں، براہ راست درخواستیں سنتے رہے تو آرٹیکل 199 غیر مثر ہو جائے گا۔وکیل بانی پی ٹی آئی شعیب شاہین نے کہا کہ یہ فیصلہ رجسٹرار نہیں عدالت کر سکتی ہے ۔آئینی بینچ نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل بھی طلب کر لیے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں