سندھ بلڈنگ ،اللہ والا ٹاؤن میں رہائشی پلاٹوں پر تجارتی تعمیرات تیز
شیئر کریں
ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف پر عمارتی مافیا کی سرپرستی کے الزامات،علاقائی انفرااسٹرکچر متاثر
سیکٹر 31Bمیں دو پلاٹوں( 1363اور 1490) کو ملا کر ایمرجنسی ایگزٹ کے بغیر عمارت کی تعمیر
ضلع کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹاؤن میں رہائشی زون میں واقع پلاٹوں پر قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی یونٹس اور دکانوں کی تعمیر نے عوام میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے ۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات نہ صرف بلدیاتی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ ان میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ معاونت بھی شامل ہے ، جس کی وجہ سے شہریوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، سیکٹر 31B میں واقع پلاٹ نمبر 1363 اور 1490 کو ملا کر ایک مشترکہ عمارت تعمیر کی جا رہی ہے ، جس میں تجارتی حصے (کمرشل پورشن) بنائے جا رہے ہیں اور اس عمارت میں ہنگامی صورتِ حال میں راہ فرار کے انتظامات نہیں کیے گئے ۔ علاقے کے مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ "ان غیرقانونی تعمیرات کے باعث گلیوں اور راستوں کی چوڑائی کم ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے آتش زدگی یا زلزلے جیسی قدرتی آفت کے دوران یہ عمارت شہریوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے ۔”اس پوری صورتحال میں ایس بی سی اے کورنگی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور انسپکٹر کاشف علی کا کردار بھی شدید تنقید کی زد میں ہے ۔ رہائشیوں کا الزام ہے کہ ان افسران نے سرکاری ہدایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند کر لیں بلکہ انھیں فروغ دینے میں بھی ملوث پایا گیا ہے ۔ ایک مقامی شہری کا کہنا تھا کہ "یہ کوئی انفرادی کوتاہی نہیں بلکہ ایک مربوط سازش ہے ، کیونکہ ہماری بار بار کی درخواستوں کے باوجود محکمے نے غیرقانونی عمارت کی تعمیر کو جاری رہنے دیا۔”محکمے کے ذرائع کے مطابق، ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے دورِ اقتدار میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ۔ کورنگی سٹیزنز فورم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی ازسرِنو غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہیے تاکہ اس میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے ۔ سماجی تنظیموں کے ارکان نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ افسوسناک عمل ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے خود بے ضابطگیوں کے محافظ بن گئے ہیں۔ سمیع جلبانی اور کاشف علی کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔ اگر یہ افسران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہیں تو انہیں فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔”مقامی شہریوں کا مؤقف ہے کہ ان مبینہ طور پر ملوث افسران اور تعمیراتی مافیا کے خلاف بروقت سخت قانونی کارروائی کی جائے اور علاقے میں موجود تمام غیرقانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔


