میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جی ڈی اے کو بڑا دھچکا ، راشدی خاندان پیرپگاڑا کو چھوڑ گیا

جی ڈی اے کو بڑا دھچکا ، راشدی خاندان پیرپگاڑا کو چھوڑ گیا

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۴ ستمبر ۲۰۲۱

شیئر کریں

(رپورٹ: شعیب مختار) جی ڈی اے کو بڑا دھچکا راشدی خاندان پیرپگارا کا ساتھ چھوڑ گیا ،سابق رکن سندھ اسمبلی مہتاب اکبر راشدی انکے خاوند اورحاجی محمد مصطفی راشدی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے آئندہ چند روز میں جی ڈی اے کے مزید رہنماؤں کی بغاوت کا امکان۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور کی سربراہی میں ایک وفد جس میں سعید غنی،امتیاز شیخ،قائم علی شاہ،اعجاز جکھرانی، خورشید جونیجو، ندا کھوڑو، نظیر احمد بگھیو،ضیاالحسن لنجار، طارق انور سیال، شیراز راجپر و دیگر شامل تھے، مہتاب اکبر راشدی کی رہائشگاہ پر پہنچا تھا ،وفد کی جانب سے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ مہتاب اکبر راشدی کے خاوند اکبر راشدی پیر پگارا کے رشتہ دار بھی بتائے جاتے ہیں نے بھی جی ڈی اے کا ساتھ چھوڑنے کو ضروری قرار دے دیا ہے، آ ئندہ آنے والے دنوں میں انہیں سندھ میں بڑی ذمہ داری دیے جانے کا اندیشہ ہے۔واضح رہے کہ مہتاب اکبر راشدی 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ فنکشنل کے ٹکٹ پر رکنِ سندھ اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔ انہوں نے اداکارہ کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کیا اور متعدد ڈراموں میں کام کیا۔ اس کے بعد وہ بیوروکریسی کی طرف چلی گئیں۔ وہ سندھ یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف سندھولوجی کی ڈائریکٹر، یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے ریجنل آفس کی ڈائریکٹر اورسندھ گورنمنٹ میں ڈائریکٹر لیاقت لائبریری، سیکریٹری کلچر اینڈ ٹوارزم اور سیکریٹری یوتھ افیئر ز اینڈا سپورٹس کے مناصب پر فائز رہیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے متعدد پروگراموں کی میزبانی بھی کی ہے۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں