سندھ بلڈنگ،پی ای سی ایچ ایس کمرشل پورشن یونٹس کے نام پر رہائشی علاقہ تباہ
شیئر کریں
بلاک 2پلاٹ 6Vاور 27Bپر تعمیرات لاقانونیت،بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب کی مافیا سے ساز باز
درخواستوں کے ڈھیر ، محکمہ خاموش ،کارروائی نہ ہونے پر مافیا کے حوصلے بلند ہو گئے، علاقہ مکین
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کے رہائشی پلاٹوں 6V اور 27B پر کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیرات نے رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔ تعمیراتی مافیا اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے درمیان مبینہ ساز باز کے باعث مجاز نقشوں کے برعکس یہ غیر قانونی تعمیرات رات دن جاری ہیں اور کوئی بھی ادارہ انہیں روکنے کی ہمت نہیں کر رہا۔ذرائع کے مطابق بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان پر الزام ہے کہ وہ تعمیراتی مافیا سے ساز باز کر کے ان غیر قانونی کاموں پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بار بار ایس بی سی اے اور ڈپٹی کمشنر شرقی کو تحریری درخواستیں دیں، لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے پر مافیا کے حوصلے اور بلند ہو گئے ہیں۔رہائشیوں کے مطابق ان کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر سے نہ صرف رہائشی علاقے کی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے بلکہ واٹر سپلائی، سیوریج، اور بجلی کے نظام پر بھی اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ۔ ٹریفک جام تو معمول بن چکا ہے ، جبکہ پارکنگ کے لیے جگہیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان تعمیرات کو روک کر منہدم نہ کیا گیا تو پورا علاقہ بے ہنگم کمرشل ایریا میں بدل جائے گا۔شہریوں نے وزیر بلدیات سندھ سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی نوٹس لیں اور بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کے خلاف فوری کارروائی کریں، ان غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کروائیں، اور تعمیراتی مافیا کے خلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کریں۔ رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کا یہ مطالبہ جلد پورا نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی دھرنے دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔دوسری جانب ایس بی سی اے حکام کا مؤقف ہے کہ انہیں ابھی تک اس معاملے کی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی اور جب شکایت آئے گی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ تاہم رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان کی درخواستوں کی رسیدیں موجود ہیں اور یہ محکمے کی طرف سے معاملہ گھسیٹنے کی کوشش ہے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پی ای سی ایچ ایس میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف شہریوں نے متعدد بار آواز اٹھائی، لیکن بدعنوان افسران اور تعمیراتی مافیا کی ساز باز کے باعث آج تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہو سکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر بلدیات اس بار شہریوں کی فریاد پر کیا جواب دیتے ہیں۔


