سندھ بلڈنگ، وسطی میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کو ’باقاعدہ‘ کرنے کا منصوبہ
شیئر کریں
زیرِ غورنارتھ ناظم آباد بلاک آر پلاٹ A151میں ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی
کمرشل عمارتوں کو معمولی توڑ پھوڑ کے بعد ’باقاعدہ‘ اجازت کا سستا راستہ، شہری برہم
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ضلع وسطی میں رہائشی علاقوں میں ناجائز کھڑی کی گئی کمرشل عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر وسطی جعفر امام صدیقی اس حوالے سے نہایت سرگرم ہیں۔ ان کی سرپرستی میں شہر کے رہائشی علاقوں، بالخصوص نارتھ ناظم آباد، میں غیرقانونی طور پر کھڑی کی گئی کمرشل عمارتوں کو کچھ معمولی توڑ پھوڑ کے بعد ’باقاعدہ‘ ازسرنو تعمیر کی اجازت دینے کی پالیسی پر سنجیدہ غور کیا جارہا ہے ،اس حوالے سے شہری ماہرین کچھ تنقیدی سوالات بھی کر رہے ہیں کہ کیا یہ قانون شکنوں کو انعام دینے جیسانہیں ہے ؟شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اور سماجی کارکنان اس ممکنہ اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ تجویز درحقیقت ضابطے توڑنے والوں کو ’’بعد ازاں منظوری نامہ‘‘جیسا سستا راستہ فراہم کرے گی، جس سے شہری منصوبہ بندی کے تمام ضوابط بے معنی ہو جائیں گے ۔ ان کا اصرار ہے کہ مسائل کا حل تعمیرات روکنے اور موجودہ خلاف ورزیوں کو مسمار کرنے میں ہے ، نہ کہ انہیں قانونی جامہ پہنانے میں۔دوسری طرف نارتھ ناظم آباد کے رہائشیوں کا الزام ہے کہ علاقے میں رہائشی پلاٹوں پر تجارتی مراکز، مارکیٹیں اور ریستوراں کھلم کھلا بن رہے ہیں، مگر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام اس پر چشم پوشی برت رہے ہیں۔ان غیرقانونی تعمیرات کے باعث علاقہ ٹریفک جام، پارکنگ کے بحران، آواز کی آلودگی اور نکاسی آب کے نظام کی تباہی جیسے مسائل سے دوچار ہے ۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی افراد کا کہنا ہے بلاک آر کے رہائشی پلاٹ A151پر تجارتی مقاصد کے لئے جاری خلاف ضابطہ تعمیر کے خلاف بارہا شکایات درج کروانے کے باوجود کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا،ابھرنے والے اہم سوالات یہ ہیں کہ کیا یہ پالیسی قانون کی حکمرانی کے بجائے افراتفری کو فروغ دے گی؟کیا نارتھ ناظم آباد میں عملدرآمد کی یہ مکمل غیر موجودگی محض غفلت ہے یا پھر کسی گٹھ جوڑ کا نتیجہ؟ اور کیا شہریوں کے بنیادی حقوق سے کھیلنے کی یہ کھلی چھوٹ جاری رہے گی؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ محکمہ نرمی کی بجائے سختی کا راستہ اپنائے اور نارتھ ناظم آباد سمیت تمام علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے ۔


