محکمہ لائیو اسٹاک میں بے ضابطگی،
شیئر کریں
مچھلی کی خوراک پر21 کروڑ کا خرچ ظاہر
میسرز پرویز ایسوسی ایٹس کو ٹھیکہ جاری ہوا ، میسرز طلحہ انٹرپرائز سے خریداری کروائی،ذرائع
مشترکہ انسپکشن بھی نہیں ہوئی اور ناہی خوراک خریداری کی تصدیق ، تحقیقات کی سفارش
محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ میں کروڑوں کا اسکینڈل سامنے آگیا، 21 کروڑ مچھلی کی خوراک پر خرچ کرنے کا دعوی، ٹھیکہ بھی من پسند کمپنی کو جاری، اعلی حکام نے انکوائری کرنے کی سفارش کر دی۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے اشتراک سے شروع کئے گئے منصوبے ایکسلیریٹڈ ایکشن پلان (فشریز سیکٹر) میں مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نے مچھلی کے مختلف تالابوں کو 21 کروڑ روپے کی خوراک فراہم کرنے کا دعوی کیا، ٹینڈر میں ٹھیکہ میسرز پرویز ایسوسی ایٹس کو جاری کیا گیا لیکن پروجیکٹ کوآرڈینیٹر نے مچھلی کی کروڑوں روپے کی خوراک ایک اور کمپنی میسرز طلحہ انٹرپرائز سے خرید کروائی جس سے کوئی تحریری معاہدہ ہی نہیں کیا گیا جس کے باعث من پسند کمپنی سے اسٹیمپ ڈیوٹی اور ضمانت کی رقم بھی وصول نہ کرنے کے باعث حکومت سندھ کو مالی نقصان ہوا، جبکہ مچھلی کے تالابوں میں خوراک فراہم کرنے کی مشترکہ انسپکشن بھی نہیں کی گئی جس سے مچھلی کو کروڑوں روپے کی خوراک فراہم کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اعلی حکام نے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر(آپ فشریز سیکٹر) اور محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے افسران کو آگاہ کیا کہ منصوبے میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں ہیں جس پر ڈپارٹمنٹل اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا اور پروجیکٹ کوآرڈینیٹر کو ہدایت کی گئی کہ مچھلی کو خوراک کی فراہمی کے وڈیو ثبوت فراہم کئے جائیں لیکن اعلی حکام اس پر مطمئن نہیں ہوئے اور 21 کروڑ روپے کی خوراک مچھلی کے تالابوں کو فراہم کرنے کی انکوائری کرنے کی سفارش کی ہے۔


