ایران پر اچانک حملہ،امریکہ کے گلے پڑ سکتا ہے!
شیئر کریں
امریکہ اور اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد تہران کئی دھماکوں سے گونج اٹھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اسرائیلی میزائل یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا پر گرے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، افراتفری کی صورتِ حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران کی یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں زور دار دھماکے سنے گئے اور شہر کے متعدد مقامات سے دھواں
اٹھتا دکھائی دیا۔
حملے ان مقامات کے قریب ہوئے جہاں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا دفتر واقع ہے، البتہ ابھی تک کسی بڑے نقصان یا جانی نقصانات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ایرانی ریاستی میڈیا نے دھماکوں کی اطلاع کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے، تہران کے مضافات اور کئی مقامات سے دھویں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں، اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اِن حملوں کو ایک ‘پیشگی حفاظتی کارروائی’ قرار دیا ہے جس کا مقصد ایران سے ممکنہ خطرات کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر دیا ہے، ہم ایران کی بحریہ کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد ایرانی حکومت کی طرف سے آنے والے خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ دیر پہلے امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران نے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بنا رہا ہے جو امریکہ اور دوسروں کے لیے خطرہ ہے، ہم ایران کے میزائل اور میزائل انڈسٹری تباہ کر دیں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ، امریکہ نے خطے میں امریکی اہلکاروں کے لیے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا ہے، امریکہ کا جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب گارڈز ہتھیار ڈال دیں، آپ سے مکمل استثنیٰ کے ساتھ اچھا سلوک ہو گا، یا آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی مذمت کرتا ہے، یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب مسئلے کے پرامن اور مذاکراتی حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی کارروائیاں پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ان کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان نے ایران کی جانب سے برادر ممالک سعودی عرب، بحرین، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کی بھی سخت مذمت کی ہے، پاکستان نے ان تمام برادر ممالک کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کیا جائے۔ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات میں حملے کے دوران ایک پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی۔انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مزید ایسی کارروائیوں سے گریز کریں جو خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی اورعلاقائی خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتی ہیں لہٰذا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سفارت کاری کی جانب واپس آئیں اور بحران کے پرامن اور مذاکراتی حل کو ترجیح دیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے اچانک حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر جوابی حملہ کیا۔ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے پیشِ نظر شمالی اسرائیلی میں سائرن بج اٹھے۔ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر تقریباً 75 میزائل برسائے۔ایرانی پاسداران انقلابی گارڈز نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف میزائل ڈرون حملوں کی پہلی لہر لانچ کر دی۔ایران کی طرف سے میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے ہیں یران نے خلیجی ممالک میں موجود 14 امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں سیکڑوں اہلکاروں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران جن 14 امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنایا وہ متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر اور سعودی عرب میں واقع ہیں۔۔ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔ایرانی حملے پر اسرائیلی حکام نے شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کر دی ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی نظام آپریٹ کر رہے ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ خطے میں تمام اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپریشن دشمن کو فیصلہ کن شکست دینے تک جاری رہے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ امریکہ کے 14 بیسز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی اڈوں پر ایرانی فورسز کے حملے مزید شدت کے ساتھ ہوں گے۔ ایران کی افواج کا طاقتور آپریشن بھرپور قوت سے جاری رہے گا۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف ٹرمپ کے ریزورٹ مارا لاگو سے ایران پر حملوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔۔صدر ٹرمپ بھی فی الحال مارے لاگو میں موجود ہیں۔ایرانی فوجی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوج کے سربراہ میجرجنرل عامرحاتمی محفوظ ہیں اور مسلح افواج کی فعال کمانڈ کر رہے ہیں۔ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی علاقے، تنصیبات ہمارے جائز اہداف ہیں۔ امریکہ کے فضائی، زمینی اور بحری اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایران کی پاسداران انقلاب نے مرکزی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنے بیان میں پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس وقت کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں۔ آبنائے ہرمز کو بند کردیا گیاہے۔ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں کے پیشِ نظر سابق روسی صدر اور کونسل آف رشیئن فیڈریشن کے موجودہ ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویدیف نے کہاہے کہ امن کے علمبردار ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی حقیقت دکھا دی۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے تمام مذاکرات محض ایک پردہ تھے۔ کسی کو شک نہیں تھا کہ اصل میں سنجیدہ مذاکرات کی نیت نہیں تھی۔پاکستان نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایران پر حملے کیلئے امریکہ اور اسرائیل کی بے صبری گزشتہ روز امریکہ کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں سے واضح ہو چکی ہے۔ اس حملے سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ ایران کے خلاف تمام تر دباؤ اور جنگی حالات پیدا کرنے کا بنیادیمقصد جوہری ہتھیار نہیں بلکہ ‘رجیم چینج’ ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی اور دوغلا پن اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس حملے سے چند گھنٹے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں مصروف ملک عمان کے اعلی سفارت کار اور وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے اعلان کیا تھاکہ ایران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کبھی نہیں رکھے گا۔ انہیں یقین تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے تمام مسائل چند مہینوں میں خوش اسلوبی اور جامع طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت تھی۔ لیکن اس کے باوجود اس حملے سے ظاہرہوتاہے کہ امریکہ اور اسرائیل بظاہر اپنا ذہن حملے کے لیے بنا چکے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان جنگ کے ویڈیو میں بھی حملے کی دو بڑی وجوہات بیان کی ہیں۔ ایک 47 سال سے ایران کا ‘مرگ بہ امریکہ’ نعرہ اور دوسرا بظاہر ‘ایرانی عوام’ کی جانب سے امریکہ کو مداخلت اور مدد کی مبینہ اپیل ۔ٹرمپ نے ایران پر حملہ کرکے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں الجھا دیاہے جس کا دورانیہ اسرائیلی حکومت کے مطابق تو 4 روز ہو سکتا ہے لیکن ایران کی حکومت اور عوام کے لیے یہ ایک طویل مدتی عدم استحکام کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف حملہ امریکی فوج کے لیے ایک مشکل اور پیچیدہ آپریشن ہو گا۔ صرف اس لیے ایران کو تر نوالہ سمجھنا کہ اس کی حکومت سیاسی طور پر اندرونی دباؤ میں ہے ٹرمپ کا ذہنی فتور ہے ،کیونکہ اندرونی دباؤ کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ فوجی طور پر کمزور ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے حالیہ احتجاج کو دبانے کی سخت حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ ملک کا سیکورٹی کا نظام خصوصا اسلامی انقلابی گارڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لیے صدر ٹرمپ نے پاسداران انقلاب کو خصوصی طور پر مزاحمت نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔ آثاروشوہد کے مطابق امریکہ کے پاس خطے میں اتنے فوجی وسائل تو ہیں کہ وہ چند دن ایک محدود مشن چلا سکے لیکن طویل مدت کے لیے اسے جاری رکھنا اس کے لیے بھی مشکل ہوگا۔ پینٹاگون نے خطے میں مزید فوجی طاقت کی ضرورت کے بارے میں اسی لیے پوچھے جانے والے سوالات وائٹ ہاؤس سے پوچھنے کی بات کی تھی۔ ایران میں رجم چینج کے بارے میں ٹرمپ کی بے چینی کا اندازہ اس سے ہوتاہے کہ امریکی صدر نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاسداران انقلاب کو نہ صرف ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دیا اور ایرانی عوام سے کہا کہ وہ خود ملک کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ کسی مقبول متبادل ایرانی قیادت کی غیر موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہو گا کچھ واضح نہیں۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی موجودہ قیادت سے بس جان چھڑانا چاہتے ہیں باقی شام کی طرح بیشک داعش یا القاعدہ کا کوئی رہنما ہی سامنے آئے ان کی بلا سے۔رجیم چینج کا ایک اور تجربہ امریکہ نے عراق میں بھی کیا تھا، لیکن فرق یہ ہے کہ وہاں صدام حسین جیسے ڈکٹیٹر کی حکومت تھی جس کی جڑیں عوام میں نہیں تھیں، ایران کا معاملہ بظاہر اس سے مختلف ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران کی موجودہ حکومت کی حمایت میں بھی بہت سے لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں، اس لیے وہاں کی رجیم چینج اتنی آسانی سے نہیں ہو سکے گی۔ بعض رپورٹس کے مطابقڈونلڈ ٹرمپ کے سیکورٹی سے متعلق مشیروں نے انھیں بریفنگ دی تھی کہ ایران پر فیصلہ کن حملے کے لیے
‘‘مکمل طاقت’’ مارچ 2026 کے وسط تک دستیاب ہوگی۔ اس وقت تک محدود نوعیت کے حملے ممکن ہیں، ایران پر تابڑ توڑ حملوں کی اس امریکی حکمت عملی سے واضح ہے کہ امریکہ اس خطے میں امن یا پائیدار استحکام کا فی الحال متمنی نہیں ہے۔ کچھ آپس میں لڑا کر اور کچھ سے خود لڑ کر انہیں ترقی اور استحکام سے دور ہی رکھنا اس کی سوچ کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ماضی کے استعماری نظام کی شاید یہ نئی شکل و صورت ہے؟جس کے جواب میں اطلاعات کے مطابق ایران مکمل قوت سے ردعمل دے رہاہے۔یہ بات واضح ہے کہ ایران پر امریکہکے حملوں سے ایران کو خاصا نقصان پہنچا ہے، کیونکہ ایران کے پاس مضبوط فضائی دفاعی نظام اور مؤثر فضائیہ کی کمی ہے۔ تاہم ایران کے پاس سمندری سطح پر اسٹریٹجک صلاحیت موجود ہے، جہاں وہ نہ صرف بحری جہاز رانی اور بحری افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ آبنائے ہرمز کو بہت تیزی سے بند بھی کر سکتا ہے۔اس کے عالمی معیشت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل یعنی روزانہ تقریباً 22 ملین بیرل اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس کے بعد کے حالات مزید ہنگامہ خیز ہو سکتے ہیں، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود اس اہم تجارتی راستے کو دوبارہ کھولنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ایران نے اگر آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اس میں جہاز رانی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے اقدام کئے تو ایران کی اس کارروائی سے سب سے زیادہ متاثر مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک ہوں گے جن کی معیشتیں اس گزرگاہ پر انحصار کرتی ہیں، جبکہ امریکی معیشت کے لیے اہم پیٹرو ڈالر فروخت میں بھی بالآخر کمی واقع ہوگی۔ یقیناً امریکہ اپنی بالادستی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے حملے جاری رکھ سکتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ امریکہ یہ نہیں چاہے گا کہ ایران کو اس حد تک تباہ کر دیا جائے کہ وہ اسرائیل سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرے کا باعث ہی نہ رہے۔ کیونکہ امریکہ خطے میں اپنا سیاسی، معاشی اور عسکری اثر و رسوخ ایران سے تحفظ فراہم کرنے کے جواز پر ہی برقرار رکھتا ہے۔جون 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بھی اُس وقت اسرائیل نے شروع کی تھی جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے، اور آخرکار امریکہ نے مداخلت کر کے اسرائیل کو بچایا۔ یہی وہ نوعیت کا اثر و رسوخ ہے جسے امریکہ خطے میں برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ایران اتنی طاقت رکھتا ہو کہ پورے خطے کے لیے اجتماعی خطرے کا تاثر برقرار رہے۔
٭٭٭


