
سیکیورٹی کا مسئلہ،سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ کا علاقہ حساس قرار
شیئر کریں
٭ہزاروں کی تعداد میں روز آنے والے وکلاء اور سائلین عدم تحفظ کا شکار ہو گئے
٭جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں دہشت گرد داخل ہوسکتے ہیں، رپورٹ میں انکشاف
( رپورٹ: سید مظفر حسین عسکری)سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ کو حساس قرار دے دیا گیا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے وکلاء اور سائلین عدم تحفظ کا شکار کراچی بار کے صدر نے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا ۔تفصیلات کے مطابق انتہا ئی باخبر ذرائع کے مطابق ایک حساس ادارے نے وزارت قانو ن کو سٹی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ ملیر کی سیکیورٹی سے متعلق بھیجی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ دونوں عدالتیں غیرمحفوظ ہیں جبکہ مذکورہ عدالتوں کے مرکزی دروازوں پر واک تھرو گیٹ نصب ہونے کے باوجود غیر متعلقہ اور جرائم پیشہ عناصر کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور وہاں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار رشوت کے عوض ، چرس، ہیروئن اور گٹکا، ماوا لے جانے کی بھی اجازت دے دیتے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ میں جیلوں سے آنے والے قیدیوں کو نشہ آور اشیاء کی فروخت بھی جاری رہتی ہے جبکہ نشہ آور اشیاء فروخت میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کی کورٹ پولیس اہلکار سہولت کاری کا کام انجام دیتے ہیں اور ان سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کی آڑ میں دہشت گرد داخل ہوسکتے ہیں جبکہ عدالتوں میں آنے والے روزانہ ہزاروں وکلاء اور سائلین عدم تحفظ کا شکا ر ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی سٹی کورٹ میں بم دھماکا فائرنگ اور قتل کے متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔ اور اگر سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ میں ہنگامی بنیادوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نہ کئے گئے تو کوئی بھی نا خوش گوار واقع ہوسکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق وزارت قانون نے رپورٹ کی روشنی پر عمل کرتے ہوئے سٹی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ ملیر میں حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے لئے آئی جی سندھ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سمیت دیگر اعلیٰ حکمران کو مطلع کردیا ہے ۔جبکہ دوسری جانب کراچی بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر عامر نواز وڑائچ ایڈوکیٹ نے نمائندہ جرأت سے بات چیت کرتے ہوئے خصوصاً سٹی کورٹ میں سیکیورٹی کے معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کئی مرتبہ آئی جی سندھ سمیت چیف جسٹس سند ھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بھی اطلاع کرچکے ہیں کہ سٹی کورٹ میں جرائم پیشہ اور غیر متعلقہ لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس کی وجہ سے وکلاء اور سائلین عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ میں حفاظتی اقدامات سخت کیے جائیں۔