سندھ بلڈنگ، ناظم آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب، حکام لاپروا
شیئر کریں
ڈپٹی زبیر مرتضیٰ اور انسپکٹر ندیم اختر کی ملی بھگت بے نقاب، قومی خزانے کو بھاری نقصان
ناظم آباد نمبر 1بلاک ای پلاٹ 12/3، 5/4، 2/6، اور اے 2/42پر بغیر نقشے تعمیرات
ناظم آباد میں بغیر نقشے کے تعمیرات کا دھندا زوروں پر ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی مبینہ کرپشن اور ملی بھگت نے پورے علاقے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی زبیر مرتضیٰ اور بلڈنگ انسپکٹر ندیم اختر نے تعمیرات مافیا سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے ،جس کے نتیجے میں ناظم آباد نمبر 1بلاک ای پلاٹ 12/3، 5/4، 2/6 اور اے 2/42پر بغیر نقشے کے بلند عمارتوں کی تعمیرات کھلے عام جاری ہیں۔جرأت سروے ٹیم کو موصول ہونے والی معلومات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ کھیل کروڑوں روپے کی کرپشن پر چل رہا ہے ۔ جعلی فائلیں اور غیر قانونی نقشے بنا کر تعمیراتی مافیا کو مکمل تحفظ دیا جا رہا ہے ۔ قومی خزانے کو بھاری نقصان اور قانون کی کھلی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مافیا مٹھی گرم کر کے افسران کو اوپر تک ’’نذرانہ‘‘ پہنچاتا ہے اور اس کے بعد ہر غیر قانونی تعمیر کو جائز قرار دے دیا جاتا ہے ۔ شکایت کرنے والے شہریوں کو دھمکایا اور دباؤ میں لایا جا رہا ہے تاکہ مافیا کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔زیر نظر تصاویر اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہیں کہ ناظم آباد نمبر 1کے مختلف پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے ، جبکہ ادارے کے ذمہ دار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس مافیا پر فوری آہنی ہاتھ نہ ڈالا گیا تو ناظم آباد میں بے ہنگم بلند عمارتوں کا یہ جنگل کسی بڑے سانحے کا باعث بن سکتا ہے ۔ شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپٹ افسران کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں اور غیر قانونی تعمیرات کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔


