سیسی میں بے نظیر مزدور کارڈ کے 2 ارب ہڑپ ( محنت کش محروم)
شیئر کریں
جونیئر افسران کی اعلیٰ عہدوں پر ترقیاں ، 19 اور 20 گریڈ کے عہدوں کی بندر بانٹ
6 لاکھ میں سے ایک لاکھ 50 ہزارکو کارڈ کا اجرائ، انتظامیہ وصولی کا ہدف حاصل نہ کرسکی
محکمہ لیبر کے ماتحت ادارے سیسی میں 2 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود 6 لاکھ میں سے ایک لاکھ محنت کشوں کو بینظیر مزدور کارڈ جاری ہو سکے، جونیئر افسران اضافی چارجز پر گریڈ 19، 20 کے عہدوں پر براجمان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق محکمہ محنت کے ذیلی ادارے سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن سیسی میں مبینہ بدانتظامی و بدعنوانی اپنے عروج پر ہے، رواں مالی سال 2024/25 میں وصولی کاہدف 22 ارب روپے رکھا گیا لیکن سیسی کی انتظامیہ ہدف کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور 10 ارب سے زائد کے تاریخی خسارے کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ سیسی میں محنت کشوں کی رجسٹریشن کا ٹارگٹ 8 لاکھ 50 ہزار رکھا گیا، محنت کشوں کی رجسٹریشن کا ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا۔ اس وقت تک با مشکل 6 لاکھ محنت کش ہی سیسی میں رجسٹرڈ ہیں، چار سال قبل نادرا سے کئے گئے ایک معاہدہ کے مطابق دو سال میں تمام رجسٹرڈ مزدوروں کو ڈجیٹل بینظیر مزدور کارڈ جاری کرنے تھے، اس منصوبے پر اب تک تقریبا 2 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں، اور چھ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ پچاس ہزار محنت کشوں کو ہی بینظیر مزدور کارڈ کا اجرا ہوسکا۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاھ اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی صوبائی وزیر محنت کے ساتھ اجلاس کر چکے ہیں اور پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے انھیں اس ہدف کو یکم مئی 2025 تک حاصل کرنے کی آخری تاریخ دی گئی تھی جس کو گزرے دو ماہ ہوچکے ہیں لیکن محنت کشوں کو بینظیر مزدور کارڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ جبکہ جونیئر افسران کو اضافی عہدوں اور گریڈ 18، 19 کی پوسٹوں پر تعینات کیا گیا ہے، سکھر ڈائریکٹوریٹ میں ایک 17 گریڈ کے سوشل سیکورٹی آفیسر کو گذشتہ ایک سال سے ڈائریکٹر کا چارج دیا ہوا ہے جبکہ کہ اس وقت وہ باقاعدہ ڈپٹی ڈائریکٹر بھی نہیں ہیں، فیلڈ ڈائریکٹوریٹ میں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کی پوسٹ ہے وہاں بیک وقت تین اور کہیں تو بیک وقت چار ڈپٹی ڈائریکٹرز تعینات ہیں جیسے کے سائیٹ ایسٹ ڈائریکٹوریٹ میں شاہد علی میمن، آصف داد، آصف قائم خانی اور اسد حیدر تعینات ہیں اسی طرح سیسی کے دیگر دفاتر و اسپتالوں کی صورتحال ہے۔


