میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محکمہ صحت، غلام علی لاکھو معطلی کے بعد دوبارہ تعیناتی کے لیے سرگرم

محکمہ صحت، غلام علی لاکھو معطلی کے بعد دوبارہ تعیناتی کے لیے سرگرم

جرات ڈیسک
جمعه, ۲ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

محکمہ صحت کو چمک کا شکار بنانے کا الزام، پوسٹنگ کوئی نہیں روک سکتا، کرپٹ افسر کا دعویٰ

لاکھو پراختیارات کے ناجائز استعمال، قانونی کارروائی میں کوتاہی کے متعدد الزامات ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محکمہ صحت سندھ میں ڈرگ کنٹرول کے معاملات ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔ جرأت کو دستیاب تحریری شکایت میں غلام علی لاکھو کے خلاف اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، قانونی کارروائی میں مبینہ کوتاہی، دائرۂ اختیار سے متعلق اعتراضات اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ شکایت کنندگان نے متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔

تازہ ترین الزام کے مطابق، غلام علی لاکھو نے مبینہ طور پر بعض فارما مینوفیکچررز سے گفتگو کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ "سیکریٹری ہیلتھ میری جیب میں ہیں، میری پوسٹنگ کوئی نہیں روک سکتا”۔

شکایت کنندگان کا مزید الزام ہے کہ لاکھو نے مبینہ طور پر یہ بھی دعویٰ کیا کہ دوبارہ پوسٹنگ کے لیے سیکریٹری ہیلتھ کے پرسنل سیکریٹری حمید عباسی چمک کے شکار ہو گئے ہیں۔

تاہم مذکورہ گفتگو اور اس سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ لہٰذا ان دعووں کی حقیقت جانچنے کے لیے غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ اگر کسی افسر کی جانب سے سرکاری عہدے پر دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے اس نوعیت کے دعوے کیے گئے ہیں تو محکمہ صحت کو پوسٹنگ فائل، سمری، سفارشات، منظوری کے مراحل اور متعلقہ افسران کے بیانات کی جانچ کرنی چاہیے۔

دستیاب شکایت میں غلام علی لاکھو کے خلاف ڈرگ انسپکشن، مبینہ مشکوک/جعلی دستاویزات اور قانونی کارروائی سے متعلق متعدد اعتراضات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

غلام علی لاکھو کے خلاف محکمہ میں جمع کرائی گئی شکایت کا عکس

اسی طرح طاہر غفار خانزادہ کے حوالے سے بھی ماضی کی کارروائیوں اور مبینہ عدمِ کارروائی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ مزید براں محکمہ صحت سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر کسی افسر کے خلاف متعدد تحریری شکایات اور دستاویزی مواد موجود ہے تو شوکاز، ریکارڈ کی تصدیق اور غیر جانب دارانہ انکوائری مکمل کیے بغیر دوبارہ تعیناتی کا معاملہ کیوں زیرِ غور ہے ؟شکایت کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ رشوت کے الزام، مبینہ گفتگو، پوسٹنگ فائل، سمری اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔

اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، جبکہ الزامات غلط ثابت ہونے کی صورت میں الزام عائد کرنے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔محکمہ صحت سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا غلام علی لاکھو کی دوبارہ تعیناتی سے قبل ان کے خلاف موجود تمام شکایات اور نئے سنگین الزامات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں گی؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں