میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اکرام اللہ خان نیازی

اکرام اللہ خان نیازی

منتظم
اتوار, ۶ نومبر ۲۰۱۶

شیئر کریں

anwaar-haqqi

انوار حسین حقی
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ میانوالی اور اس کے ارد گرد بنوں تک کا علاقہ بلوچستان اور سندھ سے بہت پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا تھا ۔مورخ بلاذری ”فتوح البدان “میں اس علاقے کی مسلمانوں کے ہاتھوں فتح کا ذکر کرتا ہے ۔ طبری اور ابن اثیر نے اس کی تفصیل یوں بیان کی ہے ”اس وقت خراسان کے جنرل آفیسر کمانڈنٹ عبد الرحمان ابنِ سمرہ تھے اور مہلب ابنِ صفرہ ان کے زیرِ کمان افسر تھے ۔ تسخیرِ کابل کے بعد ہندوستان کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے صہلبی لشکر نے بتہ اور الاھوازپر حملہ کیا ۔ مورخین نے” الاھواز“ کو بنوں اور میانوالی کے قریب کا علاقہ بتایا ہے ماضی میں میانوالی کے اس علاقے کو دھنوان ، شنوران ، رام نگر اور ستنام کے ناموں سے بھی پُکارا گیا ہے ۔بعد میں ایک بزرگ حضرت میاں علیؒ کے نام کی نسبت سے اس علاقے کو ”میاں والی “ کا نام ملا ۔۔۔
یہاں نےازی قبائل کی آمد کا سلسلہ ہندستان پر سلطان محمود غزنوی کی ” دستک “ سے شروع ہوتا ہے۔لےکن ان قبائل کی باقاعدہ منظم شکل مےں اس علاقے مےں آمد بہت بعد کی بات ہے۔تارےخ بتاتی ہے کہ نےازےوں کی اکثرےت اوائل مےں غزنی کے جنوبی علاقے مےں آباد تھی ۔ اس علاقے پر انڈروں اور خلجےوں کے آئے دن کے حملوں سے تنگ آکر ےہ لوگ ترک سکونت پر مجبور ہوئے اور صوبہ خےبر پختونخواہ کے علاقہ ٹانک سے ہوتے ہوئے مےانوالی کے علاقہ مےں آئے۔ مےانوالی مےں پٹھانوں کے نےازی قبائل مےں بلو خےل قبےلہ کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ اس قبےلے کے مورث اعلیٰ بلو خان (Baloo Khan ) کا شجرہ نسب سرہنگ نےازی سے جا ملتا ہے۔تارےخی حوالوںسے معلوم ہوتا ہے کہ احمد شاہ ابدالی کے دو امراءکو1748 ءمےں گکھڑوں کے مضبوط قلعے پر ےلغار کے وقت بلو خےل قبےلہ کی مدد حاصل تھی۔ ماضی مےں اس جنگجو قبےلے کے دلےرانہ معرکوں کی شہادت مقامی لوک گےتوں مےں آج بھی ملتی ہے۔تارےخ مےں اےک معرکہ بلو خےل قبےلہ کے اےک سردار سہراب خان کے نام سے منسوب ہے۔ رواےات کے مطابق ” سہراب خان کی زےر قےادت اس قبےلے کے افراد نے غالباً1845 ءمےں موجودہ بلو خےل سے چھ کلو مےٹر مغربی جانب اےک تارےخی لڑائی لڑی۔ اس لڑائی مےں بلو خےل قبےلہ کا سردار سہراب خان تو شہےد ہو گےا ۔ مگر جنگ کے نتےجے مےں لا تعداد سکھ سپاہےوں کی کٹی ہوئی گردنےں(گلو) اور کھوپڑےاں گھوڑوں کے سموں تلے کچلتے کچلتے گارا ( کےچڑ) بن گئےں۔ ےوں اس جائے حرب کا نام ” گلو گارہ “ پڑ گےا۔اب ےہ علاقہ چشمہ بےراج کی تعمےر کی وجہ سے زےر آب آ چکا ہے ۔ “
وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ےہ بڑا قبےلہ سرورخےل، سہراب خےل، بہرام خےل ِ شےرمانخےل،خنکی خےل،پنوں خےل، زادے خےل اور عالم خےل وغےرہ کی الگ الگ شاخوں مےں تقسےم ہو گےا۔شےر مان خےل قبےلہ کے علی شیر خیل اپنی سےاسی وابستگےوںمےں استقامت اور جرائت کے حوالے سے منفرد حےثےت کے حامل ہےں۔
ڈاکٹر محمد عظےم خان شےر مان خےل کے چار بےٹے ظفر اللہ خان نےازی، امان اللہ خان نےازی، کرنل فےض اللہ خان نےازی اور اکرام اللہ خان نےازی تھے۔ اکرام اللہ خان نےازی امپیریل کالج لندن سے فارغ التحصیل تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 1948 ءمیں جب وہ اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے میانوالی واپس آئے تھے تو ریلوے اسٹیشن پر میانوالی کے تمام لوگ ان کے استقبال کے لئے جمع تھے ۔انہوں نے محکمہ پی ڈبلےو ڈی(PWD ) مےں ملازمت اختےار کی۔ وہ پی ڈبلےو ڈی مےں چےف انجےنئر تعےنات تھے تو مےانوالی مےں ان کا خاندان اےوبی آمرےت کے خلاف ڈٹا ہوا تھا۔ا ن کی نفسےات جاننے والوں کے مطابق”اس خاندان کا ہمےشہ سے ےہ امتےاز رہا ہے کہ ےہ لوگ مصےبت مےں گھبرانے کی بجائے اپنے موقف پر ڈٹ جاتے ہیں۔“ قےام پاکستان کی تحرےک کے دوران یہ اپنے علاقے مےں مسلم لےگ کے پشتےبان تھے۔ اکرام اللہ نیازی کا خاندان اور مولانا نےازی ؒ ہمےشہ ےک قالب و ےک جان رہے۔ اےوب خان کے دور مےں یہ خاندان مادرملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کے ہمراہ تھا۔ سابق گورنر مغربی پاکستان ملک امےر محمد خان نواب آف کالاباغ مےانوالی مےں انجےنئر اکرام اللہ خان نےازی کے بھائےوںظفر اللہ خان اور امان اللہ خان اےڈو کےٹ کی سےاسی سر گرمےوں کی وجہ سے ان سے ناراض تھے۔ےہی وجہ تھی کہ اکرام اللہ خان نےازی کو ملازمت سے رےٹائر منٹ لےنا پڑی۔
رےٹائرمنٹ کے بعد اکرام اللہ خان نےازی اور انکی اہلےہ محترمہ شوکت خانم مرحومہ نے اپنے بےٹے عمران خان کی تعلےم و تربےت پر توجہ دی۔ اُن کے بیٹے نے کرکٹ کی دنےا مےں قدم رکھا تو اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت دنےائے کرکٹ کے بادشاہ کہلائے۔ پاکستان کو ورلڈ کپ کا فاتح بناےا۔ بعد میں اپنے والد کی بھرپور سرپرستی مےں سماجی خدمت کے مےدان کا انتخاب کیا ۔ عظےم الشان اور بے مثال ادارے ” شوکت خانم ہسپتال “ کی تعمےر مےں بھی عمران خان کے والد کا بہت نماےاں کردار رہا۔عمارت کی ڈےزائنگ مےںبھی ان کی تجاویز اور مشاورت کا خاصا عمل دخل رہا۔ سماجی خدمت کے مےدان مےں اپنے اکلوتے بےٹے کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اکرام اللہ خان نے عمران خان کو سےاسی مےدان مےں بھی تنہا نہےں چھوڑا۔ جب جنرل محمد ضےاءالحق مرحوم نے عمران خان کو اپنی کابےنہ مےں شامل ہونے کی دعوت دی تو اکرام اللہ خان نے اپنے بےٹے کو منع کر دےا تھا کہ ابھی آپ نے مزےد منزلےں طے کر نا ہےں۔نئی اڑانےں تمہاری منتظر ہےں۔بتایا جاتا ہے کہ آج سیاست میں عمران خان کے سب سے بڑے حرےف مےاں محمد نواز شرےف ( جو کرکٹ کے کھےل سے دلچسپی کے باعث عمران خان نے خصوصی مراسم رکھتے تھے ) نے بھی عمران خان کو اپنی مسلم لےگ مےں شامل ہونے کے عوض مسلم لےگ کی سےنےئر نائب صدارت اور ڈپٹی وزےر اعظم کے منصب کی پےش کش بھی کی تھی۔لےکن اکرام اللہ خان نےازی کی رواےتی خاندانی استقامت اور سےاسی بصےرت نے ان کے بیٹے کو اس پےشکش سے بھی دور رکھا۔اگر عمران خان ےہ پےشکش قبول کر لےتے تو عالمی پہچان رکھنے والا ےہ پاکستانی ہےرو پاکستان کی سےاست کے صلاحےتوں کے قبر ستان مےں دفن ہوجاتا۔1997 ءکے عام انتخابات سے قبل عمران خان نے اپنی سےاسی جماعت کی داغ بےل ڈالی تو اس وقت بھی اکرام اللہ خان نے اپنی علالت اور ضعےف العمری کے باوجود عمران خان کے سےاسی سفر کو تنہا نہےں ہونے دےا اور وقتاً فوقتاً اپنے بےٹے کو اپنے مشوروں سے نوازتے رہنے کے ساتھ ساتھ ہمےشہ استقامت اور جرائت کی تلقےن کرتے رہے۔ اکرام اللہ خان نےازی نے 19 مارچ 2008 ءکو لاہور مےں وفات پائی ۔ان کو انکی وصےت کے مطابق مےانوالی مےں ان کے آبائی قبر ستان مےں دفن کےا گےا۔ اکرام اللہ خان نےازی نے ہمےشہ عمران خان کو اقبالےات کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی۔ وہ اکثر اپنے بےٹے کو اقبال ؒ کی زبان مےں کہا کرتے تھے کہ ” توُ رہ نوردِ شوق ہے منزل نہ کر قبول “
عمران خان کو اقبالیات سے جوڑنے میں ان کے والد کا بڑا حصہ ہے ۔عمران خان نے علامہ اقبال ؒ کے کلام کا مطالعہ کےا تو روشنی کی بے کنار وسعتوں کا ادارک ہوا۔اکرام اللہ خان نیازی مرحوم کا گھرانہ سماجی خدمت کے میدان میں اپنی خدمات کے حوالے سے محسنین پاکستان کی صفوں میں شامل ہو چُکا ہے ۔ گذشتہ دنوں ایک ملاقات کے دوران عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ ڈاکٹر عظمیٰ حق نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا تھا کہ ©© ” ہم چاروں بہنیں اور بھائی اپنے والد کی اس ہدایت پر ہر صورت میں عمل کرتے ہیں کہ جو غلط ہے اُسے غلط کہا جائے اور کسی قیمت پر بھی سیاہ کو سفید کہنے کے لیئے تیار نہیں ہوتے ۔ میانوالی کے اکرام اللہ خان نیازی مرحوم نے 23 مارچ 1940 ءکو لاہور کے منٹو پارک میں قائد اعظم ؒ کی زیرصدارت جلسے میں شرکت کرکے جو عہد کیا تھا اُس عہد کی پاسداری کیلئے انہوں نے ہمیشہ اپنی اولاد کو ہدایت کی جس کی بدولت اُنکے خانوادے کے اُجلے کردار نے اہلِ پاکستان کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔اور دریائے سندھ کے کنارے میانوالی کے تاریخی اور قدیم قبرستان میں موجود اکرام اللہ نیازی کی مرقد ہمیشہ لوگوں کی دعاو¿ں کی بدولت اللہ پاک کی رحمتوں کا مرکز بنی رہے گی ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں