میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

ویب ڈیسک
هفته, ۷ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران
لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ابیب کی فضاوں میں ایرانی میزائلوں کے داخل ہونے کی آوازیں گرجنا شروع ہوگئیں،ایرانی فوج کا دعویٰ

جنگ کے ساتویں روز ایرانی پاسداران انقلاب نے کلسٹر بموں سے لیس خیبر شکن میزائل سے تل ابیب پر حملہ کردیا، امریکا نے ایرانی بیلسٹک میزائل کے ذخیرے اور 30 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، امریکا نے حملوں میں ڈرامائی اضافے کا عندیہ دیا ہے، ایران میں شہادتیں 1332 سے تجاوز کر گئیں، لبنان میں شہادتیں 123 ہو گئیں۔روسی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ایک ساتھ درجنوں ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کیا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان کے اہداف کیا تھے اور کتنا جانی یا مالی نقصان پہنچایا گیا، تل ابیب کی فضائی صورتحال براہ راست دکھانے والے کیمرے کو عین اس وقت نیچے کرکے سڑک دکھائی جانے لگی جب تل ابیب کی فضاوں میں ایرانی میزائلوں کے داخل ہونے کی آوازیں گرجنا شروع ہوئیں۔ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے کارروائی کرتے ہوئے 7 اسرائیلی ڈرونز طیارے مار گرائے ہیں۔ایرانی فوج کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک 500 سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جا چکے ہیں جبکہ مختلف اقسام کے 2 ہزار سے زیادہ ڈرونز بھی فائر کیے گئے ہیں، میزائلوں میں سے تقریباً 60 فیصد امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے جبکہ 40 فیصد میزائل اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لیے داغے گئے۔ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کا کہنا ہے کہ وہ ابیب کے قلب میں واقع مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں، حملوں کی 21 ویں لہر میں خیبر میزائل جمعے کو تل ابیب کی طرف فائر کیے گئے۔پاسداران انقلاب کے مطابق حملوں کی نئی لہر کا آغاز ایک مشترکہ میزائل اور ڈرون آپریشن سے ہوا۔جنوبی لبنان میں حزب اللہ نے اسرائیلی فوجی گاڑیوں کے قافلے کو نشانہ بنایا، خیام قصبے کے قریب جھڑپ ہوئی، ادھر پاسداران انقلاب ایران نے کہا ہے کہ ایران نے لمبی جنگ کی تیاری کر رکھی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے کسی کو مذاکرات کے لیے نہیں کہا ہے۔سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں ہی اردن میں جدید ترین تھاڈ سسٹم کا ریڈار تباہ کردیا تھا، متحدہ عرب امارات میں بھی دو مقامات پر تھاڈ ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔تحقیقاتی تجزیے کے مطابق اماراتی ریڈار عمارت کے اندر ہونے کے سبب ٹھیک نقصان کا اندازہ ممکن نہیں جبکہ قطر میں ارلی وارننگ ریڈار سسٹم بھی تباہ کر دیا گیا۔سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے کمیونیکیشن، ریڈار اور جاسوسی آلات کو نشانہ بنا کر ائیر ڈیفنس سسٹم کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں