حیدر آباد ،غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے کھوکھلے دعوے
شیئر کریں
لطیف آباد یونٹ 9میں غیر قانونی پلازہ اور پینٹ ہاؤس کی منظوری،شہریوں کا مستقبل داؤ پر
ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی مبینہ پشت پناہی سے بلڈر کو خصوصی رعایت ، قواعد نظر انداز
شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے دعوے ایک بار پھر کھوکھلے ثابت ہو گئے ۔ ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران کی مبینہ سرپرستی میں لطیف آباد یونٹ 9 میں ایک غیر قانونی پلازہ اور بعد ازاں پینٹ ہاؤس کی تعمیر کی منظوری دی گئی، جس نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کی مبینہ پشت پناہی سے بلڈر کو خصوصی رعایت دی گئی، جس کے نتیجے میں قواعد و ضوابط کو نظرانداز کرتے ہوئے تعمیرات کو قانونی رنگ دیا گیا۔تحقیقاتی معلومات کے مطابق بلڈر محمد علی بونڈ والا سے منفعت بخش معاملات کے بعد نہ صرف غیر قانونی تعمیرات کی منظوری دی گئی بلکہ مستقبل میں شہریوں کو کروڑوں روپے کے ممکنہ نقصان کی راہ بھی ہموار کر دی گئی۔محکمہ کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند کرپشن کا حصہ ہے ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ لطیف آباد میں اس طرح کی غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری منصوبہ بندی کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ جان و مال کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی خاموشی نے کرپٹ عناصر کو مزید مضبوط بنا دیا ہے ۔قانونی ماہرین کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر کا کردار بلڈنگ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، غیر قانونی اسٹرکچر کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں،ذمہ دار افسران کے خلاف فوری معطلی اور عدالتی تحقیقات ضروری ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو حیدرآباد میں غیر قانونی تعمیرات کا سیلاب مزید تباہی پھیلائے گا۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افسران کو فوری طور پر معطل کیا جائے تمام منظوریوں کی آزادانہ تحقیقات ہوں غیر قانونی عمارت کو مسمار کیا جائے ،متاثرہ شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔


