فیک نیوز ۔۔ خبر کی اصلاح، معلومات کا حق یا اختلافِ رائے کی نگرانی؟
شیئر کریں
نجم انوار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(قسط اوّل)
٭اگر کسی خبر کو فیک نیوز قرار دینے کا اختیار بھی اسی نظام کے پاس ہو جس کے بارے میں خبر شائع ہوئی ہے ، تو پھر خبر کی تصدیق اور خبر کی تردید کے درمیان آزادانہ لکیر کہاں قائم ہوگی؟
٭25 ؍ستمبر 2026کو محکمہ اطلاعات سندھ کے اجلاس میں فیک نیوزکی نگرانی، این سی سی آئی اے، سے تعاون بڑھانے اور قانونی کارروائی کی خبر سامنے آئی ہے،سوال یہ ہے اس اختیار کی نگرانی کون کرے گا؟
٭اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیک نیوز کے خلاف کارروائی کس طریقۂ کار کے تحت ہوگی؟کیا تعریف واضح ہوگی؟کیا خبر اور رائے میں فرق رکھا جائے گا؟کیا طنز اور طنزیہ تبصرہ بھی فیک نیوز بن جائے گا؟
٭یونیسکوبھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم حکمرانی کے لیے شفافیت، جواب دہی، انسانی حقوق اور آزادانہ نگرانی جیسے اصولوں پر زور دیتا ہے ،یعنی قانون موجود ہونا کافی نہیں،قانون کیسے استعمال ہوتا ہے ، یہ بھی اتنا ہی اہم ہے
٭ایک طرف فیک نیوز کی نگرانی، دوسری طرف حقِ معلومات کا محافظ سربراہ سے محروم۔سندھ انفارمیشن کمیشن کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ پر چیف انفارمیشن کمشنر کی جگہ ‘Vacant’درج ہے
٭ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سابق چیف انفارمیشن کمشنر ڈاکٹر جاوید علی کی مدتِ عہدہ فروری 2026میں ختم ہوئی۔یعنی ستمبر 2026تک یہ اہم عہدہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے خالی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اصل سوال یہ نہیں کہ فیک نیوز ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ فیک نیوز کا فیصلہ کون کرے گا؟
جھوٹی خبر کوئی نئی مصیبت نہیں۔اخبارات کے زمانے میں بھی غلط خبریں پھیلتی تھیں، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں بھی افواہیں گردش کرتی تھیں، اور سوشل میڈیا نے تو ایک غلط دعوے کو چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچانے کی رفتار پیدا کردی ہے ۔لہٰذا جھوٹی، گمراہ کن یا دانستہ طور پر گھڑی گئی معلومات کے خلاف ریاست، میڈیا، پلیٹ فارمز اور معاشرے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔لیکن جدید معلوماتی دنیا میں اصل خطرہ صرف جھوٹی خبر نہیں۔ایک دوسرا سوال اس سے کہیں زیادہ بنیادی ہے :اگر کسی خبر کو فیک نیوز قرار دینے کا اختیار بھی اسی نظام کے پاس ہو جس کے بارے میں خبر شائع ہوئی ہے ، تو پھر خبر کی تصدیق اور خبر کی تردید کے درمیان آزادانہ لکیر کہاں قائم ہوگی؟یہی سوال سندھ حکومت کے حالیہ فیصلے کے بعد اٹھنا چاہیے ۔

شرجیل میمن کے زیرصدارت ایک اجلاس میں فیک نیوز کی نگرانی سے متعلق فیصلہ کیا گیا
25 ؍ستمبر 2026کو سندھ کے محکمہ اطلاعات کے اجلاس میں فیک نیوز، غلط اور گمراہ کن معلومات کی روک تھام، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے میڈیا مانیٹرنگ، اور سندھ حکومت کے مثبت اور تعمیری بیانیے کو مؤثر بنانے پر فیصلوں کی اطلاع سامنے آئی۔ اسی اجلاس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی این سی سی آئی اے، سے تعاون بڑھانے اور فیک نیوز بنانے یا پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے معاونت لینے کی ہدایت بھی رپورٹ ہوئی۔بظاہر یہ ایک انتظامی اقدام ہے ۔لیکن تحقیقاتی صحافت کا کام صرف بظاہر کو دیکھنا نہیں ہوتا۔اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ ‘اختیار کہاں پیدا ہو رہا ہے ، اختیار کس کے پاس جارہا ہے ، اس اختیار پر نگرانی کون کرے گا، اور اگر اختیار غلط استعمال ہو تو شہری کہاں جائے گا’؟
- یونیسکوبھی اطلاعاتی انتشار، غلط معلومات اور دانستہ گمراہ کن معلومات کے مسئلے کو تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن اس کا تجویز کردہ راستہ محض ریاستی نگرانی نہیں بلکہ ‘کثیر فریقی نظام’ہے ، جس میں ریاست، میڈیا، سول سوسائٹی، ماہرین، پلیٹ فارمز اور دیگر متعلقہ فریق شامل ہوں۔ یونیسکو کے مطابق فیک یا گمراہ کن مواد سے نمٹتے ہوئے آزادئ اظہار اور معلومات تک رسائی کا تحفظ بھی بنیادی اصول رہنا چاہیے ۔یعنی مسئلہ فیک نیوز کے خلاف کارروائی یا آزادئ اظہار میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں۔
فیک نیوز کے خلاف کارروائی اصولاً غلط نہیں
یہ بات ابتدا ہی میں واضح ہونی چاہیے کہ فیک نیوز کے خلاف کارروائی کو بذاتِ خود آزادئ اظہار کے خلاف قرار دینا درست نہیں۔ دانستہ جھوٹی معلومات، مالی فراڈ، جعلی دستاویزات، تشدد پر اکسانے والی اطلاعات، کسی فرد کی شہرت یا جان کو حقیقی نقصان پہنچانے والی جھوٹی مہمات اور عوامی سلامتی کو متاثر کرنے والی من گھڑت اطلاعات حقیقی مسائل ہیں۔
یونیسکوبھی اطلاعاتی انتشار، غلط معلومات اور دانستہ گمراہ کن معلومات کے مسئلے کو تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن اس کا تجویز کردہ راستہ محض ریاستی نگرانی نہیں بلکہ ‘کثیر فریقی نظام’ہے ، جس میں ریاست، میڈیا، سول سوسائٹی، ماہرین، پلیٹ فارمز اور دیگر متعلقہ فریق شامل ہوں۔ یونیسکو کے مطابق فیک یا گمراہ کن مواد سے نمٹتے ہوئے آزادئ اظہار اور معلومات تک رسائی کا تحفظ بھی بنیادی اصول رہنا چاہیے۔ یعنی مسئلہ فیک نیوز کے خلاف کارروائی یا آزادئ اظہار میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیک نیوز کے خلاف کارروائی کس طریقۂ کار کے تحت ہوگی؟ کیا تعریف واضح ہوگی؟ کیا خبر اور رائے میں فرق رکھا جائے گا؟ کیا طنز اور طنزیہ تبصرہ بھی فیک نیوز بن جائے گا؟ کیا کسی سرکاری دعوے سے اختلاف کو غلط خبر سمجھا جائے گا؟کیا کسی خبر کی تردید سے پہلے اصل دستاویز طلب کی جائے گی؟ کیا متعلقہ صحافی یا ادارے کو جواب دینے کا موقع ملے گا؟کیا آزادانہ نظرثانی کا حق ہوگا؟اور
سب سے اہم اگر الزام حکومت ہی سے متعلق ہو تو حکومت خود اس خبر کی غیر جانب دار منصف کیسے بنے گی؟
غلط خبر اور ناپسندیدہ خبر ایک چیز نہیں
یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے ۔غلط خبر،وہ ہوسکتی ہے جس کی بنیادیعنی حقیقی دعویٰ شواہد سے غلط ثابت ہوجائے ۔لیکن ‘حکومت پر تنقید’، کسی سرکاری فیصلے پر سوال، کسی منصوبے پر اعتراض، سرکاری اعداد و شمار کی آزادانہ جانچ، یا کسی عوامی عہدیدار سے جواب طلبی خود بخود فیک نیوز نہیں بن جاتی۔ایک صحافی کا سوال غلط ہوسکتا ہے ۔ ایک تجزیہ غلط ہوسکتا ہے ۔ایک خبر میں غلطی ہوسکتی ہے ۔ہو سکتا ہے کہ ایک الزام ثابت نہ ہو سکے ۔لیکن ان سب کو ایک ہی لفظ ‘فیک نیوز’ میں ڈال دینا خطرناک حد تک وسیع دائرہ پیدا کرسکتا ہے ۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول بھی اسی نکتے پر زور دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے آزادئ اظہار سے متعلق ماہرین نے واضح کیا ہے کہ جھوٹی خبر جیسے مبہم اور غیر واضح تصورات پر عمومی پابندیاں آزادئ اظہار کے بین الاقوامی معیار سے مطابقت نہیں رکھتیں؛ پابندی ہو تو اس کے لیے واضح قانونی بنیاد، جائز مقصد، ضرورت اور تناسب کا معیار پورا ہونا چاہیے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹی معلومات کو کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی اختیار کو بھی تعریف، ثبوت اور طریقہ ٔ کار کا پابند ہونا چاہیے ۔

سندھ انفارمیشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر چیف انفارمیشن کمشنر کی جگہ "ویکینٹ” لکھا ہے
سندھ حکومت کا اپنا دعویٰ بھی اسی سوال کو جنم دیتا ہے
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ سندھ حکومت کے محکمہ اطلاعات کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق محکمہ اطلاعات کی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ عوامی آگاہی کے لیے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔اور 25؍ ستمبر کے اجلاس کی رپورٹ میں بھی واضح طور پر کہا گیا کہ عوام کو درست، مستند اور بروقت معلومات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔یہ ایک مثبت اصول ہے ۔مگر یہی اصول اگلا سوال پیدا کرتا ہے :اگر حکومت درست اور مستند معلومات کی فراہمی اتنی اہم سمجھتی ہے تو معلومات تک شہریوں کی رسائی کے قانونی نظام کو کتنا مؤثر بنایا گیا ہے ؟یہ سوال ہمیں ایک ایسے ادارے تک لے جاتا ہے جسے اس پوری بحث کے مرکز میں ہونا چاہیے ۔سندھ انفارمیشن کمیشن۔ ایک طرف فیک نیوز کی نگرانی، دوسری طرف حقِ معلومات کا محافظ سربراہ سے محروم۔ سندھ انفارمیشن کمیشن کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ پر چیف انفارمیشن کمشنر کی جگہ ‘Vacant’درج ہے۔ اسی سرکاری ریکارڈ کے مطابق سابق چیف انفارمیشن کمشنر ڈاکٹر جاوید علی کی مدتِ عہدہ فروری 2026میں ختم ہوئی۔ یعنی ستمبر 2026تک یہ اہم عہدہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے خالی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی خالی جگہ نہیں۔
سندھ کے حقِ معلومات کے قانون کا مقصد ہی سرکاری اداروں کے زیرِ اختیار معلومات تک شہریوں کی رسائی، شفافیت اور حکومتی جواب دہی کو مضبوط کرنا ہے۔ خود قانون کے دیباچے میں معلومات تک رسائی کو شفافیت، جمہوری شرکت اور حکومت کو جواب دہ بنانے سے جوڑا گیا ہے۔ اور کمیشن کی اپنی ویب سائٹ اس کا مقصد یوں بیان کرتی ہے کہ شہریوں کے حقِ معلومات کو فروغ، تحفظ اور نافذ کیا جائے اور اداروں کو جواب دہ بنایا جائے۔ یہاں ہماری تحقیق کا ایک انتہائی اہم تضاد سامنے آتا ہے۔ ریاستی نظام ایک طرف یہ طے کرنے کے لیے نگرانی کا نظام مضبوط کررہا ہے کہ کون سی خبر غلط ہے ،دوسری طرف شہریوں کے حقِ معلومات کے نفاذ کے لیے قائم کمیشن کی سربراہی چھ ماہ سے زائد عرصے سے خالی ہے ۔کیا یہ محض اتفاق ہے ؟کیا سندھ حکومت اس کا جواب دے گی؟
اصل تضاد:معلومات دینا یا معلومات کو قابو کرنا؟
یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے ۔ یہ کہنا کہ ‘سندھ حکومت کو معلومات کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں’موجودہ دستاویزات کی بنیاد پر بہت قطعی دعویٰ ہوگا، کیونکہ حکومت خود بروقت اور مستند معلومات کی فراہمی کی بات کررہی ہے۔ لیکن تحقیقاتی سوال اس سے زیادہ مضبوط ہے: حکومت کی ترجیح معلومات فراہم کرنا ہے یا معلومات کے بہاؤ کو منظم کرنا؟ اور اس سوال کا جواب نعروں سے نہیں بلکہ اداروں کے عملی رویے سے نکلے گا۔اگر حکومت واقعی شہریوں کو درست معلومات دینا چاہتی ہے تو پھر:
٭ معلومات تک رسائی کے قانون پر مؤثر عمل کیوں نہ ہو؟
٭ شہریوں کی شکایات سننے والے ادارے مضبوط کیوں نہ ہوں؟
٭چیف انفارمیشن کمشنر کی تعیناتی میں تاخیر کیوں ہو؟
٭سرکاری ریکارڈ کی بروقت فراہمی کا نظام کتنا مؤثر ہے ؟
٭عوامی ادارے کتنی معلومات ازخود شائع کرتے ہیں؟
٭معلومات روکنے والے افسران کے خلاف کتنی کارروائی ہوتی ہے ؟
٭اور سب سے اہم:حکومت کے بارے میں شائع ہونے والی خبر کو غلط قرار دینے سے پہلے حکومت خود کتنی مکمل، مستند اور قابلِ جانچ معلومات فراہم کرتی ہے ؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں۔ یہ حکمرانی کے معیارکا سوال ہے ۔
- اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی پاکستان کے بارے میں آزادئ اظہار، آن لائن پابندیوں، صحافیوں اور ناقدین سے متعلق قانونی تحفظات اور مؤثر نگرانی کی ضرورت پر تشویش ظاہر کی ہے ۔اس پس منظر میں سندھ حکومت کا نیا اقدام ایک معمولی انتظامی خبر نہیں رہتا۔یہ ایک بڑے سوال کا صوبائی نمونہ بن سکتا ہے :پاکستان میں فیک نیوز کی تعریف کون کرے گا، اس کی تصدیق کون کرے گا، اس کا فیصلہ کون کرے گا اور اس فیصلے کے خلاف شہری کہاں جائے گا؟
فیک نیوز کا اختیار اور معلومات کا حق دونوں ایک ساتھ کیوں ضروری ہیں؟
ایک صحت مند اطلاعاتی نظام میں صرف خبر کی نگرانی نہیں ہوتی۔اس میں کم از کم دو متوازی ستون ہوتے ہیں۔
پہلا ستون:غلط، دانستہ گمراہ کن اور نقصان دہ معلومات کی نشاندہی۔
دوسرا ستون:عوام کو اصل، مستند اور قابلِ تصدیق معلومات تک آسان رسائی۔
اگر پہلا ستون بہت مضبوط ہو اور دوسرا کمزور، تو ریاست کے پاس شہری کو یہ بتانے کی طاقت تو ہوگی کہ ‘یہ خبر غلط ہے’، مگر شہری کے پاس یہ جاننے کا مؤثر ذریعہ کمزور ہوسکتا ہے کہ ‘صحیح خبر کیا ہے ’؟
یہی وہ مقام ہے جہاں طاقت اور معلومات کے درمیان تعلق اہم ہوجاتا ہے ۔کیونکہ کسی خبر کو غلط ثابت کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ اکثر گرفتاری نہیں ہوتا۔اصل سرکاری دستاویز سامنے لانا ہوتا ہے ۔اصل فائل جاری کرنا ہوتی ہے ۔ اعداد و شمار شائع کرنا ہوتے ہیں۔ ٹینڈر کھولنا ہوتا ہے۔ معاہدہ دکھانا ہوتا ہے۔ آڈٹ رپورٹ عوام کے سامنے رکھنا ہوتی ہے۔ انکوائری رپورٹ فراہم کرنا ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلے کا مکمل متن سامنے لانا ہوتا ہے۔ اور صحافی کو کہنا ہوتا ہے :یہ رہی اصل دستاویز، اب آپ خود فیصلہ کرلیجیے۔ یہی شفافیت فیک نیوز کے خلاف سب سے مضبوط دفاع ہوسکتی ہے۔
اگر خبر غلط ہے تو اسے ثبوت سے غلط ثابت کریں
یہاں حکومت کے لیے ایک نہایت سادہ مگر بنیادی اصول سامنے آتا ہے :اگر خبر غلط ہے تو خبر کو خاموش کرانے سے پہلے اصل معلومات جاری کیجیے۔ اگر کسی منصوبے کے بارے میں غلط اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں تو اصل مالی ریکارڈ جاری کیجیے۔ اگر کسی افسر کے بارے میں غلط الزام لگایا گیا ہے تو متعلقہ سرکاری دستاویز سامنے لائیے۔ اگر کسی ترقیاتی منصوبے میں مبینہ بے قاعدگی کی خبر غلط ہے تو ٹینڈر، معاہدہ، ادائیگی، تکمیل اور آڈٹ کا ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیے۔ اگر کسی زمین کے بارے میں خبر غلط ہے تو ملکیت، انتقال، لیز، الاٹمنٹ اور نقشہ جاری کیجیے۔ اگر کسی سرکاری فیصلے کے بارے میں خبر غلط ہے تو نوٹیفکیشن دکھائیے۔ شفاف حکومت کو فیک نیوز سے لڑنے کے لیے سب سے پہلے اپنے ریکارڈ پر اعتماد ہونا چاہیے۔
لیکن اگر خبر درست ہو؟
یہ سوال اس پورے نظام کا اصل امتحان ہے۔ اگر ایک صحافی کسی سرکاری منصوبے میں بے قاعدگی کی خبر شائع کرتا ہے، اور حکومت اسے فیک نیوز کہہ دیتی ہے ، تو کیا ہوگا؟ کیا صرف سرکاری تردید کافی ہوگی؟ یا آزادانہ تصدیق ہوگی؟ کیا صحافی کو دستاویز فراہم کرنے کا موقع ملے گا؟ کیا حکومت اصل ریکارڈ جاری کرے گی؟ کیا کسی آزاد ادارے کو معاملہ دیکھنے دیا جائے گا؟ اور اگر بعد میں خبر درست ثابت ہو جائے تو کیا اس خبر کو فیک نیوز قرار دینے والے نظام کے خلاف بھی کوئی جواب دہی ہوگی؟ یہ سوال یک طرفہ نظام کو دو طرفہ جواب دہی میں تبدیل کرتا ہے۔
این سی سی آئی اے: سائبر جرم کی تحقیقات یا خبر کا نگران؟
یہاں دوسرا ادارہ آتا ہے :این سی سی آئی اے۔ این سی سی آئی اے کا بنیادی دائرہ سائبر جرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی سے متعلق ہے۔ حالیہ سرکاری پارلیمانی معلومات کے مطابق اس ادارے کے پاس بڑی تعداد میں سائبر جرائم کی شکایات، تحقیقات اور مقدمات آتے ہیں، جن میں مالی فراڈ، ہراسانی، شناختی چوری اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ این سی سی آئی اے کا سائبر مواد سے کوئی تعلق نہیں۔ تعلق ہے ۔اصل سوال ‘دائرۂ اختیار اور استعمال کے طریقہ کار’کا ہے۔ اگر ایک خبر کو صرف اس لیے این سی سی آئی اے تک پہنچایا جائے کہ وہ حکومت کے لیے ناگوار ہے، تو یہ ایک سوال پیدا کرے گا۔ اگر خبر واقعی کسی قانونی جرم کی شرائط پوری کرتی ہے تو معاملہ قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن اگر معاملہ محض سیاسی اختلاف، صحافتی تجزیے، رائے، طنز یا کسی سرکاری دعوے کی تنقید کا ہو تو اسے فوجداری کارروائی تک لے جانے سے پہلے واضح قانونی معیار ضروری ہے۔
کاغذ پر الزام اور عدالت میں جرم ایک چیز نہیں
شکایت جرم ثابت نہیں کرتی۔ انکوائری جرم ثابت نہیں کرتی۔ ایف آئی آر سزا نہیں ہوتی۔ گرفتاری جرم ثابت نہیں کرتی۔ چالان جرم ثابت نہیں کرتا۔ اورعدالتی سزا سے پہلے کسی شخص کو مجرم قرار دینا صحافتی طور پر بھی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ این سی سی آئی اے کے بارے میں پارلیمانی کارروائیوں میں بھی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جہاں کمیٹیوں نے صحافیوں اور اخبارات کو بھیجے گئے نوٹس اور سائبر مقدمات کے دائرۂ اختیار پر سوالات اٹھائے۔ جولائی 2026میں سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی نے این سی سی آئی اے سے صحافی کو بھیجے گئے نوٹس کی نوعیت اور صوبوں سے مقدمات کی منتقلی سمیت مختلف معاملات پر وضاحت طلب کی۔ یہ عدالتی فیصلے نہیں ہیں۔ لہٰذا انہیں بھی اسی حیثیت سے بیان کیا جانا چاہیے، پارلیمانی نگرانی اور اٹھائے گئے سوالات، مگر یہ سوالات نظرانداز کرنے کے لیے بھی نہیں۔
اصل خطرہ شاید سزا نہیں، عمل بھی ہوسکتا ہے
کسی شہری کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آخر عدالت اسے سزا دیتی ہے یا بری کرتی ہے ۔اس سے پہلے کے مراحل بھی اہم ہیں، نوٹس۔ طلبی۔ تفتیش۔ موبائل یا ڈیجیٹل مواد کی جانچ۔ عدالتوں کے چکر۔ وکیل کا خرچ۔ سماجی دباؤ۔ وقت کا ضیاع۔ پیشہ ورانہ نقصان۔ اور مسلسل یہ خوف کہ اگلی خبر یا اگلا جملہ کسی قانونی کارروائی کا سبب نہ بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ معلوماتی قوانین اور فوجداری اختیارات میں ‘طریقۂ کار کے تحفظات’ بہت اہم ہوتے ہیں۔
یونیسکوبھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم حکمرانی کے لیے شفافیت، جواب دہی، انسانی حقوق اور آزادانہ نگرانی جیسے اصولوں پر زور دیتا ہے۔ یعنی قانون موجود ہونا کافی نہیں۔قانون کیسے استعمال ہوتا ہے ، یہ بھی اتنا ہی اہم ہے ۔دنیا نے یہ سوال پہلے بھی دیکھا ہے۔دنیا کے مختلف ممالک میں فیک نیوز کے خلاف قوانین اور حکومتی اختیارات پر شدید بحث ہوئی ہے ۔
ملائیشیا میں 2018کے انسدادِ فیک نیوز قانون کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشات ظاہر کیے کہ قانون کی زبان وسیع تھی اور اس کا اطلاق سیاسی نوعیت کے حساس معاملات پر بھی ہوسکتا تھا۔ ان دعووں میں خاص طور پر 1MDB یعنی1″ملائیشیا ڈویلپمنٹ برہاد” اسکینڈل سے متعلق معلومات کا حوالہ دیا گیا۔ ملائیشیا ہی نہیں، دنیا کے اس سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں اس فنڈ سے 4.5؍ ارب امریکی ڈالر سے زائد کی خطیر رقم غیر قانونی طور پر چوری اور لانڈر کی گئی تھی۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس مثال کو کسی ایک حکومت کے خلاف قطعی فیصلہ نہیں بلکہ ‘ریاستی اختیار کی حدود پر عالمی بحث’کے طور پر دیکھنے کے لیے اِ صرار کیا جاتا ہے ۔
سنگاپور میں بھی POFMAکے تحت حکومت کو بعض معلومات کے بارے میں ترمیمی احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے ، اور اس کے استعمال پر حکومت اور ناقدین کے درمیان مسلسل اختلاف رہا ہے ۔ان مثالوں سے ایک ہی نتیجہ نکالنا درست نہیں۔لیکن ایک سبق ضرور نکلتا ہے :فیک نیوز کے خلاف اختیار جتنا طاقتور ہو، اس کے ساتھ شفافیت، اپیل، آزادانہ نگرانی اور واضح تعریف کی ضرورت بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے ۔
پاکستان کے لیے بھی یہی امتحان ہے
پاکستان میں ڈیجیٹل اظہار اور سائبر جرائم سے متعلق قوانین پہلے ہی موجود ہیں، اور حالیہ برسوں میں ان کے استعمال، دائرۂ اختیار اور صحافیوں سے متعلق مقدمات پر پارلیمانی اور انسانی حقوق کے فورمز پر بحث ہوتی رہی ہے ۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھی پاکستان کے بارے میں آزادئ اظہار، آن لائن پابندیوں، صحافیوں اور ناقدین سے متعلق قانونی تحفظات اور مؤثر نگرانی کی ضرورت پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ اس پس منظر میں سندھ حکومت کا نیا اقدام ایک معمولی انتظامی خبر نہیں رہتا۔یہ ایک بڑے سوال کا صوبائی نمونہ بن سکتا ہے: پاکستان میں فیک نیوز کی تعریف کون کرے گا، اس کی تصدیق کون کرے گا، اس کا فیصلہ کون کرے گا اور اس فیصلے کے خلاف شہری کہاں جائے گا؟
اور سندھ میں ایک اور بنیادی سوال
اب ہم دوبارہ سندھ کی طرف آتے ہیں۔ سندھ حکومت کہتی ہے کہ فیک نیوز کی نگرانی ہوگی،غلط اور گمراہ کن معلومات کی نشاندہی ہوگی، جدید ٹیکنالوجی استعمال ہوگی، این سی سی آئی اے سے تعاون ہوگا، حکومت کا مثبت اور تعمیری بیانیہ مؤثر بنایا جائے گا،اور عوام کو درست، مستند اور بروقت معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ان میں آخری وعدہ سب سے اہم ہے۔ کیونکہ اگر عوام کو ‘اصل معلومات بروقت ملتی رہیں’تو فیک نیوز کے لیے جگہ کم ہوتی ہے۔ اور اگر اصل معلومات دستیاب نہ ہوں تو افواہوں کے لیے جگہ بڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ انفارمیشن کمیشن کے سربراہ کی خالی نشست کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مئی 2026میں سندھ حکومت سے چیف انفارمیشن کمشنر کی تعیناتی تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا، اور اس تاخیر کو سندھ آر ٹی آئی قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا تھا۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ تعیناتی کیوں نہیں ہوئی۔ اصل سوال یہ ہے: کیا حکومت خبر کے غلط ہونے کا فیصلہ کرنے سے پہلے شہری کو صحیح معلومات تک پہنچنے کا مؤثر راستہ بھی دے رہی ہے ؟
- اگر خبر غلط ہے تو خبر کو خاموش کرانے سے پہلے اصل معلومات جاری کیجیے ۔اگر کسی منصوبے کے بارے میں غلط اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں تو اصل مالی ریکارڈ جاری کیجیے ۔اگر کسی افسر کے بارے میں غلط الزام لگایا گیا ہے تو متعلقہ سرکاری دستاویز سامنے لائیے ۔اگر کسی ترقیاتی منصوبے میں مبینہ بے قاعدگی کی خبر غلط ہے تو ٹینڈر، معاہدہ، ادائیگی، تکمیل اور آڈٹ کا ریکارڈ عوام کے سامنے رکھیے ۔اگر کسی زمین کے بارے میں خبر غلط ہے تو ملکیت، انتقال، لیز، الاٹمنٹ اور نقشہ جاری کیجیے ۔اگر کسی سرکاری فیصلے کے بارے میں خبر غلط ہے تو نوٹیفکیشن دکھائیے ۔
فیک نیوز کا سب سے مضبوط توڑ معلومات
ایک حکومت جس کے پاس مضبوط معلوماتی نظام ہو، اسے تنقید سے گھبرانے کی ضرورت کم ہوتی ہے ۔کیونکہ وہ جواب دے سکتی ہے ۔ اعداد و شمار سے۔دستاویزات سے ۔آڈٹ سے ۔عدالتی فیصلوں سے ۔سرکاری ریکارڈ سے ۔ ٹینڈر سے۔ معاہدے سے۔ اور شفافیت سے۔
اس کے برعکس اگر سرکاری معلومات تک رسائی مشکل ہو، ریکارڈ بروقت دستیاب نہ ہو، معلوماتی ادارے کمزور ہوں اور پھر ریاستی مشینری کو یہ اختیار بھی حاصل ہوجائے کہ وہ کسی خبر کو فیک قرار دے ، تو سوال لازماً پیدا ہوگا کہ معلومات کی جنگ میں شہری کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ فیک نیوز کے خلاف جنگ صرف مانیٹرنگ کا منصوبہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ معلوماتی شفافیت کا منصوبہ بھی ہونا چاہیے۔
حکومت سے دس بنیادی سوال
اگر سندھ حکومت واقعی ایک مؤثر اور منصفانہ فیک نیوز نظام قائم کرنا چاہتی ہے تو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہئیں:
1۔ فیک نیوز کی قانونی اور انتظامی تعریف کیا ہے ؟
2۔ خبر، رائے ، تجزیے ، طنز، الزام اور ثابت شدہ غلط اطلاع میں فرق کیسے کیا جائے گا؟
3۔ خبر کو فیک قرار دینے سے پہلے تصدیق کا معیار کیا ہوگا؟
4۔ کیا حکومت کے بارے میں آنے والی خبر اور حکومت کی اپنی جاری کردہ معلومات کے لیے ایک ہی تصدیقی معیار ہوگا؟
5۔ اگر حکومت خود خبر کا فریق ہو تو آزادانہ تصدیق کون کرے گا؟
6۔ صحافی، ادارے یا شہری کو جواب دینے اور اپنا ثبوت پیش کرنے کا حق ہوگا؟
7۔ فیک نیوز قرار دیے جانے کے خلاف اپیل یا آزادانہ نظرثانی کا فورم کون سا ہوگا؟
8۔این سی سی آئی اے کو بھیجے جانے والے معاملات کے لیے واضح قانونی معیار کیا ہوگا؟
9۔ کتنی خبروں کو فیک قرار دیا گیا، کتنی درست ثابت ہوئیں، کتنے معاملات این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے اور کتنے میں عدالت نے جرم ثابت کیا؟ کیا اس کا سالانہ عوامی ریکارڈ جاری ہوگا؟
10۔ اور سب سے اہم:جب حکومت غلط خبر کی نشاندہی کے لیے نظام بنا رہی ہے تو شہریوں کو صحیح سرکاری معلومات دلانے والے سندھ انفارمیشن کمیشن کی چیف نشست فروری 2026 سے اب تک خالی کیوں ہے ؟

پیکا ایکٹ کے خلاف صحافیوں کا احتجاج
اصل کہانی ابھی شروع ہوئی ہے
یہ تحریر کسی حکومت کو مجرم قرار دینے کے لیے نہیں۔ یہ کسی صحافی یا شہری کو ہر خبر میں درست ثابت کرنے کے لیے بھی نہیں۔ یہ اس سے زیادہ بنیادی سوال اٹھانے کے لیے ہے :ریاست کو جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کا حق ہوسکتا ہے، لیکن ریاست کو یہ اختیار کس حد تک دیا جاسکتا ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کون سی خبر جھوٹی ہے ؟اور اگر ریاست یہ اختیار استعمال کرتی ہے تواس ریاست کی اپنی معلومات کی جانچ کون کرے گا؟ اس کے دعووں کی تصدیق کون کرے گا؟ اس کے جاری کردہ اعداد و شمار کو کون پرکھے گا؟ اس کے فیصلوں پر سوال اٹھانے والے کو جواب کون دے گا؟ اور جب شہری حکومت سے اصل دستاویز مانگے گا تو کیا اسے معلومات ملیں گی یا پہلے یہ پوچھا جائے گا کہ اسے اس معلومات کی ضرورت کیوں ہے؟
یہاں سے ہماری اگلی تحقیقات شروع ہوتی ہیں۔ کیونکہ اگر حکومت کہتی ہے، ہم فیک نیوز روکیں گے تو صحافت کا اگلا سوال ہے، بہت اچھا۔ پھر ہمیں اصل خبر، اصل دستاویز اور اصل اعداد و شمار بھی دے دیجیے۔ اور اگر اصل معلومات عوام کے سامنے ہوں، ریکارڈ کھلے ہوں، آڈٹ قابلِ رسائی ہو، فیصلے دستاویزی ہوں، معلومات کمیشن فعال ہو اور ہر دعوے کی آزادانہ جانچ ممکن ہو تو فیک نیوز کے خلاف ریاست کو طاقت کے بجائے ‘ثبوت’ کی ضرورت ہوگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: معلومات پر ریاست کا حق نہیں؛ معلومات پر شہری کا حق ہے۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ درست معلومات فراہم کرے، غلط معلومات کی تردید ثبوت سے کرے، اور اگر فوجداری اختیار استعمال کرے تو اسے واضح قانون، منصفانہ طریقۂ کار اور آزادانہ نگرانی کے تابع رکھے۔ ورنہ سوال فیک نیوز کا نہیں رہے گا۔
سوال یہ ہوگا:خبر کون بناتا ہے ؟خبر کون جھٹلاتا ہے؟ صحیح خبر کون ثابت کرتا ہے؟ اور آخرکار ریاست کو کون جواب دہ بناتا ہے؟
یہی ہماری اگلی تحقیق کا نقطۂ آغاز ہے۔
(جاری ہے)
٭٭٭


