مذاکراتی فریم ورک ایک منظم حل فراہم کر سکتا ہے!
شیئر کریں
ایران کو جہنم بنا دینے کی ٹرمپ کی تازہ ترین دھمکیوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر تباہی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد کے مرحلے کے لیے دنیا کے مہلک ترین ‘جاسم ای آر’ (JASSM-ER) اسٹیلتھ کروز میزائلوں کا بڑا ذخیرہ مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ان میزائلوں کو بحر الکاہل کے امریکی اڈوں سے نکال کر سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مراکز اور برطانیہ کی فضائی بیسز پر پہنچایا جا رہا ہے تاکہ ایران کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔
یہ میزائل اپنی خاص ‘اسٹیلتھ’ ٹیکنالوجی کی وجہ سے دشمن کے ریڈار میں آئے بغیر 600 میل سے زیادہ فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے داغنے والا جہاز دشمن کے دفاعی نظام کی زد میں آئے بغیر اپنا کام مکمل کر سکتا ہے۔
ایک جاسم میزائل کی مالیت تقریباً 15 لاکھ ڈالرہے، جو اس ہتھیار کی اہمیت اور قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔ ٹرمپ کے تازہ ترین الٹی میٹم کے ساتھ ہی اسرائیل نے بھی اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ایک اسرائیلی دفاعی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران کی توانائی کی تنصیبات اور بجلی گھروں پر حملے کے لیے تیار ہے اور صرف امریکہ کے گرین سگنل کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ حملے اگلے ایک ہفتے کے اندر متوقع ہیں جن کا مقصد ایران کی معاشی شہ رگ کو کاٹنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر جدید ترین ہتھیاروں کا رخ مشرقِ وسطیٰ کی طرف موڑنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایران کے خلاف ایک بہت بڑا وار کرنے کی تیاری میں ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ کسی ضابطے، اخلاقیات یا عالمی اصولوں کا پابند نہیں۔
وہ ایک نسل کش اور قابض ریاست کے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔جبکہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی پوری فوجی طاقت ختم کردینے کے اعلانات کے باوجود ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے پورے عزم اور طاقت کے ساتھ امریکی حملوں کا مختلف ممالک میں قائم اس کے فوجی اڈوں پر کامیاب حملے کرکے منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔
ایران کے خلاف ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، ایران کے واٹر پلانٹ اور تیل کی تنصیبات پر امریکہ اور اسرائیل کے وحشیانہ حملوں نے مکالمے و سفارت کاری کے مواقع کو کم کر دیا ہے، امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے تازہ حملوں سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے شدید عسکری دباؤ کے باوجود، ایران کی علاقائی حیثیت اور عالمی کردار پر آنچ نہیں آئی، اور ایرانی عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے، جنہیں نہ خطے کی پرواہ ہے، نہ امن کی مسلط کی گئی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے فردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری مراکز پر حالیہ بمباری کے بعداسے شاندار عسکری کامیابی قرار دیا تھا لیکن امریکی تھنک ٹینک ‘اٹلانٹک کونسل’ کے ماہرین نے صدر ٹرمپ کی کامیابی کی اس بڑھک ک کو مسترد کرتے ہوئے اس حملے کو صدر ٹرمپ کی ایک سنگین غلطی قرار دیاہے، 1961 میں قائم ہونے والی ‘اٹلانٹک کونسل’ مغربی دنیا کے تزویراتی بیانیے تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ٹرانس اٹلانٹک پالیسی کی علمبردار سمجھی جاتی ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے اسکوکرافٹ مڈل ایسٹ سیکیورٹی انیشی ایٹو کے ڈائریکٹر جوناتھن پینیکوف نے خبردار کیا ہے کہ اب ایران کی باری ہے، اور انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے دو راستے بتائے، محدود ردعمل یا وسیع تر تصادم۔جوناتھن پینیکوف کا کہنا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں کمزور تو ہوئی ہیں مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں،اور یہ حقیقت امریکی بیانیے کے اس دعوے کو جھٹلاتی ہے کہ یہ مکمل فتح تھی۔
ان کی باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فتح نہیں بلکہ مذاکراتی ناکامی کے بعد طاقت کے استعمال کا اعتراف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایران نے دباؤ میں ہمیشہ ثابت قدمی دکھائی ہے، اطاعت نہیں کی۔سابق سی آئی اے افسر اور اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو ایلن پینو نے کہاکہ اب اس حقیقت کوتسلیم کیاجانا چاہئے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو اپنی قومی شناخت کا حصہ بنا رکھا ہے اور وہ دھمکیوں کے تحت اسے ترک نہیں کرے گا۔
اٹلانٹک کونسل کی سیکورٹی کی ماہر ٹریسا گونوو نے خبردار کیا کہ ایران سائبر حملوں یا پراکسی جنگ کے ذریعے جواب دے سکتا ہے۔اٹلانٹک کونسل کے ایران اسٹریٹجی پروجیکٹ سے وابستہ ڈینی اسٹرینووچ نے متنبہ کیا کہ یہ حملہ جنگ کو ختم کرنے کے بجائے بڑھا سکتا ہے، اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکہ مزید اقدامات کرے، لیکن آبنائے ہرمز کو کھلوانے کیلئے بھیجے جانے والے امریکی بحرے بیڑے کے علاقے سے بھاگ جانے یعنی امریکہ کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد اب اسرائیلی رہنما بھی تذبذب کے شکار ہیں ، جس کا اندازہ اس طرح ہوتاہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پریکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرسکتا ہے اور اسرائیل امریکی آپشن پر غور کررہا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی خبر رساں ادارے ‘وائے نیٹ’ کے معروف صحافی رونین برگمین نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی اداروں کے موجودہ اور سابق سینئر حکام نے بتایا ہے کہ امریکہ ایران کو دیے گئے تازہ ترین سخت ترین حملوں کی دھمکیوں کے باوجود ایران کی جانب سے ڈٹے رہنے کے بعد اب یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کا آپشن بھی زیر غور لا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران اس جنگ بندی کو قبول کرلیتا ہے جس کاامکان کم ہے تو ایران اسے اپنی فتح کے طور پر پیش کرے گا کہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کو جھکنے پر مجبور کردیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی صورت میں امریکہ اور اسرائیل یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ انہوں نے ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ کر دیا ہے، اس طرح یہ آپشن دونوں فریقین کے لیے کشمکش سے نکلنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، ایران نے امریکی حملے کا بھرپور جواب دینے کے انتباہ کو عملی جامہ پہنا کر ایک دفعہ پھر یہ ثابت کردیاہے کہ وہ آسانی سے شکست تسلیم کرنے والا نہیں ہے ۔ ایران کا کہناہے کہ امریکہ نے ایک مہلک غلطی کی ہے، جس نے اسے تباہ کن تشدد کا آغاز کرنے اور اسے بڑھاوا دینے والا ملک ثابت کر دیا ہے۔ امریکی تجزیہ کاروں کی جانب سے گزشتہ دنوں بار بار یہ جملہ دہرایا گیا کہ ایران کی آئی اے ای اے کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کا آغاز کرکے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کے بجائے جنگ کا انتخاب کیا۔یہ امریکہ کی جنگ نہیں ہے، یہ اسرائیل کی جنگ ہے، جو ایک نوآبادیاتی منصوبے کے تحت دانستہ طور پر پھیلائی گئی ہے ، اسرائیل ایک ایسا وجود ہے جو امریکہ کی حمایت، نرمی اور مالی امداد سے چل رہا ہے۔عالمی قوانین کی خلاف ورزی اسرائیل کا معمول بن چکا ہے، لیکن حالیہ اقدامات تو پاگل پن کی حد تک جا پہنچے ہیں، نسل کشی کا آغاز اور اسے جاری رکھنا، اور پھر ایران کے فوجی و جوہری ڈھانچے پر بلااشتعال حملے، تہران نے اپنی ‘‘ریڈ لائنز’’ پہلے ہی واضح کر دی تھیں اور واضح کردیاتھا کہ اگر ان سے تجاوز کیا گیا تو جواب دیا جائے گا۔ نتیجتاً، ایک خطرناک اور غیر ضروری تنازع نے جنم لیا ہے جو پورے مشرق وسطیٰ کو لپیٹ میں لے سکتا ہے اور شاید اس سے بھی آگے بڑھ جائے۔یہ بات بھی واضح ہے کہ یہاں ایران قصوروار نہیں۔ اس کا جوہری پروگرام، جو آئی اے ای اے کی کڑی نگرانی میں ہے اور اب تک ہمیشہ شہری مقاصد تک محدود رہا ہے۔ ایران نے نہ کبھی جنگ کی خواہش کی ہے اور نہ ہی اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ البتہ، بین الاقوامی قوانین کے تحت، ایران کو اپنی خودمختاری اور اپنے عوام کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔اس کے باوجود، صدر ٹرمپ نے اس فوجی کارروائی کو ‘‘شاندار کامیابی’’ قرار دیا۔کامیابی کس کے لیے؟ یقینا امریکی عوام کے لیے نہیں، جو اب ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ وہ قدامت پسند طبقہ جو ٹرمپ کو اقتدار میں لایا، معیشت کے استحکام کی امید رکھتا تھا نہ کہ جغرافیائی سیاسی مہم جوئی کی۔ ان میں سے بہت سے لوگ امن کے خواہاں تھے۔تمام امریکی حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کو جواب دہ نہ ٹھہرانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی مکمل طور پر تل ابیب کے ایجنڈے کے تابع ہو چکی ہے۔
ایران کی جانب سے ان حملوں کو بجا طور پر اقوامِ متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران امریکی حملے کا بھرپور جواب دے گا جس کے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔ پاسداران انقلاب نے امریکی حملوں کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو اپنی کارروائی پر افسوس ہو گا۔جبکہ ٹرمپ بار بار دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر تہران پر مزید طاقت سے حملہ کیا جا سکتا ہے ، اور اسے جہنم بنادیا جائے گا۔اب ایران پر یہ حملہ امریکہ کس انداز میں اور کتنی قوت سے کرتاہے اس کا اندازہ بہت جلد ہوجائے گا۔تاہم امریکہ نے اگر ایران کے خلاف دوبارہ کسی مہم جوئی کا مظاہرہ کیا تو ایران کی جانب سے غیر عسکری امریکی اہداف، جیسا کہ خطے میں امریکی سفارت خانوں، کو بھی ہدف بنایا جا سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ آئل ٹینکروں سمیت بندرگاہوں یا قریبی ممالک، بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت، میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے اور ایک بڑی سطح پر تیل کی منڈی کو نقصان پہنچایا جائے۔
یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں ایران کے حامی عسکری گروہ اس کے کام آ سکتے ہیں اور ان کی مدد سے امریکی اڈوں یا سپلائی کے راستوں پر حملے کیے جا سکتے ہیں جنھیں براہ راست ایران سے نہیں جوڑا جا سکے گا۔ یمن میں حوثی باغیوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی شروع کردی ہیں اور لبنان میں حزب اللہ جسے اسرائیل اپنی دانست میں ختم کرچکا تھا پوری قوت سے دوبارہ سامنے آچکاہے اور اسرائیل میں کئی کامیاب حملے کرکے یہ ثابت کرچکاہے کہ اسرائیل اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی طاقت توڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے۔
امریکہ کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں اور ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلنے اور ایران کو جہنم بنادینے کی دھمکیوں کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس جنگ میں سفارت کاری کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں بچی ہے۔علاقائی سطح پر ایران پر کوئی بھی نیا حملہ نئے مسائل جنم دے سکتا ہے۔ ایران اس حملے کا جواب زیادہ تر بیلسٹک میزائلز، فضائی اڈوں پر حملے، یا مشاورتی گروپوں کے ذریعے حملے کے طور پر دے سکتا ہے۔ لڑائی کی شدت میں اضافہ خطے میں توانائی کی فراہمی اور بحیرہ ٔعرب کے ذریعے سے عالمی تجارت پر منفی اثرات ڈالے گا۔ اسرائیل اور امریکہ کے سخت گیر حکمرانوں کے نقطہ نظر سے ایران کی تنصیبات پر حملہ ایک وقتی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایران اگر جوابی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کرے، تو شمالی اسرائیل میں انسانی ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں اضافہ ہوگا۔شمالی اسرائیل کے بڑے شہروں میں معیشت متاثر ہو سکتی ہے اس صورت حال میں ایک مثبت متبادل راستہ مذاکرات کا ہے۔ امریکہ، چین، روس، یورپی یونین، اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات سے صورتِ حال کا حل ممکن ہے۔
ایران پر پابندیاں نرم کرنے کے عوض عالمی اور علاقائی سیکورٹی کے حوالے سے ضمانتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مذاکراتی فریم ورک ایک منظم حل فراہم کر سکتا ہے، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کا عالمی نگرانی میں واپس آنا، پابندیوں کا جزوی خاتمہ اور علاقائی طاقتوں کے مابین اعتماد سازی شامل ہو۔سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ فوجی حل کبھی مستقل امن یا استحکام لانے والا نہیں رہا۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) اس کی مثال ہے کہ کس طرح مذاکرات قائم ہونے سے اصولی طاقت کے تبادلے ممکن ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ نئی حکمت عملی قومی سلامتی کے اندر مذاکراتی محاذ کو ترجیح دے، تاکہ خطرات کا دائرہ محدود رہے اور انسانی معاشرے کو نقصان نہ پہنچے۔
٭٭٭٭


