میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ ،اللہ والا ٹاؤن میں ’کمرشل پورشن‘کی آڑ میںتعمیراتی قیامت

سندھ بلڈنگ ،اللہ والا ٹاؤن میں ’کمرشل پورشن‘کی آڑ میںتعمیراتی قیامت

ویب ڈیسک
منگل, ۳ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

پلاٹ L11 کی جھکتی عمارت،نکاسی آب کا نظام درہم برہم، سڑکیں تنگ ، شہری برہم
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کی مبینہ ملی بھگت، تعمیراتی مافیا کو مکمل تحفظ فراہم

ضلع کورنگی کا اللہ والا ٹاؤن تعمیراتی قیامت ڈھائی جا رہی ہے ، جہاں رہائشی زون کو کمرشل مارکیٹ میں تبدیل کرنے کی مہم نے علاقے کی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ سیکٹر 31G میں واقع رہائشی پلاٹ نمبر L11 اس لاقانونیت کی واضح مثال ہے ، جہاں پرانی عمارت کی بنیادیں کمزور ہونے کے باوجود بالائی منزلوں پر خلاف ضابطہ کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر زوروں پر ہے ۔ جرأت سروے کے مطابق،ان غیرقانونی تعمیرات کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام تباہ ہو چکا ہے ، اور سڑکیں اس قدر تنگ ہو گئی ہیں کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس کا گزرنا محال ہے ۔علاقہ مکینوں کے مطابق، تعمیراتی مافیا کی سرپرستی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کورنگی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی ملوث ہیں۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ افسران اپنے فرائض سے چشم پوشی کرتے ہوئے نہ صرف خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکام رہے ، بلکہ مبینہ طور پر تعمیراتی مافیا کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔جس کے خلاف مقامی آبادی نے متعدد بار تحریری درخواستیں اتھارٹی میں جمع کروائیں، مگر کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔علاقہ مکینوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے یا زلزلے جیسی قدرتی آفت کی صورت میں یہ غیرقانونی تعمیرات تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کو فوری معطل کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے ، اور تمام غیرقانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں