پوری انسانی تاریخ خون میں کھڑی ایک تصویر میں
شیئر کریں
دنیا کے عجائب گھروں میں ہزاروں پینٹنگز آویزاں ہیں۔ کچھ اپنی خوبصورتی سے انسان کو حیران کرتی ہیں، کچھ اپنی پراسراریت سے، اور کچھ اپنے رنگوں سے۔ مو نالیزا کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ ہے جس نے صدیوں سے انسانی تخیل کو الجھا رکھا ہے، مگر فرانسسکو گویا کیThe Third of May 1808 ایسی تصویر ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر انسان مسکراتا نہیں، خاموش ہو جاتا ہے۔
یہ خاموشی دراصل خوف کی خاموشی ہے، ضمیر کی خاموشی ہے، اور اس تاریخ کی خاموشی ہے جس میں انسان نے انسان کو قتل کرنے کے لیے بے شمار جواز ایجاد کیے۔ گویا نے 1814 میں اس پینٹنگ کے ذریعے 1808 کے میڈرڈ میں فرانسیسی فوج کے ہاتھوں ہونے والی پھانسیوں کا منظر محفوظ کیا۔ سامنے چند نہتے انسان کھڑے ہیں، ان کے سامنے بندوقیں تانے سپاہی ہیں۔ ایک شخص سفید لباس میں اپنے بازو پھیلائے کھڑا ہے، جیسے موت کے سامنے بھی انسانیت کی آخری گواہی دے رہا ہو۔ دوسری طرف سپاہی پشت کیے کھڑے ہیں۔ ان کے چہرے نظر نہیں آتے۔ وہ انسان کم اور ایک مشینی قوت زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔یہی اس تصویر کا سب سے خوفناک فلسفہ ہے۔مظلوم کا چہرہ دکھائی دیتا ہے، مگر ظلم کا چہرہ غائب ہے۔انسانی تاریخ شاید اسی تضاد کی سب سے طویل داستان ہے۔
قدیم زمانے کے فاتح بادشاہوں سے لے کر جدید ریاستوں تک، صلیبی جنگوں سے لے کر عالمی جنگوں تک، غلامی سے نوآبادیاتی نظام تک، ہولوکاسٹ
سے ہیروشیما اور ناگاساکی تک، اور جدید دنیا کی خانہ جنگیوں تک، انسان نے اپنے ہی جیسے انسان کو قتل کیا اور ہر بار اپنے جرم کے لیے ایک نیا نام ایجاد کر لیا۔ کبھی اسے مذہب کہا گیا، کبھی قوم، کبھی نسل، کبھی بادشاہت، کبھی انقلاب، کبھی سلامتی اور کبھی قومی مفاد۔مگر لاش ہمیشہ انسان کی رہی۔ یہاں گویا ہمیں انسانی نفسیات کا ایک انتہائی تاریک راز سمجھاتے ہیں: ظلم کرنے سے پہلے ظالم کو اپنے شکار کی انسانیت ختم کرنا پڑتی ہے۔جب کسی انسان کو ‘‘دشمن’’ کہا جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ ایک انسان نہیں رہتا،وہ ایک تصور بن جاتا ہے۔ پھر اسے مارنا قتل نہیں، ‘‘فرض’’ محسوس ہونے لگتا ہے۔ نفسیاتی طور پر یہی وہ مقام ہے جہاں ضمیر اور حکم کے درمیان جنگ شروع ہوتی ہے، اور بہت سے معاشروں میں حکم جیت جاتا ہے۔اسی لیے گویا کے سپاہیوں کے چہرے نہیں ہیں۔ چہرہ ہوتا تو شاید انسانیت نظر آتی۔ اور جہاں انسانیت نظر آ جائے، وہاں قتل مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں۔ بھوک بھی ایک خاموش جنگ ہے۔
غربت بھی ایک خاموش گولی ہے۔ طبقاتی نظام بھی ایک ایسی بندوق ہو سکتا ہے جس سے گولی نہیں نکلتی مگر نسلیں زخمی ہوتی رہتی ہیں۔ایک طرف وہ انسان ہے جس کے پاس ضرورت سے زیادہ دولت ہے، دوسری طرف وہ بچہ ہے جس کے لیے ایک وقت کی روٹی بھی خواب ہے۔ ایک طرف محل ہیں، دوسری طرف وہ گھر ہیں جہاں چولہا کئی دن تک نہیں جلتا۔ ایک طرف خوراک ضائع ہوتی ہے، دوسری طرف انسان بھوک سے مر جاتا ہے۔یہ تضاد صرف معاشی نہیں، اخلاقی ہے۔ کیونکہ جب ایک معاشرہ کسی انسان کی بھوک کو معمول سمجھنے لگے تو اس معاشرے کی اخلاقی بھوک اس کی جسمانی بھوک سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بھوک کبھی صرف پیٹ کا مسئلہ نہیں رہی۔ فرانس کے انقلاب سے پہلے فرانس کے عوام کی معاشی پریشانیاں اور روٹی کی قیمتیں ایک
بڑے سماجی بحران کا حصہ بن چکی تھیں۔ روسی انقلاب سے پہلے جنگ، غربت اور خوراک کا بحران بھی معاشرتی بے چینی کو بڑھا رہے تھے۔ مختلف ادوار میں قحط، عدم مساوات اور معاشی استحصال نے ریاستوں کے اندر ایسے شگاف پیدا کیے جنہیں محض طاقت سے بند نہیں کیا جا سکا۔کیونکہ بھوکے انسان کو زیادہ دیر تک صرف تقریر سے خاموش نہیں رکھا جا سکتا۔انسانی تاریخ کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ طاقتور طبقہ اکثر غریب کے دکھ کو اعداد و شمار میں بدل دیتا ہے۔‘‘اتنے فیصد غربت’’۔‘‘اتنی فیصد بے روزگاری’’۔‘‘اتنے لاکھ متاثرین’’۔مگر گویا ہمیں اعداد نہیں دکھاتے۔وہ چہرے دکھاتے ہیں۔ایک خوف زدہ چہرہ۔ایک کانپتا ہوا ہاتھ۔ایک آخری نظر۔ایک لاش۔یہی فن کی طاقت ہے کہ وہ اس انسان کو دوبارہ انسان بنا دیتا ہے جسے طاقت، سیاست یا تاریخ نے صرف ‘‘اعداد’’ بنا دیا تھا۔
پاکستانی سماج کو بھی اگر اسی کینوس کے سامنے کھڑا کیا جائے تو ہمیں اپنی تاریخ اور اپنے حال کے کئی چہرے اس تصویر میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں بھی
غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، یہ اس بچے کی آنکھ ہے جو تعلیم سے محروم ہے، اس مزدور کا ہاتھ ہے جو سارا دن محنت کے باوجود گھر کا چولہا نہیں جلا پاتا، اس کسان کی بے بسی ہے جو اپنی زمین اور پانی کے باوجود معاشی تحفظ سے محروم رہتا ہے، اور اس عام انسان کی خاموشی ہے جو طاقتور کے سامنے اپنے حق کی آواز بلند کرنے سے ڈرتا ہے۔پاکستانی انسان کا المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اکثر ظلم کو دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے، اس پر گفتگو بھی کرتا ہے، مگر پھر اسے اپنی زندگی کی مجبوریوں کے نیچے دفن کر دیتا ہے۔ یہاں طاقت، دولت، سفارش اور تعلقات جب قانون اور میرٹ پر غالب آ جائیں تو سب سے زیادہ نقصان اس انسان کا ہوتا ہے جس کے پاس نہ سفارش ہے، نہ دولت، نہ اقتدار۔۔صرف اس کا حق ہے۔ اور جب معاشرہ حق مانگنے والے کو ہی مسئلہ سمجھنے لگے تو پھر ظلم صرف اوپر سے نہیں آتا؛ وہ معاشرے کے رویوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں گویا کی تصویر پاکستانی سماج کے لیے بھی ایک آئینہ بن جاتی ہے: کیا ہم مظلوم کے چہرے کو دیکھتے ہیں، یا صرف طاقتور کی بندوق دیکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں؟جدید ریاستیں ٹیکنالوجی میں بہت آگے نکل گئی ہیں، مگر انسانی نفسیات کا بنیادی سوال وہی ہے: طاقت انسان کی حفاظت کے لیے ہے یا انسان پر حکومت کرنے کے لیے؟جب ریاست قانون کی محافظ ہونے کے بجائے طاقتور کے مفاد کی محافظ بن جائے تو قانون اپنی اخلاقی روح کھو دیتا ہے۔ پھر عدالتیں، ادارے، پولیس، بیوروکریسی اور سیاسی نظام بظاہر موجود رہتے ہیں، مگر ان کے اندر سے انصاف کا چراغ بجھنے لگتا ہے۔ایسے معاشروں میں ظلم ہمیشہ بندوق لے کر نہیں آتا۔کبھی وہ فائل بن کر آتا ہے۔کبھی حکم نامہ بن کر۔کبھی خاموشی بن کر۔کبھی سنسرشپ بن کر۔کبھی غربت کے اعداد و شمار بن کر۔اور کبھی اس جملے کی شکل میں:‘‘ہم کیا کر سکتے ہیں؟’’یہ جملہ شاید ظلم کا سب سے آرام دہ سہارا ہے۔کیونکہ ظالم سے زیادہ خطرناک کبھی کبھی وہ معاشرہ ہوتا ہے جو ظلم دیکھ کر خاموش رہتا ہے۔ گویا کی پینٹنگ ہمیں اسی خاموشی کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔
تصویر میں ایک چراغ ہے۔ اس کی روشنی نہتے انسانوں پر پڑ رہی ہے۔ قاتل اندھیرے میں ہیں۔ یہ روشنی صرف جسموں کو روشن نہیں کرتی؛ یہ جیسے انسانی ضمیر کو روشن کرتی ہے۔ گویا ہمیں بتاتے ہیں کہ تاریخ میں روشنی ہمیشہ طاقت کے پاس نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی روشنی اس انسان کے پاس ہوتی ہے جس کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔سفید لباس میں کھڑا شخص اسی روشنی کی علامت بن جاتا ہے۔اس کے پاس بندوق نہیں۔اس کے پاس فوج نہیں۔اس کے پاس اقتدار نہیں۔اس کے پاس صرف انسانی وقار ہے۔اور شاید یہی وہ چیز ہے جس سے ہر ظالم سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتا ہے۔کیونکہ طاقت جسم کو قید کر سکتی ہے، زبان کو خاموش کر سکتی ہے، زمین چھین سکتی ہے، دولت چھین سکتی ہے، حتیٰ کہ زندگی بھی چھین سکتی ہے؛ مگر انسان کے اندر موجود سچ کو ہمیشہ قتل نہیں کر سکتی۔ اسی لیے تاریخ میں ہر ظلم کے ساتھ مزاحمت بھی پیدا ہوئی ہے۔غلاموں نے بغاوت کی، محکوم قوموں نے آزادی مانگی، مزدوروں نے حقوق طلب کیے، عورتوں نے برابری کا مطالبہ کیا، نسل پرستی کے خلاف تحریکیں اٹھیں، آمریتوں کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں۔
انسان کی تاریخ صرف ظلم کی تاریخ نہیں، ظلم کے خلاف انسانی شعور کے بیدار ہونے کی تاریخ بھی ہے۔لیکن سوال آج بھی وہی ہے:ہم نے کیا سیکھا؟ ہمارے پاس ایٹم بم ہے، مصنوعی ذہانت ہے، خلائی جہاز ہیں، سپر کمپیوٹر ہیں، مگر کیا ہمارے اندر دوسرے انسان کے دکھ کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی
بڑھی ہے؟اگر ایک بچہ بھوکا ہے اور ہم سکون سے سو سکتے ہیں، اگر ایک مزدور ساری زندگی محنت کرکے بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے اور ہم اسے صرف ‘‘غریب’’ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، اگر ظلم ہمارے سامنے ہو اور ہم خاموش رہیں، تو شاید ہماری تہذیب نے صرف ٹیکنالوجی حاصل کی ہے، انسانیت نہیں۔ گویا کی تصویر 1808 میں بننے والی تصویر نہیں رہی۔یہ آج بھی ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ہر جنگ میں۔ہر قحط میں۔ہر بھوکے بچے کی آنکھ میں۔ ہر بے گھر خاندان میں۔ ہر استحصال زدہ مزدور کے ہاتھ میں۔ ہر اس انسان میں جسے طاقتور نے اس لیے خاموش کر دیا کہ وہ کمزور تھا۔ اور شاید اس تصویر کا سب سے بڑا سوال بندوقوں سے نہیں، ہم سے ہے:جب ظلم ہو رہا تھا تو تم کہاں تھے؟ہم شاید جواب دیں گے کہ ہم سپاہی نہیں تھے۔ہم حکمران نہیں تھے۔ ہم قاتل نہیں تھے۔مگر انسانی تاریخ ہم سے ایک اور سوال کرے گی:کیا تم انسان تھے؟کیونکہ آخرکار تہذیب کا امتحان یہ نہیں کہ اس نے کتنی بلند عمارتیں بنائیں، کتنے میزائل بنائے، کتنی دولت جمع کی یا کتنی ترقی کی۔تہذیب کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور انسان کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے۔گویا نے ایک پھانسی کا منظر پینٹ کیا تھا، مگر اس کینوس پر پوری انسانی تاریخ کھڑی ہوگئی۔ قاتل اندھیرے میں ہیں۔مقتول روشنی میں۔اور شاید تاریخ آج بھی فیصلہ نہیں کر پائی کہ اصل میں کون زیادہ زندہ ہے۔وہ جو مار دیے گئے، یا وہ جو مارنے کے بعد بھی اپنے اندر کے انسان کو زندہ نہ رکھ سکے۔
٭٭٭


