معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل
شیئر کریں
31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش
پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع
( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔ حیدرآباد میں جھوٹے کیس کے معاملے میں سخت کارروائی کے امکانات تفصیلات کے مطابق سندھ پولیس میں اعلیٰ سطح کی تبدیلیاں جاری ہیں، جہاں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی سید پیر محمد شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ان کی جگہ ڈی آئی جی مظہر نواز شیخ کو تعینات کیا گیا ہے، جو اب کراچی کے ٹریفک مینجمنٹ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ پیر محمد شاہ کو سروسز، جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے 16 جنوری 2026 کو پیر محمد شاہ کو ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس میں حیدرآباد میں ایک طاقتور بلڈر پر جھوٹا کیس درج کرانے کے الزام میں وضاحت طلب کی گئی تھی۔ یہ کیس مبینہ طور پر ایک بااثر شخصیت کی ہدایت پر درج کیا گیا تھا، اور اس میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدنیتی کے عناصر شامل تھے۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ مطمئن جواب نہ دینے کی صورت میں محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر محمد شاہ اس نوٹس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جس کے بعد 30 جنوری 2026 کو چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کر کے انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔اس معاملے کی مزید تفصیلات کے مطابق، حیدرآباد پولیس نے ایک بااثر شخصیت کی شکایت پر طاقتور بلڈر کو کراچی کے پوش علاقے سے اٹھا کر گمشدہ کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، بلڈر کو نور ی آباد میں کچھ دیر کے لیے رکھا گیا، اور پھر اسے واپس اس کے گھر کے دروازے پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ واقعہ مبینہ طور پر جھوٹے کیس کی بنیاد پر ہوا، جس میں ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کی مداخلت کا الزام ہے۔ اس کیس کی ایف آئی آر نمبر 506؍2025 ہے، جو اختیارات کے غلط استعمال پر مبنی ہے۔سندھ پولیس کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف پیر محمد شاہ تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اگلے چند دنوں میں مزید سخت فیصلے متوقع ہیں۔ ان میں ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس ایس پی حیدرآباد، اور ایس ایچ او نور ی آباد کو بھی عہدوں سے ہٹانے کے قوی امکانات ہیں۔ یہ کارروائی پولیس افسران کی جواب دہی کو یقینی بنانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط کرنے کی طرف ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، متاثرہ افسران کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔


