(ادارہ امراض قلب)ڈاکٹر طاہر صغیر کی بدعنوانی سے کروڑوں کا نقصان
شیئر کریں
فضل عباس اور داور حسین کی خلاف ضابطہ تقرری ،ادارے کو مالی دھچکا ، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف
80 لاکھ اور ایک کروڑ 20 لاکھ کے نقصان کی نشاندہی ، من پسند افراد کی تقرریوں پر عوام کا شدید ردعمل
ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ کی رپورٹ برائے 2023-24 نے ادارہ امراض قلب کراچی NICVD میں ہونے والی کرپشن کا بھانڈہ پھوڑ دیا ۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ادارہ کے سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر نے اپنی نااہلی اور کرپشن کے باعث تباہی کے کنارے پہنچا دیا ہے۔ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر نے ہیڈ آف سیکورٹی سید فضل عباس کو تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپائنٹ کیا گیا جس کی وجہ سے ادارے کو مالی سال 2023-24 میں تقریبا ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں مذید بتایا گیا ہے کہ ہیڈ آف ہیومن ریسورس داور حسین کے خلاف ضابطہ اپائمنٹ سے ادارے کو مالی سال 2023-24 میں 80 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان دیا گیا ہے ۔ عوامی حلقے اس بات پر ششدر ہیں کہ کس طرح سے اپنے من پسند افراد کو خلاف قانون تقرریاں کرکے ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان دیا جارہا ہے اور یہ سب کچھ ادارے کے سربراہ ڈاکٹر طاہر صغیر کی نااہلی کے باعث ہو رہا ہے۔


