میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غنڈہ ریاست

غنڈہ ریاست

ویب ڈیسک
جمعه, ۶ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

دنیا بھر کو ایک سوال کا سامنا ہے کہ عالمی بدمعاش ریاست امریکا آخر باقی قوموں کے ساتھ کب سکون سے رہنا سیکھے گی؟

اس کا ایک سادہ جواب یہ بھی ہے کہ دنیا کی غیر نمائندہ حکومتیں اپنے عوام کے مزاج کے برخلاف جب امریکی صدور کا احترام کرنا چھوڑیں گی۔ جب جنگوں کے سوداگر جنونیوں کو امن کے نوبل انعام کی نامزدگیوں کی ذلت آمیز روش ترک کرے گی۔ اس غیر معمولی عمل کو تاریخی طور پر ایک معمول بنا دیا گیا ہے کہ امریکا کی ہر بدمعاشی دنیا گوارا کر لیتی ہے، یہاں تک کہ ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی بمباری بھی۔

امریکا دنیا بھر میں من مانیاں کرتا ہے۔ بدمعاش ریاست کی معمول کی سرگرمیوں میں جنگیں، حملے، حکومت کی تبدیلی، بغاوت، تخریب کاری اور کمزور ممالک کے رہنماؤں کا قتل، اغوا یا گرفتاریاں شامل ہیں۔ امریکا نے 1776ء کے منحوس سال میں اپنے قیام سے اب تک مقامی ریڈ انڈینز (سرخ ہندی)سے برسوں جنگیں لڑیں اور دسیوں لاکھوں لوگوں کو تہہ تیغ کیا۔ افریقی باشندوں کو غلام بنانے کے لیے قائم ادارے نے دس ملین سے زیادہ افراد ہلاک کیے۔ امریکا کی میکسیکو سے جنگ ( 1846-48 )اور ٹیکساس کے الحاق سمیت میکسیکو کی تقریباً نصف حصے کو ضم کرنے کا مجرمانہ عمل اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ مستند عالمی شماریاتی جائزے واضح کرتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی حکومت نے کم وبیش تیس ملین افراد کو ہلاک کیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم (1939-1945)کے بعد سے ہر چند سال بعد امریکا نے کسی چھوٹی اور کمزور قوم پر حملے کو ایک معمول بنا لیا ہے۔ جس کے بہانے الگ اور مقاصد الگ ثابت ہوتے رہے ہیں۔ امریکی جنگ کے مقاصد میں ہمیشہ دوسرے ممالک کی زمین اور وسائل (تیل وغیرہ) پر قبضہ شامل رہا ہے، یا پھر مخالف حکومتوں کا خاتمہ اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں عمران خان حکومت کا خاتمہ امریکی سرپرستی کا نتیجہ تھا۔ وینزویلا میں زیادہ برہنہ طور پر صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو اپنے ہی ملک سے اغوا کر لیا گیا۔ امریکا نے دسمبر 1989ء میں پاناما کے صدر نوریگا کو بھی ایک فوجی آپریشن کے ذریعے اغوا کر لیا تھا۔ کچھ نیا نہیں ہے، کچھ بھی نیا نہیں۔

رجیم چینج آپریشن بدمعاش امریکا کی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ اس غنڈہ ریاست نے 1953ء میں ایران کے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مصدق کا تختہ اُلٹ دیا، گوئٹے مالا کے منتخب صدر جیکوبو آربینز کا 1954 میں یہی انجام ہوا، ویتنامی صدر نگو ڈِنہ دِیِم (Ngo Dinh Diem) کو نومبر 1963ء میں سی آئی اے کی حمایت یافتہ ایک فوجی بغاوت کے ذریعے قتل کرا دیا گیا۔ کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترو کو قتل کرنے کی آٹھ مختلف کو ششیں کیں۔ یہ سیاہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ امریکا ایک مجرم ریاست ہے، جس کا انحصار عالمی برادری میں کسی وقار یا اعتبار پر نہیں بلکہ برہنہ بدمعاشی پر ہے۔ امن اس کی ترجیح نہیں، دنیا کی باقی قوموں کے ساتھ اس کا تعلق غلبہ پانے کی نفسیات سے ہے، جس کے لیے جنگ کا ہتھیار استعمال کرنا معمول ہے۔ ابھی امریکا کی ویتنام، پانامہ، عراق، افغانستان اور لیبیا میں مجرمانہ جنگوں کے نظارے حافظوں کا حصہ ہیں۔ ایران پر امریکی حملہ اسی مجرمانہ تاریخ میں ایک نیا اضافہ ہے۔

اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا قتل بھی امریکی تاریخ کا کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ عالمی رہنماؤں کے قتل کی مثالیں بھی امریکی تاریخ میں بکثرت میسر ہیں۔ چلی کے سلواڈور ایلینڈے کے خلاف فوجی بغاوت کرائی گئی اور قتل کے خوف ناک منصوبے کے ساتھ اُن کا گھیراؤ کیا گیا یہاں تک کہ اُنہوں نے خودکشی کا فیصلہ کیا۔ 11ستمبر، 1973 کے یہ تمام واقعات درحقیقت امریکی منصوبے کے تحت اُن کے قتل کے منصوبے کا حصہ تھے۔ ایکواڈور کے مقبول رہنما جیمی رولڈوس کو 24مئی 1981ء کو ایک خوفناک حادثے میں موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ جمہوریہ کانگو کے پہلے وزیر اعظم اور افریقی قوم پرست رہنما پیٹریس لومومبا کو بھی 17جنوری 1961ء کو وحشیانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا گیا۔ امریکی سی آئی اے نے اپنے منصوبوں میں رکاوٹ بننے والے چلی کے آرمی چیف رین شنیڈر کو25 اکتوبر1970 ء کو ایک حملے میں موت کی نیند سلا دیا۔ کیوبا کے چی گویرا اسی داستان کا حصہ بنے۔ اطاعت نہ کرنے والا ہر شخص سفاک امریکی سلطنت کا شکار ہوا۔

موت کا سودا گر امریکا دنیا میں قتل و غارت گری کے لیے بھاری بھرکم جنگی مشینری کی تیاری میں ہمہ وقت رہتا ہے۔ امریکا ا یک کھرب ڈالر کے قریب عالمی دفاعی بجٹ کا تقریباً 40 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، اس کے بعد آنے والے نو ممالک کا مجموعی بجٹ بھی اس سے کہیں زیادہ کم ہے۔ اب یہ احساس امریکی شہریوں کو بھی ہونے لگا ہے کہ اتنے بھاری بھرکم بجٹ کے ساتھ موت بانٹنے والا اُن کا اپنا ملک اسرائیل کے لیے بھی جنگیں لڑتا ہے۔ اسرائیل کے لیے ہی 2003کی عراق جنگ کی گئی تھی۔ اور اب 28 فروری 2026 کو ایران جنگ بھی اسرائیل کی ایماء پر ہی شروع کی گئی ہے۔ ایسے شواہد موجود ہیں کہ صیہونی ارب پتی شخصیات نے ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس تک اسی مقصد کے لیے پہنچایا تھا۔ ایران اب مشرقِ وسطیٰ میں واحد ملک باقی رہ گیا تھا جو اسرائیل کے مقابل آ سکتا تھا۔ چنانچہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی ترتیب ِ نو کے مکروہ منصوبے کے ساتھ صیہونی کھیل کا امریکی صدر ٹرمپ حصہ بن چکے ہیں۔ عالمی اشرافیہ کے گھناؤنے پن کو بے نقاب کرنے والی ایپسٹین فائلزکو اسی دباؤ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

ایپسٹین زدہ نوم چومسکی کو نہیں ولیم بُلم کو یاد کیجیے، امریکا کے خلاف مزاحمت کی آواز اسامہ بن لادن نے کبھی اُن کی کتاب ”روگ اسٹیٹ ” (Rogue State) کا حوالہ دیا تھا جوسفاک امریکا کی طرف سے حکومتوں کے تختے اُلٹنے، سربراہان کو قتل کرنے اور ریاستوں کے سیاسی نقشوں کی تبدیلی کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ ولیم بُلم نے ایک جگہ لکھا ہے:”امریکا نے 1945 سے 2003 تک 40 سے زیادہ غیر ملکی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، اور ناقابل برداشت حکومتوں کے خلاف لڑنے والی 30 سے زیادہ مقبول تحریکوں کو کچلا۔ اس عمل میں، امریکہ نے تقریباً 25 ممالک پر بمباری کی، جس سے کئی ملین لوگوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہوا”۔

ہم نے حالیہ برسوں میں عمران خان کو کچلنے کی کوششوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ فارم 47 کی غیر نمائندہ حکومت کو لاکھوں انسانوں کے قتل کے ذمہ دار ملک کے صدر کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرتے دیکھا ہے۔ اورنوبل انعام کے لیے نامزد صدر ٹرمپ کو ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کا فخریہ اعلان کرتے سنا ہے۔ سوال وہی ہے، عالمی بدمعاش ریاست امریکا آخر باقی قوموں کے ساتھ کب سکون سے رہنا سیکھے گی؟ جواب بھی وہی، غیر نمائندہ حکومتیں امریکی صدر کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا کب چھوڑیں گی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ غیر نمائندہ حکومتیں اپنے عوام کی جان کب چھوڑیں گی۔ آخر ان سب کے درمیان ایک گہرا نامیاتی تعلق جو موجود ہے۔ یقین نہ ہو تو ولیم بُلم کی کتاب ”روگ اسٹیٹ” کا مطالعہ فرمائیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں