میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
عمران خان کے شفاف ٹرائل تک خیبر پختونخوااسمبلی اجلاس جیل سے باہر رکھنے کی تجویز

عمران خان کے شفاف ٹرائل تک خیبر پختونخوااسمبلی اجلاس جیل سے باہر رکھنے کی تجویز

ویب ڈیسک
منگل, ۴ مارچ ۲۰۲۵

شیئر کریں

 

پی ٹی آئی اوراس کی قیادت بالخصوص بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ گزشتہ دو سالوں سے فسطائیت جاری ہے ، دو ہفتوں سے چیئرمین کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی

ہمارا لیڈرکبھی مفاہمت نہیں کرے گا میری تجویز ہے کہ اب آخری آپشن کے طور پر ہمیں یہ اسمبلی اڈیالا جیل کے باہر بیٹھا کرسیشن کا انعقاد کرناچاہئے ،وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا اسمبلی میں اظہار خیال

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے شفاف ٹرائل اور ملاقاتوں کاسلسلہ بحال کرنے تک خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اڈیالا جیل کے باہر منعقد کرانے کی تجویز سامنے آگئی۔صوبائی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی اوراسکی قیادت بالخصوص بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کیساتھ گزشتہ دو سالوں سے فسطائیت جاری ہے ، دو ہفتوں سے چیئرمین کیساتھ ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم ہے کہ عمران خان کے ساتھ ذاتی معالج مل سکتاہے لیکن اسلام آبادہائیکورٹ کے احکامات کی بھی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، جوظلم ہماری پارٹی و قائد کے ساتھ ہورہا ہے اس کیخلاف ہر دروازہ کھٹکھٹایا، احتجاج کا بنیادی حق استعمال کیا تو ہم پر لاٹھی چارج ہوا شیل برسائے گئے جبکہ گولیاں چلائی گئیں۔ مینا آفریدی نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ عمران خان مفاہمت کرینگے لیکن ہمارا لیڈرکبھی مفاہمت نہیں کرے گا میری تجویز ہے کہ اب آخری آپشن کے طور پر ہمیں یہ اسمبلی اڈیالا جیل کے باہر بیٹھا کرسیشن کا انعقاد کرناچاہئے ۔مینا خان آفریدی نے کہاکہ عمران خان کے حوصلے پست نہیں کرینگے کیونکہ وہ قوم کی امید ہیں، بانی کو بے گناہ جرم میں قید رکھاگیاہے اسمبلی سیشن اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک فری ٹرائل اور ملاقاتوں کا سلسلہ دوبارہ شروع نہیں ہوجاتا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں