میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قانون توہین رسالت پرفیصلہ کُن راؤنڈ

قانون توہین رسالت پرفیصلہ کُن راؤنڈ

ویب ڈیسک
هفته, ۴ نومبر ۲۰۱۷

شیئر کریں

ڈاکٹرعمرفاروق احرار
اسلام میں کسی بھی مقدس شخصیت کی توہین قابل سزاجرم ہے۔توہین کے ارتکاب کو رَوکنے ہی کے لیے قانون توہین رسالت کوپاکستان کے آئین کا حصہ بنایاگیاہے۔اس قانون کی شق295سی کی رُوسے اس کا اطلاق تمام انبیاء کرام پر ہوتاہے۔اِس طرح یہ قانون نہ صرف اسلام، بلکہ دیگرمذاہب عیسائیت اوریہودیت وغیرہ کے تحفظ کابھی ضامن ہے۔ اِس کے باوجودمخصوص ایجنڈہ کے تحت اس قانون کو تنقیدکا نشانہ بناکر،اِس کی منسوخی کے لیے پاکستان پر شدیددباؤڈالاجاتا ہے ۔حتیٰ کہ بیرونی امدادکو بھی قانون توہین رسالت میں ترامیم کرنے کے ساتھ مشروط کیا جاتاہے۔ حالانکہ امریکا میں بھی توہینِ مسیح کا قانون موجود ہے اوربعض امریکی ریاستوں میں توحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرنے والوں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی ہے۔برطانیہ میں بھی توہین مسیح قابل تعزیرجرم ہے ۔جہاں مرتکب کے لیے جسمانی سزائے موت کی بجائے سول ڈیتھ کی سزاہے۔جس کے تحت مجرم کوتمام شہری حقوق سے محروم کردیاجاتا ہے،لیکن عجیب بات ہے کہ اس سزا پر اِنسانی حقوق پامال نہیں ہوتے۔ امریکا کی سپریم کورٹ نے توہین مسیح پر سزائے موت دینے کا بھی بھرپورتحفظ کیاہے اوراپنے فیصلہ میں لکھاہے کہ:’’آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ ذرائع ابلاغ کے آئینی تحفظات اور بنیادی حقوق، توہین مسیح کے قانون اور اس کی بابت قانون سازی کی راہ میں مزاحم نہیں ہیں۔‘‘یہ مغرب ،اُس کے حلیفوں اوراَیمنسٹی انٹرنیشنل کا دوہرامعیارہے کہ اُن کے اپنے ہاں ایسے قانون کی موجودگی اوراُس کی خلاف ورزی پر سزادہی اِنسانی حقوق کی نگہبانی ہے اورپاکستان کے قانون توہین رسالت ﷺکے نفاذ اورگستاخ کی سزا اِنسانی حقوق سے متصادم ٹھہرتی ہے۔اُن کایہ خودساختہ فلسفہ خوداُن کے معیارکا مذاق اڑارہاہے۔دراصل مغرب، امریکا اوراُس کے ہم نواپاکستان کے اسلامی تشخص اورنظریاتی شناخت کو منہدم کردینے کے درپے ہیں۔اِس لیے کبھی وہ گستاخوں کی اندھادھند حمایت اور کبھی قادیانیوں کی بے جا طرف داری کرتے ہیں۔تاکہ پاکستان کو اَیک لبرل اورسیکولر اسٹیٹ کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔
گزشتہ چندمہینوں سے پاکستان کے خلاف جاری اس بیرونی مہم میں خاصی تیزی آئی ہے۔اگست میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی(uscrif)نے پاکستان سمیت 71ملکوں میں توہین رسالت پر مبنی سزاؤں کا جائزہ لیا اورپاکستان اورایران کواُن ممالک میں سرفہرست قراردیاگیاکہ جہاں توہین رسالت ﷺکی سخت سزائیں سزائے موت وغیرہ رائج ہیں اورمطالبہ کیاگیاکہ’’ توہین مذہب سے متعلق فوجداری قوانین کو منسوخ کریں،کیونکہ یہ مذہبی آزادی کے منافی ہیں۔‘‘اگست ہی کے دوسرے ہفتہ میں امریکا کے سیکرٹری آف ا سٹیٹ ریکس ڈبلیوٹلرسن نے بین الاقوامی آزادیٔ مذہب کی رپورٹ(2016) جاری کرتے ہوئے پاکستان میں مذہبی آزادی کے فقدان پر شدیدتنقیدکی اور کہا کہ :’’پاکستان میں مذہبی آزادحملوں کی زدمیں ہے،جہاں دو درجن سے زائدلوگوں کوتوہین رسالت کے الزام میں سزائے موت یا عمرقیدسے گزرپڑ رہاہے۔علاوہ ازیںحکومت احمدیوں کو نظراندازکررہی ہے اورانہیں مسلمان تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔‘‘جبکہ ابھی چندہی روزپہلے امریکی سینیٹ کے 6؍سرکردہ ارکان نے اپنے وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کو ’’خصوصی طور پر تشویش کا باعث ملک‘‘(سی پی سی)قرار دیا جائے ۔ دوصفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا ہے کہ’’ مذہبی آزادیوں کے امریکی قانون کے تحت امریکی صدر پابند ہیں کہ وہ مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ کے اجرا کے 90روز کے اندر نامزد کردہ ممالک کو ’’خصوصی طور پر تشویش کا باعث ملک‘‘ (سی پی سی) قرار دیں اور اُن ممالک کو یہ درجہ دینے کے 90؍ روز بعد کانگریس کو اُن فریقوں سے آگاہ کیا جائے جو کسی ملک کو درجہ دینے کا باعث بنے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ امریکی حکومت نے اپنے رد عمل میںکیا اقدامات کیے اور یہ اقدامات کس قدر مؤثر ثابت ہوئے؟‘‘ناموسِ رسالت قانون اورقادیانیوں کے حوالے سے پاکستان پر بیرونی دباؤ مسلسل بڑھایاجارہا ہے۔ایک معاصر انگریزی اخبارکے مطابق جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے انکشاف کیاہے کہ’’ حال ہی میںچنداَمریکی سینیٹروں نے پاکستانی وزارتِ خارجہ کے نام ایک مشترکہ خط لکھاہے ۔جس میں پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ روارکھے جانے والے سلوک پر اِنتہائی تشویش کا اظہارکیاہے۔
تین برس قبل امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی ایک رپورٹ میں حکومت امریکا پر زوردیاتھاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ ملک میں قانون توہین رسالت کے استعمال پر پابندی عائدکرے۔جبکہ قادیانیوں کے حوالہ سے کہا گیاتھا کہ ‘‘پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے آئین میں تبدیلی کرے اورآئین کی اُن تمام شقوںکو ختم یا تبدیل کیاجائے جو قادیانیوں کے خلاف ہیں۔‘‘اِس امریکی ڈُومورکے مطالبہ پر عمل درآمدحالیہ دنوں میں انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کے دوران دیکھنے میں آیا۔جب امیدوارکے لیے حلف نامۂ ختم نبوتﷺ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ،کئی عبارات میں ردوبدل کے ساتھ سیون بی اورسیون سی جیسی انتہائی اہم ترین شقیں بھی ختم کردی گئیں۔جن کی تاحال مکمل بحالی عمل میں نہیں آ سکی اورراجہ ظفرالحق کے بقول اُن کے لیے قانون سازی کی کسر اَب بھی باقی ہے۔معاملہ یہیں پر بس نہیں ہوا،بلکہ پنجاب اسمبلی میں مولاناغیاث الدین نے انکشاف کیاکہ ضلع نارووال(پنجاب)میں پنجاب ایجوکیشن بورڈ نے 186پرائمری سکول قادیانیو ں کے حوالے کردیے ہیں۔جبکہ حکومت پنجاب نے 24؍اکتوبرکو ایک معروف خاندانی قادیانی ابوبکرخدابخش کو ترقی دے کربطور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن مانیٹرنگ پنجاب کی تعیناتی کا نوٹس جاری کردیاہے۔جسیڈُومورپر عمل درآمدکی کڑی اور قادیانیوں کو اہم عہدوںپر لانے کے تسلسل کا شاخسانہ قراردیاجارہاہے۔
مغرب قانون توہین رسالت اورقانون ختم نبوت کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن راؤنڈ کی تیاری کررہاہے ،ہمارے اہل اختیاربارہااِن قوانین کو غیرمؤثرکرنے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں،مگردینی جماعتوں کی مزاحمت ہمیشہ اُن کی راہ میں شدیدرُکاوٹ بن جاتی ہے۔حال ہی میں مذہبی قوانین کی منسوخی کے لیے بیرونی دباؤ اورحلف نامہ میں تبدیلیوں کے حوالے سے دینی جماعتوں کا سب سے بڑااِتحادمتحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی،دفتر احرارلاہورمیں اپنا اجلاس کرچکاہے اوراب اگلااجلاس مجلس تحفظ ختم نبوت کی میزبانی میں ہونے جارہاہے۔اس فیصلہ کن مرحلے پر گینداربابِ اقتدارکے کورٹ میں ہے کہ وہ دینی حمیت سے بھرپورفیصلہ کرتے ہیں ،یا بدستورڈُومورکی راہ اپناتے ہیں؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں